بندروں نے انسانوں کی ایک اورعادت اپنالی

لمبی دم والے بندر انسانوں کی مانند گری والے میووں اور ناریل کو اوزار کی مدد سے توڑ کر کھانے لگے لندن(نیوزڈیسک) برطانوی ماہرین کا کہنا ہے کہ لمبی دم والے جنگلی بندروں نے انسانوں کی ایک اور عادت کو اپناتے ہوئے گری والے میوے یا پھر ناریل توڑنے کیلئے اوزار کا استعمال شروع کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق برطانیہ اور تھائی لینڈ کے سائنسدانوں نے

مزید پڑھیں  دودھ اور مچھلی کے حوالے سے تصوراتی کہانیوں کی اصل حقیقت

تحقیق کی جس کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مکاک یعنی لمبی دم والے بندروں کی نسل سمندری بادام اور ناریل توڑنے کیلئے پتھروں کو بطور اوزار انسانوں کی طرح استعمال کرنے لگے ہیں۔ ماہرین کے مطابق لمبی دم والے بندر گری والے میوؤں کے بیرونی چھلکوں کو تقریباً دو کلو وزنی پتھر کی مدد سے توڑ کر اسے کھاتے ہیں جبکہ نوکیلے یا تیز دھار پتھروں سے اسے کاٹ کر اندر موجود غذا کو قابل استعمال بناتے ہیں۔

مزید پڑھیں  جانئے انڈے کی زردی میں چھپے مختلف رازوں کے بارے میں

بندروں
دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments