اثاثہ جات ریفرنس :اسحاق ڈار بڑی مشکل میں پھنس گئے۔۔۔جانئے

اسلام آباد(نیوزڈیسک) اسلام آباد کی احتساب عدالت میں آمدن سے زائد اثاثوں کے سلسلے میں قائم کیے گئے نیب ریفرنس میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف سماعت کے دوران استغاثہ کے مزید 3 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران استغاثہ کے گواہ اسسٹنٹ کمشنر تحصیل شالیمار لاہور علی اکبر بھنڈر نے اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔ گواہ نے عدالت کو بتایا کہ وہ نیب کے نوٹس پر اگست 2017 میں نیب آفس لاہور میں پیش ہوئے۔ گواہ کے مطابق نیب کے نوٹس میں اسحاق ڈار اور ان کی فیملی کا ریکارڈ طلب کیا گیا تھا جس پر انہوں نے نیب کو اسحاق ڈار کی اہلیہ تبسم اسحاق ڈار کی جائیداد کا ریکارڈ پیش کیا۔گواہ کے مطابق انہوں نے اسحاق ڈار اور ان کی فیملی کی موضع بھٹیاں تحصیل رائیونڈ میں 2 کنال 19 مرلے کی جائیداد کی تفصیلات نیب کو دیں۔ آج کی سماعت میں اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس میں استغاثہ کے تین گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے جبکہ استغاثہ کے چوتھے گواہ قابوس عزیز کا مکمل بیان قلمبند نہ ہو سکا۔قابوس عزیز نے اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ میں نے جس دن ریکارڈ ترتیب دیا اس کے اگلے ہی دن ملازمت سے برطرف کر دیا گیا لہذا ریکارڈ کے لیے ڈائریکٹر آپریشنز نادرا کو طلب کیا جائے۔ سماعت کے بعد احتساب عدالت نے اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت 26 جنوری تک ملتوی کر دی۔یاد رہے کہ اسحاق ڈار کے خلاف استغاثہ کے 28 گواہان میں سے اب تک 10 کے بیانات ریکارڈ کیے جاچکے ہیں۔
دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments

مزید پڑھیں  ریحام خان کی کتاب دراصل کیا بلا ہے ، جسکی چنگھاڑ پوری دنیا میں سنائی دے رہی ہے ؟ بین الاقوا می نشریاتی ادارے کی رپورٹ ملاحظہ کیجیے