اس شخص کو بلایا جائے ،ورنہ اس کا نام ای سی میں ڈالا جائے ، سپریم کورٹ نے اہم شخصیت بارے بڑا اعلان کر دیا

لاہور(نیوز ڈیسک ) چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم نیڈاکٹر عاصم کو بلایا تھا لیکن سننے میں آیا ہے کہ وہ باہر جا رہے ہیں، ڈاکٹر عاصم کے وکیل کو فوری بلائیں ورنہ ان کا نام ای سی ایل میں ڈال دیں گے۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں نجی میڈیکل کالجزکی اضافی فیسوں کیخلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت میں چیف جسٹس پاکستان نے ڈاکٹر عاصم کی عدم پیشی پر اظہار برہمی کیا۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں نجی میڈیکل کالجوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ ڈاکٹر عاصم کے وکیل سردار لطیف خان کھوسہ عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے قرار دیا کہ پرائیویٹ میڈیکل کالجز کے حوالے سے قانون سازی کے لیے ڈاکٹر عاصم کی ضرورت ہو گی، ڈاکٹرعاصم کو بتا دیں کہ بلانے پر وہ عدالت میں پیش ہوں۔ چیف جسٹس نے مزید قرار دیا کہ آئندہ چار ہفتوں میں نجی میڈیکل کالجز کے حوالے سے اقدامات اور پالیسی کے خدوخال واضح ہونا شروع ہو جائیں گے، خواہش ہے کہ اس حوالے سے قانون سازی سے قبل عوامی بحث کروائی جائے اور رائے لی جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایک سینئر ڈاکٹر نے انہیں بتایا ہے کہ نہیں معلوم 10 سال بعد علاج کرنے کے لیے کوئی ڈاکٹر موجود ہو گا بھی یا نہیں، ہمارے ملک میں ڈاکٹرز کی یہ صورتحال ہو گئی ہے کہ سینئر ڈاکٹر بھی پریشان ہیں۔ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پانی کی آلودگی پر از خود نوٹس کیس کی سماعت بھی ہوئی ، چیف سیکرٹری پنجاب نے 139 ٹیوب ویلوں کے پانی کے نمونوں سے متعلق رپورٹ جمع کرا دی۔چیف سیکرٹری پنجاب کی جانب سے آگاہ کیا گیا کہ 5 ٹیوب ویلوں کے نمونے درست نہیں آئے، دوبارہ ٹیسٹ کرا رہے ہیں، ٹیوب ویلوں کے پانی میں آرسینک کی مقدار مضر صحت نہیں ہے۔ ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی نے بھی 24 کمپنیوں سے متعلق رپورٹ جمع کرائی، جس میں بتایا گیا کہ مضر صحت ہونے پر 24 پانی کمپنیاں سربمہر کر دی گئی ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے حکم دیا کہ جب تک عدالت اجازت نہ دے یہ 24 کمپنیاں کھلنی نہیں چاہیئیں۔ یف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کا لاہور میں ماحولیاتی آلودگی بڑھنے پر از خود نوٹس، عدالت نے شہر کے 6 مقامات پر آلودگی جانچ کر (آج) تک رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ تین مقامات لاہور کے اطراف اور تین مقامات لاہور کے اندر سے منتخب کر کے آلودگی جانچی جائے۔ ماحولیاتی آلودگی کی حد کا صحیح اندازہ لگا کر رپورٹ پیش کی جائے، کاغذی کارروائی پوری نہیں کرنے دی جائے گی۔ جھوٹے اعدادوشمار پیش کیے تو سخت کارروائی ہو گی۔ چیف جسٹس نے قرار دیا کہ محکمہ ماحولیات حکومت کا خدمتگار بنا ہوا ہے، کل صبح تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔
دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments

مزید پڑھیں  نوازشریف نےغداری کےالزام پرقومی کمیشن بنانےکامطالبہ کیا تھا،وقت کا تقاضا ہےکہ سچائی قوم کے سامنے آنی چاہیے۔