بریکنگ نیوز: جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کا معاملے کیخلاف ناقابل یقین مطالبہ ۔۔۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی راتوں کی نیندیں حرام کر دینے والی خبر آ گئی

لاہور (ؤیب ڈیسک ) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کی لاہور میں رہائش گاہ پر فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب سے استعفے کا مطالبہ کردیا۔پی ٹی آئی کے ترجمان فواد چوہدری نے کہا کہ جج کے گھر پر فائرنگ کے واقعے کی فوری


اور جامع تحقیقات کی جائیں اور معاملے کی تہہ تک پہنچا جائے۔پی ٹی آئی نے وزیراعلیٰ پنجاب سے بھی استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے اور ترجمان پی ٹی آئی نے الزام لگایا ہے کہ رانا ثناء اللہ اور سعد رفیق اس قسم کی وارداتوں کا تجربہ اور مہارت رکھتے ہیں۔فواد چوہدری نے کہا کہ واقعے کا فوری مقدمہ درج کیا جائے اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔خیال رہے کہ لاہور میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔ عدالتی اعلامیے کے مطابق فائرنگ کا واقعہ گزشتہ شب اور آج صبح پیش آیا۔واقعے کے بعد چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار، جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پہنچے اور وہ اس معاملے کی نگرانی خود کررہے ہیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گھر کے گیراج سے نائن ایم ایم پستول کی گولی کا سکہ (اگلا حصہ) ملا ہے جسے فرانزک تجزے کے لیے لیب بھجوادیا گیا ہے۔پولیس نے علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنا شروع کردی جب کہ اطلاع ملنے پر رینجرز، اسپیشل برانچ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار بھی تحقیقات کے لئے جائے وقوع پہنچ گئے۔واضح رہے کہ لاہور میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پر دو بار فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔

مزید پڑھیں  الیکشن 2018 میں فسادات پھیلانے کا منصوبہ بے نقاب۔۔۔۔ملک کیخلاف کونسی تنظیمیں سرگرم ہیں ؟مصدقہ رپورٹ کے انکشافات آپ کو حیرت میں ڈال دیں گے

عدالتی اعلامیے کے مطابق فائرنگ کا واقعہ ہفتے کی شب اور اتور کو علی الصبح پیش آیا۔واقعے کے بعد چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار، جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پہنچے اور وہ اس معاملے کی نگرانی خود کررہے ہیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گھر کے گیراج کے پاس سے نائن ایم ایم پستول کی گولی کا خول ملا ہے جسے فرانزک تجزے کے لیے لیب بھجوادیا گیا ہے۔ پولیس نے علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرلی جب کہ اطلاع ملنے پر رینجرز، اسپیشل برانچ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار بھی تحقیقات کے لئے جائے وقوع پہنچ گئے۔ترجمان سپریم کورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کے پرسنل اسٹاف آفیسر جسٹس اعجازالاحسن کے گھر آئے تاہم سپریم کورٹ انتظامیہ نے اُن کی معزز جج سے ملاقات کرانے سے انکار کردیا۔اد رہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن پاناما کیس کی سماعت کرنے والے بینچ میں شامل تھے اور وہ احتساب عدالت میں زیرسماعت ریفرنس کے نگراں جج بھی ہیں۔دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائشگاہ پر فائرنگ کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔وزیراعلیٰ پنجاب نے ہدایت کی کہ ملزمان کو قانون کی گرفت میں لا کر فوری کارراوئی کی جائے۔واقعے کا مقدمہ درجسپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجازالاحسن کے گھر پر فائرنگ کے واقعے کا مقدمہ درج لاہور کے تھانہ ماڈل ٹاؤن میں درج کرلیا گیا۔پولیس کے مطابق مقدمے میں دہشت گردی اور اقدام قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔پولیس کے مطابق فائرنگ کے واقعے کا مقدمہ پولیس کانسٹیبل آصف کی مدعیت میں نامعلوم افراد کیخلاف درج کیا گیا ہے۔(ع،ع)

مزید پڑھیں  اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے 50 روپے کا سکہ جاری، سکے پر کس کی تصویر بنائی گئی ہے؟ پاکستانیوں کو خوش کر دینے والی خبر آگئی


دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments