urdu tv online

بغیرتار، اب درخت دیں گے روشنی لگاتار

urdu tv online
بوسٹبن: کیا مستقبلمیں ہم رات کی روشنی بجلی کے کھمبوں پر لگے بلب کی بجائے پیڑوں اور درختوں سے حاصل کرسکیں گے؟ جی ہاں! سائنس دانوں نے درختوں کے پتوں سے روشنی حاصل کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔میسا چیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے ماہرین کے اس انقلابی تجربے کے مطابق درختوں کے پتوں سے روشنی کا حصول ممکن ہوگیا ہے، مستقبل کی سڑکیں حیاتیاتی روشنی (بایو لیومنیسنس) خارج کرنے والے پودوں سے بھری ہوں گی اور اس کے لیے ایم آئی ٹی کے سائنس دانوں نے ایک قسم کی سلاد یعنی واٹر کریس کے پتے میں نینو ذرات داخل کیے تو وہ چار گھنٹے تک دھیمی روشنی خارج کرتا رہا۔اس کیمیکل سے پودوں میں خارج ہونے والی روشنی اتنی کافی ہوتی ہے کہ آپ اس کی روشنی میں ایک کتاب پڑھ سکتے ہیں، پودے عین اسی اصول پردمکتے ہیں جنہیں استعمال کرتے ہوئے جگنو دلفریب روشنی خارج کرتے ہیں۔ایم آئی ٹی کے ماہرین نے ایک اینزائم لیوسی فریس کے ذریعے پودوں کو روشن کیا ہے جس میں لیوسی فرین مالیکیول چمک کی اہم وجہ ہے، سائنسدانوں نے اس اینزائم کو نینو ذرات میں بھرا ہے جس سے پودے دمکنے لگتے ہیں، اس کا فائدہ یہ ہے کہ نینو ذرات روشنی والے اینزائم ہر مناسب جگہ پہنچ جاتے ہیں اور کیمیکل پودوں میں ایک جگہ جمع نہیں ہوپاتا اور کسی زہریلے اثرات کی وجہ نہیں بنتا۔جب سلادِ آبی میں روشنی دینے والے کیمیکل کے نینوذرات شامل کیے گئے تو وہ پودا ایک طرح ٹیبل لیمپ بن گیا اور بہت اچھی روشنی خارج کرنے لگا، ماہرین کے مطابق اسے مزید بہتر کرکے درختوں کو اس قدر روشن بنایا جاسکتا ہے کہ اسٹریٹ لائٹس کی ضرورت نہیں رہے گی اور اس قدرتی لیمپ کے لیے بجلی کے کسی تار کی ضرورت نہیں رہے گی۔اس کارنامے کا سہرا ایم آئی ٹی کے پروفیسر آف کیمیکل انجنیئرنگ مائیکل اسٹرینو کے سر ہے جو کہتے ہیں کہ اب پودے کے اندر کا قدرتی نظام ہی روشنی بنائے گا اس سے روشنی دینے والے کھمبوں کی ضرورت نہ رہے گی، ایسے پودے بہت اچھی طرح فوری طور پر کیمیکل کو روشنی میں تبدیل کردیتا ہے، اولین پودا 45 منٹ تک روشن رہا اور اس کی روشنی بہتر کرکے اسے ساڑھے 3 گھنٹے تک بڑھایا گیا۔دس سینٹی میٹر پودے کی روشنی میں ایک کتاب آرام سے پڑھی جاسکتی ہے، ماہرین کے مطابق پودے کو مزید بہتر بناکر گھنٹوں روشنی دینے کے قابل بنایا جاسکتا ہے، دوسرے مرحلے میں یہ ماہرین پودے پر نینو ذرات اسپرے کرنے کے آسان طریقے پر بھی کام کررہے ہیں۔
دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments

مزید پڑھیں  Petition against Aung San Suu Kyi