بغیر نکاح غیرلڑکی سے جسمانی تعلقات قائم کرنا جائز ہے:معروف عالم دین نے انتہائی متنازعہ فتویٰ دیدیا

لاہور( نیوز ڈیسک) اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں ہرمسئلے کے بارے میں واضح ہدایات موجود ہیں اور اگر کوئی ضرورت محسوس ہوتو علماءحضرات تشریح کردیتے ہیں لیکن ایک معروف پاکستانی عالم دین نے مخالف صنف سے جسمانی تعلقات کے بارے میں انتہائی متنازعہ فتویٰ دیدیا، وہ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کررہے تھے تاہم ان کی یہ پرانی ویڈیو آج کل انٹرنیٹ پر وائرل ہورہی ہے ۔تفصیلات کے مطابق علامہ ابتسام الٰہی ظہیر کاکہناتھاکہ ’ غلام عورتوں کے ساتھ بغیر نکاح کے جسمانی تعلقات قائم کرنا جائز ہے، اسلام پر اعتراض کرنیوالے ہم کون ہوتے ہیں، مزید وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جنگ کے دوران کمانڈر انچیف نے ایک عورت پکڑلی تو اس کی دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ قتل کردیں یا پھر منڈی بھیج دیاجائے ، تیسری صورت یہ ہے کہ کسی مسلمان کے سپرد کردیں۔ اگر کمانڈریا امیر لشکر کسی مسلمان کی تحویل میں دے تووہ اپنی خواہشات پوری کرتاہے ، اس میں کوئی قباحت نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ باندی یا لونڈی سے بغیر نکاح کے جسمانی تعلقات کی اجازت ہے ۔نیوزویب سائٹ پڑھ لو کے مطابق یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اسلام بغیر نکاح کے بھی جسمانی تعلقات کی اجازت دیتا ہے۔ جب کہ اگر حقیقی معنوں میں دیکھا جائے تو اسلام نے کبھی بھی معاشرے کو اس طرح بے لگام ہونے کا حکم نہیں دیا۔اس حوالے سے قرآن کی سورة النسا کی آیت نمبر 3 کی مثال پیش کی جاتی ہے”اور اگر تم یتیم لڑکیوں سے بے انصافی کرنے سے ڈرتے ہو تو جو عورتیں تمہیں پسند آئیں ان میں سے دو دو تین تین چار چار سے نکاح کر لو، اگر تمہیں خطرہ ہو کہ انصاف نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی سے نکاح کرو یا جو لونڈی تمہارے ملِک میں ہو وہی سہی، یہ طریقہ بے انصافی سے بچنے کے لیے زیادہ قریب ہے“۔تاہم آیت نمبر 24”دوسروں کی بیویاں تم پر حرام ہیں البتہ تمھاری باندیاں تم پر حرام نہیں ہیں “ آیات کا سہارہ لے کر بہت سارے لوگ یہ دعوی کرتے نظر آتے ہیں کہ جن عورتوں کی قیمت ادا کر کے ان پر قبضہ کر لیا جائے ان کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کرنے کی بغیر نکاح کے بھی اجازت ہے۔مگر یہ بالکل وہی مثال ہے کہ اللہ نے فرمایا کہ تم نماز نہ پڑھو اور اس بات کو مثال بنا کر کوئی نماز چھوڑ دے۔ جب کہ اگلی ہی آیت میں اللہ فرماتے ہیں کہ جب تم نشے کی حالت میں ہو یعنی اس وقت نماز ادا نہ کرو جب کہ نشے کی حالت میں ہو۔اسی طرح سورة النسا کی آیت 24 کا اگر پورا ترجمہ دیکھیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ فرمان الٰہی ہے”اور خاوند والی عورتیں (بھی حرام ہیں) مگر جن (لونڈیوں) کے تم مالک بن جاو¿، یہ اللہ کا قانون تم پر لازم ہے، اور ان کے سوا تم پر سب عورتیں حلال ہیں بشرطیکہ انہیں اپنے مال کے بدلے میں طلب کرو لیکن نکاح کرنے کے لیے نہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لیے“
دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments

مزید پڑھیں  سرحد پار سے دہشت گردوں کی ایف سی اہلکاروں پر فائرنگ،3 اہلکار شہید :آئی ایس پی آر