بیٹے کی شادی کےلئے لڑکی دیکھنے ماں جب لڑکی والوں کے گھر پہنچی تو آگے سے رشتہ کا سبق کیاملا ۔۔۔جان کر آپ کے بھی ہوش اڑ جائیں گے

لودھراں (نیوزڈیسک) نوسربازوں نے بیٹے کی شادی کا جھانسہ دے کر غریب بیوہ سے 80 ہزار لوٹ لئے، عرصہ 10 ماہ گزرنے کے باوجود رقم واپس نہ دی، مقامی پولیس بھی نوسربازوں کی سرپرست بن گئی، غریب بیوہ حصول کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور، بیوہ کا اعلیٰ حکام اور ڈی پی او لودھراں سے نوسربازوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی اور رقم کی واپسی کی اپیل۔روزنامہ خبریں کے مطابق چک نمبر 60 ایم موضع لعلواہ تحصیل جلالپور کی رہائشی غریب بیوہ نسیم مائی نے بتایا کہ محمد اسلم مغل میری ہمسائی کے ساتھ میرے گھر آیا اور اس نے مجھے کہا کہ میں تمہارے بیٹے کا رشتہ ایک اچھے خاندان میں کروادیتا ہوں، جس پر وہ مجھے اپنے ساتھ لے گیا اور مجھے رشتہ دکھایا اور مجھے پسند کروایا، پھر دوسرے تیسرے دن اس نے مجھے کہا کہ لڑکی والوں کی ڈیمانڈ ہے کہ ہم غریب لوگ ہیں، اگر فوری شادی کرنا چاہتے ہو تو جہیز کیلئے کم از کم ایک لاکھ روپے خرچہ دو اس کے بعد تمہیں ایک روپیہ خرچ کرنے کی ضرورت نہ ہوگی، جس پر میں نے اس نوسر باز کو اپنی محبت اور گھر میں موجود بکریاں بیچ کر اکٹھی کی گئی رقم 80 ہزار اسے دے دی مگر مجھے معلوم نہ تھا کہ ان کا کام غریب اور سادہ لوح لوگوں کو سہانے خواب دکھا کر ان کی محنت سے اکٹھی کی گئی جمع پونجی کو ہڑپ جانا ہوتا ہے اور لوگوں کو رشتوں کا جھانسہ دے کر ان سے رقم اور دیگر سامان و بیش قیمتی زیورات لے لیتے ہیں، میرے ساتھ بھی اس نوسرباز نے یہی کیا اور مجھ سے پیسے لینے کے بعد مجھے ایک لڑکی دکھائی اور رشتہ طے کردیا اس کے پاس دور دراز سے ہائر کی گئی لڑکیاں ہمہ وقت موجود ہوتی ہیں جنہیں یہ لوگوں کو دکھا کر ان سے پیسے بٹورتا ہے اور بعد میں سادہ لوح افراد کو لوٹ کر کوئی نہ کوئی عذر بنا کر چلتا کرتا ہے۔اس نوسرباز نے لڑکیوں پر مشتمل ایک گروہ بنایا ہوا ہے جو کہ سادہ لوح اور غریب لوگوں کو اپنے پیار میں پھنسا کر انہیں لوٹتی ہیں اور شادی کا جھانسہ دے کر اسلم مغل ان کا بڑا بن کر ان لڑکوں کے گھروں میں جاکر ان کے سادہ لوح والدین کو پھنسا کر انہیں لوٹتا ہے۔ اس نے میرے ساتھ یہی کیا اور مجھے بھی چھ ماہ تک لارے لگاتا رہا تنگ آکر میں نے اس سے اپنی محنت اور بکریاں بیچ کر اکٹھی کی گئی رقم 80 ہزار روپے واپس لوٹانے کا کہا جس پر نوسر باز مجھے آج کل میں پیسے لوٹانے کا وعدہ کرتا رہا، عرصہ 10 ماہ گزرنے کے باوجود بھی میری رقم واپس نہ دی جارہی ہے۔میں نے مقامی تھانہ میں اس نوسرباز کے خلاف درخواست دی جس پر میری تھانے میں کوئی سنوائی نہ ہوئی کیونکہ نوسرباز بااثر ہے اور پولیس کے ساتھ ساز باز رہتا ہے، کیونکہ اس کا فراڈ کرنا روز کا معمول ہے اور بھاری رشوت کے عوض مقامی پولیس بھی اس نوسرباز کی سرپرست بن گئی ہے اور حصول انصاف کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پرمجبور ہے۔
دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments

مزید پڑھیں  Russia par ilzam