بے نظیر بھٹو کاقاتل ۔۔خودکش بمبار اب کہاں اور کس حال میں ہے

لندن ( نیو ز ڈیسک )27 دسمبر 2007میں بینظیر بھٹو کو 15 سالہ بلال نے خود کش دھماکے کی مدد سے قتل کر دیا,اس وقت بینظیر بھٹو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں انتخابی ریلی سے خطاب کر کے واپس جا رہی تھیں جب بلال ان کی گاڑی کے قریب گیا، پہلے انھیں گولی ماری اور پھر اس کے بعد خود کو اڑا لیا۔ بلال نے یہ حملہ پاکستانی طالبان کے حکم کے مطابق کیا، جنوبی وزیرستان کا رہائشی اکرام اللہ متبادل بمبار تھا جس کے بارے میں اطلاعات تھیں کہ وہ مارا گیا لیکن وہ مشرقی افغانستان میں مقیم ہے جہاں وہ پاکستانی طالبان کے لیے درمیانے درجے کا کمانڈر بن چکا ہے۔بینظیر بھٹو کے قتل کے چند ہفتوں بعد پانچ ملزموں نے 15 سالہ بلال کی القاعدہ اور طالبان کے کہنے پر مدد کرنے کا اعتراف کیا۔حراست میں لیے جانے والے پہلے شخص اعتزاز شاہ کو پاکستانی طالبان نے کہا تھا کہ وہ بے نظیربھٹو کو قتل کرنے کے لیے خودکش بمبار منتخب ہوا ہے لیکن اسے متبادل بمبار کی حیثیت پر منتقل کر دیا گیا تھا جو اس وقت سامنے آتا اگر پہلی کوشش ناکام ہو جاتی اور اس بات پر وہ خفا بھی ہوا۔ اس کے علاوہ دو اور افراد رشید احمد اور شیر زمان نے اعتراف کیا کہ وہ اس سازش میں درمیانے درجے کے منتظمین تھے۔ان کے علاوہ راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے دو رشتہ دار حسنین گل اور رفاقت حسین نے حکام کو بتایا کہ انھوں نے بینظیر بھٹو کو قتل کرنے سے ایک رات قبل بلال کو رہائش فراہم کی تھی۔حسنین گل نے پولیس کو اس اپارٹمنٹ میں مزید شواہد دکھائے تھے جہاں بلال نے رات گزاری تھی۔ بلال کے جسم سے ملنے والے ڈی این اے اور اس اپارٹمنٹ سے ملنے والے ڈی این اے کو بعد میں امریکی لیب میں تصدیق کے لیے بھیجا گیا جہاں وہ آپس میں برابر کا جوڑ ثابت ہوئے۔روزنامہ دنیا کے مطابق پولیس کی تفتیش میں کوتاہیاں 18 اکتوبر 2007 کو بینظیر بھٹو پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے بعد کافی عیاں ہوئیں۔بی بی سی کی جانب سے کی گئی تفتیش سے یہ ثبوت ملا ہے کہ وہ دو افراد جنھوں نے بلال کو بینظیر بھٹو تک پہنچنے میں مدد کی تھی انھیں 15 جنوری 2008 کو ایک چوکی پر مار دیا گیا۔ زرداری حکومت کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے بی بی سی کو نام نہ بتانے کی شرط پر کہا کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ’ان دونوں کا قتل انکاؤنٹر تھا‘ جو کہ پاکستان میں ماورائے عدالت قتل کا عام نام ہے۔ نادر اور نصراللہ طالبان کے حامی حقانی نیٹ ورک کے مدرسے میں طلبہ تھے۔ اس مدرسے سے تعلق رکھنے والے اور سازشی بھی ہلاک کیے جا چکے ہیں۔بی بی سی نے اس تفتیش سے متعلق ایک نہایت جامع پریزینٹیشن حاصل کی جو کہ سندھ اسمبلی میں پیش کی گئی تھی۔ اس کے مطابق حقانی مدرسے کے سابق طالب علم اور بم بنانے کے ماہر عباد الرحمان نے بلال کو خود کش جیکٹ فراہم کی تھی جس کی مدد سے بینظیر بھٹو کو قتل کیا گیا۔ عباد الرحمان کو پاکستان کے قبائلی علاقے میں 13 مئی 2010 کو قتل کر دیا گیا تھا۔اس کے علاوہ عبدللہ بھی تھا جو اس پریزینٹیشن کے مطابق خود کش جیکٹ کو حملے سے پہلے راولپنڈی تک پہنچانے کا ذمہ دار تھا۔ وہ مہمند ایجنسی میں 31 مئی 2008 کو ہونے والے ایک دھماکے میں ہلاک ہو ا۔بینظیر بھٹو قتل کیس سے منسلک اموات میں سے ایک انتہائی اہم موت خالد شہنشاہ کی تھی جو کہ سابق وزیر اعظم کے سکیورٹی گارڈز میں سے ایک تھا,خالد شہنشاہ نے کچھ عجیب و غریب حرکات کی تھیں جن کا کوئی جواز نہیں تھا اور نہ ہی کسی نے ان کی تسلی بخش وضاحت کی ہے لیکن چند ماہ بعد، 22 جولائی 2008 کو شہنشاہ کو کراچی میں گھر کے باہر قتل کر دیا گیا۔ایک اور اہم شخص سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار تھے۔ ان کی ساکھ بحیثیت نہایت قابل اور مستقل مزاج وکیل کے طور پر تھی اور انھوں نے اپنے دوستوں کو بتایا تھا کہ وہ بینظیر بھٹو کے قتل کیس میں کافی پیش قدمی حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔3 مئی 2013 کو اسلام آباد میں وہ عدالت جا رہے تھے جب انھیں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔مبینہ سازشیوں نے اپنے اعترافی بیان میں کہا تھا کہ بینظیر بھٹو پر حملے والے دن ایک اور خود کش بمبار اکرام اللہ بھی بلال کے ہمراہ تھا۔ کیونکہ بلال اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا تو اکرام اللہ کی ضرورت نہیں پیش آئی اور وہ لیا قت باغ سے چلا گیا۔برسوں تک پاکستانی حکام کہتے رہے کہ اکرام اللہ کو ڈرون حملے میں ہلاک کیا جا چکا ہے۔مرکزی پراسیکیوٹر محمد اظہر چوہدری نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستانی تفتیشی اداروں کی جانب سے جمع کیے گئے شواہد کی روشنی میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ ’اکرام اللہ زندہ نہیں ہے۔‘ لیکن اگست 2017 میں پاکستانی حکام نے 28 صفحات پر مبنی ایک فہرست جاری کی جس میں ملک کے سب سے زیادہ مطلوب دہشت گردوں کا نام درج تھے۔ اس فہرست میں نویں نمبر پر جنوبی وزیرستان کے رہائشی اکرام اللہ کا نام تھا اور نام کے آگے درج تھا کہ وہ بینظیر بھٹو کے قتل میں ملوث ہے۔اندازہ ہے کہ اکرام اللہ اس وقت مشرقی افغانستان میں مقیم ہے جہاں وہ پاکستانی طالبان کے لیے درمیانے درجے کا کمانڈر بن چکا ہے
دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments

مزید پڑھیں  نئے صوبے کا قیام ،وزیر اعظم نے گھٹنے ٹیک دئیے ،تمام جماعتوں کو بڑی پیشکش کر دی