بے نظیر بھٹو کا قتل اس شخص نے کیا۔۔۔پرویز مشرف نے ایسا نام بتا دیا کہ بلاول بھٹو کے بھی پیسنے چھوٹ گئے

دوبئی (نیوزڈیسک) سابق صدر جنرل (ر) پرویزمشرف نے الزام عائد کیا ہے کہ بے نظیر بھٹو کے قتل میں ان کے سیکیورٹی انچارچ رحمان ملک ملوث ہیں، رحمان ملک محترمہ کے قتل ہوتے ہی جائے وقوعہ سے غائب ہوگئے تھے ، پیپلز پارٹی کی قیادت ان سے پوچھے کہ وہکہا ں گئے تھے؟ رحمان ملک نے جان بوجھ کر بے نظیر کی سیکیورٹی میں غفلت کا مظاہرہ کیا،قتل کے تمام اشارے آصف زرادی کی طرف جاتے ہیں ۔سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلزپارٹی کی چیئر پرسن بے نظیر بھٹو کے دسویں یوم شہادت کے دن اپنے ویڈیو پیغام میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو اپنے والد سے خوفزدہ ہیں اور وہ ان کے خوف میں مبتلا ہو کر میرے خلاف نعرے لگوا رہے ہیں،بلاول عورتوں کی طرح نعرے نہ لگائیں بلکہ مرد بن کر دکھائیں ۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور بلاول بھٹو فوج پر دباؤ ڈالنے کے لئے میرے خلاف زہر اگل رہے ہیں، بلاول مجھے قاتل کہتے ہیں ، وہ بے نظیر بھٹو کی سیکیورٹی کے انچارج رحمان ملک سے پوچھیں کہ وہ قتل کا سانحہ ہونے کے بعد کہاں غائب ہوگئے تھے؟بے نظیر کو سیکیورٹی دینا میری ذمہ داری نہیں تھی تاہم پھر بھی حکومت نے انہیں بہترین سیکیورٹی فراہم کی تھی۔سابق صدر کا کہنا تھا کہ لیاقت باغ میں بی بی دو گھنٹے تک عوام میں رہیں اور محفوظ گاڑی میں بیٹھیں، گاڑی میں موجود باقی لوگوں کو کچھ نہیں ہوا، اگر بی بی گاڑی سے سر باہر نہ نکالتیں تو انہیں بھی کچھ نہیں ہونا تھا۔انہوں نے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ بے نظیر بھٹو کی بم پروف گاڑی کی چھت کس کے کہنے پر کاٹی گئی؟ بے نظیر کو کس نے سر باہر نکال کر کارکنوں کو ہاتھ ہلانے کو کہا تھا؟ جس کے فون پر تین مرتبہ کال آئی تھی، اسے کس نے غائب کر دیا تھا؟ رحمان ملک بی بی کا سیکیورٹی چیف تھا، اس وقت اپنی ڈیوٹی چھوڑ کر کہاں غائب ہو گیا تھا؟ زرداری کے جیل کا ساتھی خالد شہنشاہ کس نے قتل کروایا؟ اور بعد ازاں اس کے قاتل کو بھی مار دیا گیا، بی بی کا پوسٹ مارٹم کس نے نہیں ہونے دیا؟ یہ تمام ثبوت ایک ہی شخص کی طرف جاتے ہیں اور وہ آصف علی زرداری ہے۔ویڈ یو پیغام میں سابق صدر پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ بلاول عورتوں کی طرح میرے خلاف نعرے لگوا رہا ہے، پہلے مرد بنے اور پھر میرے خلاف نعرے لگائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاول بچوں کی طرح الزامات نہ لگائے، میرے خلاف ثبوت سامنے لائے، سوچنا یہ ہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل کا فائدہ کسے ہوا ؟ مجھے کچھ فائدہ نہیں ہوا ، میرا تو بے نظیر کے ساتھ معاہدہ تھا ، اس کا فائدہ تو آصف زرداری کو ہوا جو بلاول کے والد محترم ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ زرداری نے جعلی وصیت سامنے لا کر بی بی کی پارٹی اور دولت پر قبضہ کر لیا، اب بلاول اپنے والد زرداری کے خوف سے میرے خلاف نعرے لگوا رہا ہے۔پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے افتخار چودھری کو میرے خلاف استعمال کیا، یہ لوگ میری واپسی سے خوفزدہ ہیں، ان کا شور ان کے خوف کو ظاہر کرتا ہے، ان سب باتوں کا تجزیہ کر رہا ہوں، درست وقت پر واپس آؤں گا ، عدالتوں کا سامنا پہلے بھی کیا تھا، اب بھی کروں گا۔ سابق صدر نے کہا کہ میں بموں اور گولیوں کے آگے کھڑا رہا ہوں، کیسز سے نہیں ڈرتا ، اپنے لئے نہیں، ملک اور غریب عوام کے لئے کچھ کرنا چاہتا ہوں
دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments

مزید پڑھیں  نامور پاکستانی ڈرامہ نگار امتیاز علی تاج کو 1970 میں لاہور میں قتل کر دیا گیا تھا ، انکے قتل کی وجوہات کیا تھیں ؟48 سال بعد رازسے پردہ اٹھ گیا