ترک صدر رجب طیب اردگان دراصل کون ہیں؟ ترک صدر کی زندگی کی ایسی حقیقت سامنے آ گئی کہ جان کر آپ کو بھی یقین نہیں آئے گا

ترک صدر رجب طیب اردگان دراصل کون ہیں؟ ترک صدر کی زندگی کی ایسی حقیقت سامنے آ گئی کہ جان کر آپ کو بھی یقین نہیں آئے گا ۔۔۔۔۔ترک (ویب ڈیسک)دنیا میں ایسے لوگ کم ہی ہوتے ہیں جن کو اﷲ تعالیٰ عقل و فراست اور تدبیر و حکمت کے ساتھ شجاعت و جرات بھی عطا کرتے ہیں

اور اگر ایسی صفات کے لوگوں میں جذبہ صادق ہو تو وہ عظیم قائد بن کر ابھرتے اور وہ کچھ کر جاتے ہیں جو دوسرے لوگ سوچ بھی نہیں سکتے۔آج آپ کو ایک ایسے ہی شخص کی کہانی سناتے ہیں جسے دنیا رجب طیب اردگان کے نام سے جانتی ہے ۔۔۔جب بچپن میں مدرسے پڑھنے جاتا تو ہمارے علاقے کے کئی لوگ مجھ سے کہا کرتے کہ بیٹا !کیوں اپنا مستقبل خراب کر رہے ہو؟کیا تمہیں بڑہے ہوکر مردہ نہلانے ہیں ؟مدرسے میں پڑہنے والے کو مردہ کو غسل کرنے کے علاوہ کیا کوئی اور روز گار مل سکتا ہے کیا ؟ کسی اچھے سکول میں داخلہ لے لو اور اپنا مستقبل سمبھالو۔ اس قسم کی نصحت کرنے والوں میں زیادہ تر بڑھے ہوتے ہیں ۔اور میں بڑے ادب سے ان کی باتیں سنتا ارو مسکراتے ہوئے اپنی کتابیں بغل میں لیے مدرسہ امام الختب کی طرف گامزن ہوتا میرے والد پھل پروش تھے، ان کے مالی ہالات اس بات کے ہامی نہیں تھے کہ وہ مجھے کسی سکول میں ڈالتے ۔ ہمارے بعض اوقات سالن کی بجائے خربوزہ سے روٹی کھائی جاتی۔پھر والد کی دین سے محبت تھے کہ مجھے حٖفظ قران کی کلاس میں ڈال دیا تھا۔پھر وقت گولی کی

رفتار سے چلتا رہا اور میں نے استنبول کے اسی مدرسے سے 1973 میں اپنی تعلیم مکمل کی۔اور قرآن مجدید کے ساتھ حفظ کیا،دو کے بعد میں نے ترکی کی معروف مرمرہ یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور اکنامکس اینڈادڑمینسٹر یٹو سائیں میں ماسٹر کیا مگر ابئدائی تعلیم مدرسے ہی حاصل کی تھی۔اب جب بھی مجھے ان برزرگوں کی نصحتں یاد آتی ہیں تو خود پر کریم رب کی رحمیتں دیکھتا ہوں تو آنکھیں چھلک اٹھتی ہیں ۔یہ کہ کر طیب اردن گان نے حاضرین کو بھی اشک بار کر دیا۔ یہ باتیں عالم اسلام کے عظیم ترین انسان نے ترک صدر رجب طیب اردگان ایک فورم پر کر تے ہوے کیں۔ٹووٹیر سب سے زیادہ فلوار ان کے ہیں ۔ اسرائیل کو منہ توڑ جواب دینے کے بعد عرب دینا میں انہیں البطل (ہیرو) کا مل چکا ہے۔یاد رہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ بچے ترکی کے مدارس میں زیر تعلیم ہیں ، یاد رہے کہ 2015 کی اعدادوشمار کے مطابق ان طلبہ کی تعداد 40 لاکہ سے تجاوز کر چکی ہے۔ تاہم وہان کا نظام تعلیم بھی مکمل ہے ، کاش کہ ہمارا بھی نظام ایسا ہوتا،ہمیں بھی گستاخوں کی سزا کے لیے کوئی مہم چلانے کی ضرورت نہ پڑتی!(ن)

دوستوں سے شئیر کریں