بنارس خان موچی کی دکان راکھ ہو گئی

 تحریک لبیک نے ختم نبوت ﷺ سے متعلق ترمیم پر حکومت کے خلاف فیض آباد میں دھرنا دیا جو کم و بیش 22 دن جاری رہا ۔ اس دھرنے میں پولیس نے مظاہرین کے خلاف آپریشن بھی کیا ۔ آپریشن کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک جبکہ سو سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔ دھرنے میں جہاں املاک کا نقصان پہنچا وہیں دھرنے کے مقام پر پاس ہی موجود بنارس خان موچی کی دکان بھی جل کر راکھ ہو گئی۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بنارس خان کا کہنا ہے کہ میں ایک غریب بندہ ہوں، میں اب کیا کروں گا مجھے کچھ علم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ آ کر اپنے بوٹ مانگ رہے ہیں ، کوئی آ کر پیسے مانگ رہا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ خان تم نے کیا کر دیا ؟ اور میں ان کو بولتا ہوں کہ اللہ کی طرف سے ہی ہو گیا ۔مجھے کچھ علم نہیں کہ یہ کس نے کیا ہے؟ حکومت نے کیا یا کسی مُلا نے مجھے اس کا بھی علم نہیں ہے۔بنارس خان نے کہا کہ وہ اپنے کاروبار کو بحال کرنے کی کوشش کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے کچھ لوگوں سے پیسے لے کر اینٹ ، بجری اور سیمنٹ منگوایا ہے جس کے بعد اب دکان کا تھوڑا بہت کام شروع ہو اہے۔ میں غریب بندہ ہوں ، کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ آگے کیا کروں گا۔ یاد رہے کہ فیض آباد آپریشن میں پولیس نے مظاہرین کے خلاف آپریشن کیا تھا جس کے بعد مشتعل مظاہرین نے املاک کو نقصان پہنچایا اور قریبی مقامات پر مختلف جگہوں پر ٹائر جلائے اور آگ بھی لگائی ۔

دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments

مزید پڑھیں  شریف فیملی کے اثاثوں کی چھان بین ۔۔۔نیب کو بڑی کامیابی مل گئی: ڔشریف فیملی کا بچنا مشکل