“با ادب با نصیب ” پڑھیےروح تازہ کر دینے والا اتا ریخی واقعہ

لاہور (ویب ڈیسک ) آپ نے یہ محاورہ تو سنا ہو گا ’’با ادب بانصیب بے ادب بے نصیب‘‘۔ اس کی اہمیت کا اندازہ حضرت بشر حافیؒ کی زندگی سے ہوتا ہے۔ آپؒ کا شمار قرونِ اولیٰ کے عظیم المرتبت اولیاء اللہ میں ہوتا ہے، تذکرۃ اولیاء میں درج ہے کہ حضرت امام احمد بن حنبلؒ بھی

اکثر اوقات حضرت بشر حافیؒ کی معیت میں بیٹھا کرتے تھے۔ ایک دفعہ آپؒ کے شاگردوں نے عرض کی کہ آپ اتنے بڑے فقیہہ اور محدث ہیں۔ آپؒ ایک خبطی کی صحبت میں کیوں بیٹھتے ہیں تو آپؒ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے اپنے علوم پر تو دسترس حاصل ہے لیکن وہ خبطی اللہ تعالیٰ کو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ ایک دفعہ آپؒ سے ایک عورت نے مسئلہ پوچھا کہ میں اپنی چھت پر سوت کات رہی تھی کہ راستے سے شاہی روشنی کا گزر ہوا اور اس روشنی میں میں نے تھوڑا سا سوت کات لیا، اب فرمائیے کہ وہ سوت جائز ہے یا نہیں۔ یہ سن کر امامؒ نے فرمایا کہ آپؒ کون ہیں اور اس قسم کا مسئلہ کیوں پوچھ رہی ہیں تو انھوں نے بتایا کہ میں بشر حافیؒ کی ہمشیرہ ہوں تو یہ سن کر امام احمدبن حنبلؒ نے فرمایا کہ آپ کیلئے وہ سوت جائز نہیں ہے اس لیے کہ آپ اہل تقویٰ کے خاندان میں سے ہیں اور آپ کو اپنے بھائی یعنی حضرت بشر حافیؒ ہی کے نقش قدم پر ہی چلنا چاہیے جن کا تقویٰ یہ ہے کہ وہ اگر مشتبہ چیزوں پر کھانے کیلئے ہاتھ بڑھا بھی دیں تو ان

مزید پڑھیں  قدیم شاپنگ اسٹور کی مرمت کے دوران ا یسی کیا چیز نکل آ ئی کہ جس کو د یکھ کر ہر کو ئی حیر ا ن رہ گیا

کا ہاتھ بھی ان کی بات نہیں مانتا۔ آپؒ کا کمال یا کرامت یہ ہے کہ ایک دفعہ حضرت احمد بن ابراہیم المطلبؒ نے دیکھا کہ حضرت بشر حافی ؒدریا ئے دجلہ کے کنارے موجود ہیں آپؒ کا مصلا آپؒ کے ہاتھ میں ہے اور آپؒ نے اچانک دریائے دجلہ پر چلنا شروع کر دیا اور دریا پار کر کے کسی شخصیت سے مصروف گفتگو رہے۔ پھر دریا دجلہ پر چلتے ہوئے واپس آگئے۔ اس وقت حضرت احمد بن ابراہیم المطلبؒ نے آپؒ کے مراتب دیکھتے ہوئے آپؒ سے دعا کی درخواست کی تو فرمانے لگے کہ جو کچھ تم نے دیکھا ہے اس کو میری حیات میں کسی سے بیان نہ کرنا۔ آپؒ کے تائب ہونے کا واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ ابتدا میں آپؒ دین سے دور تھے اور آپؒ کے شغل کچھ اچھے نہیں تھے۔ ایک دفعہ آپؒ اسی دیوانگی اور لاپروائی کے عالم میں کہیں جارہے تھے کہ راستے میں ایک کاغذ کا ٹکڑا پڑا ملا جس پر بسم اللہ تحریر تھی۔ آپؒ نے اس کاغذ کو عطر سے معطر کیا اور کسی بلند مقام پر رکھ دیا۔ پھر اسی رات آپؒ نے ایک خواب دیکھا کہ کسی درویش کو منجانب اللہ یہ حکم ملا کہ بشر حافیؒ کو

مزید پڑھیں  سیکنڈ ہینڈ گاڑی کو چیک کرنے کا طریقہ

خوش خبری سنا دو کہ ہمارے نام کی تم نے جو تعظیم کی ہے اس کی وجہ سے ہم تمھیں بہت بلند مقام دیں گے۔ یہ خواب ان درویش کو بھی نظر آیا اور وہ درویش یہ سمجھے کہ بشر حافیؒ تو فسق و فجور میں مبتلا ہیں، اس لئے شاید میرا یہ خواب درست نہیں ہے لیکن جب یہ خواب مسلسل تین روز تک آیا تو درویش آپؒ کے گھر پہنچے تو معلوم ہوا کہ آپؒ تو میکدئے گئے ہوئے ہیں۔ درویش وہیں پہنچ گئے اور لوگوں سے کہا کہ ان کو بتائو کے آپؒ کیلئے ایک پیغام ہے۔ جب لوگوں نے بتایا تو حضرت بشر حافیؒ سمجھنے لگے کہ کہیں اللہ کی طرف سے سزا کا پیغام نہ آیا ہو لیکن جب باہر نکلے تو دل بدل چکا تھا وہیں سے گناہوں سے تائب ہوئے اور ایسے تائب ہوئے کہ پھر آپ زمین پر ننگے پیر چلا کرتے تھے، صرف اس خیال سے کہ کہیں اللہ کی زمین پہ جوتے پہن کر چلنا سے بے ادبی نہ ہو جائے۔ اسی وجہ سے آپؒ حافی مشہور ہو گئے۔ ادب و احترام میں کیے گئے بظاہر ایک معمولی کام پر اللہ تعالیٰ نے اُنہیں اتنا بلند مقام عطا کر دیا۔(ع،ع)

مزید پڑھیں  کیا محمد ﷺ صبح نہار منہ پانی پیتے تھے یاں کچھ اور

دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments