امریکا پاکستان مل کر دہشت گردی کو ختم کریں گے لیکن شرائط کچھ ایسی کہ پاکستان نے ماننے سے انکار کر دیا

واشنگٹن(نیوزڈیسک) امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا ہے کہ امریکا دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے پاکستان کے ساتھ شراکت کے لئے تیار ہے۔معروف امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک ان دہشت گرد گروہوں کو شکست دینے کے لئے پاکستان کے ساتھ شراکت پر تیار ہے جو اس وقت محفوظ ٹھکانوں کی تلاش میں ہیں۔’’مجھے امریکی سفارتکاری پر فخر ہے ‘‘ کے عنوان سے لکھے گئے مضمون میں ریکس ٹلرسن نے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک امریکی سفارتکاری کا جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا ہے کہ موجودہ صدر کی انتظامیہ سفارتی محاز پر مختلف امور کو کس انداز میں ڈیل کر رہی ہے۔انہوں نے دہشت گردی کی شکست کو موجودہ صدر کی اولین ترجیحات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالہ سے جارحانہ حکمت عملی نے میدان جنگ میں موجود امریکی فوجی کمانڈرز کو زیادہ اختیارات دے کر اپنے مقامی حریفوں کے ساتھ ملک کر اپنی کوششیں تیز کرنے کے قابل بنایا ہے۔ اس کے نتیجہ میں داعش کو شکست دینے کے لئے عالمی اتحاد کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے اور شام اور عراق میں بہت سے علاقے داعش کے کنٹرول سے آزاد کرا لئے گئے ہیں۔امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم محفوظ ٹھکانوں کی تلاش میں مصروف دہشت گرد تنظیموں کو شکست دینے کے لئے پاکستان کے ساتھ شراکت کے لئے تیار ہیں لیکن اس کے لئے پاکستان کو بھی ہمارے سے شراکت کی خواہش کا اظہار کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدے میں خامیاں ہیں اور اب یہ ایران بارے امریکی پالیسی کا مرکزی نکتہ نہیں رہا۔اب ہم ایران سے درپیش خطرات کو اکٹھا کر کے دیکھ رہے ہیں اور ہماری حکمت عملی مشرق وسطیٰ میں اپنے شراکت داروں سے ملک کر اتحاد بنانے پر منحصر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ برس امریکا نے عراق اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقاع کی بحالی میں مدد کی اور ہم کانگرس اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر مذکورہ جوہری معاہدے میں موجود خامیوں پر قابو پانے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔ہماری ان کوششوں کا مقصد بیلسٹک میزائلوں بارے وعدوں کی خلاف ورزی اور خطہ کو عدم استحکام سے دوچار کرنے پر ایران کو سزا دینا ہے۔انہوں نے روس کے ساتھ تعلقات کو خراب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں روس کے بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ۔روس نے اپنے ہمسایہ ممالک یوکرین اور جارجیا کے خلاف جارحیت کی اور ہمارے اور دیگر ممالک کے انتخابات میں مداخلت کر کے مغربی اقوام کی خود مختاری کو خطرات سے دوچار کیا۔ہمیں روسی جارحیت کے خطرات سے چوکنا رہتے ہوئے مشترکہ باہمی مفادات کے لئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ شام میں ہم اس کا تجربہ کر چکے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ روس نے جنیوا سیاسی عمل سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا ہے اور ہمیں امید ہے روس اپنے اس عزم پر قائم رہے گا تا کہ شام کو بشار الاسد اور اس کے خاندان سے نجات دلائی جا سکے۔
دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments

مزید پڑھیں  انٹرپول نے ذاکر نائیک کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی بھارتی درخواست مسترد کردی