بچی کے قتل کےخلاف ثانیہ مرزا کو آواز اٹھانا مہنگہ پڑ گیا بھارتیوں نے شرمناک حرکت کر ڈالی

قران مجید میں اللہ کا فرمان ہے کہ کافر کبھی تمہارے دوست نہیں بن سکتے ۔ ہم روز مرہ معاملات میں اس بات کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ بظاہر انتہائی عاجز اور مسکین نظر آنے والا غیر مسلم جب اس کے کسی دوست پر بات آتی ہے تو وہ اس کے ساتھ جم کر کھڑا ہوگا ۔ اس کی تازہ مثال بھارت میں رہنے والوں ہندووں کی دیکھ لیں جس میں ایک مسلمان لڑکی جس کی عمر 9 سال تھی اسے اغوا کیا گیا اور کئی دن تک جنسی درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر ڈالا ۔ جب اس کے خلاف آواز کسی نے بھی اٹھائی تو بجائے اس کے کہ ان کا ساتھ دیا جائے الٹا

مزید پڑھیں  مجھے اپنی خوفناک سہاگ رات کبھی نہیں بھولے گی

قاتلوں کا ڈیفنڈ کیا گیا اور اس معاملہ میں کسی کو بھی نہین بخشا گیا حتی کہ بھارتی ٹینس سٹار ثانیہ مرزا کو بھی سننی پڑی ۔ٹینس اسٹارثانیہ مرزا نے اس ظلم کے خلاف ٹویٹرپراپنے جذبات کا اظہارکیا تو ہندوانتہاپسندوں نےاسے مذہبی مسئلہ بناکرثانیہ مرزا کو ہدف بنالیااورزیادتی کرنے والے درندوں کی حمایت شروع کردی۔ ثانیہ مرزا کا اپنی ٹویٹ میں کہنا تھا کیا یہ ہے بھارت کا وہ چہرہ جودنیا کو دیکھانا چاہتے ہیں۔ثانیہ مرزا نے لکھا اگر جنس،نسل اورمذہب کوچھوڑ کرایک بچی کے ساتھ ظلم کیلئے آواز نہیں اٹھائی جا سکتی تودنیا میں کسی چیز کیلئے

مزید پڑھیں  عورت ہمبستری کرنے کیلئے کتنا ٹائم مانگتی ہے کم از کم کتنے وقت میں عورت کی تسلی ہو جاتی ہے

آواز نہیں اٹھائی جا سکتی۔ثانیہ مرزا کی حق کیلئے اٹھائی جانے والی آواز پر بھارتیوں نے اپنا اصل چہر ہ دکھاتے ہوئے کھلاڑی کے خلاف پراپیگنڈہ شروع کر دیا۔ایک ہندوٹویٹرصارف نے ثانیہ مرزا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آپ نے ایک پاکستانی سے شادی کر لی ہے اور اس لیے اب آپ بھارتی نہیں رہیں ۔

مزید پڑھیں  paheliyan urdu mein|riddles in...

جس پرثانیہ مرزا نے جواب دیا بھارت کے لیے کھیلتی ہوں،ہمیشہ بھارتی رہوں گی۔آپ مذہب اورملک سے آگے سوچیں تو ایک دن انسانیت کے لیے آواز بلند کریں گے۔

دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments