توہینِ عدالت کرنیوالوں کیخلاف پاک فوج بھی ایکشن میں آگئی، اب کسی نے ایسا کرنے کی ہمت کی تو۔۔۔آرمی چیف کا دبنگ اعلان

لاہور (نیوزڈیسک)آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ کا کہنا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو ہم عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ڈیلی ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے میڈیا پرسنز کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو ہم عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ میں

نے اس ملک میں جمہوریت کا تحفظ کیا ہے۔اور میں جمہوریت کا سب سے بڑا حامی ہوں لیکن عدالت کی توہین کی اجازت نہیں دی جا سکتی کیونکہ اس سے ملک میں ایک افراتفری پھیل جائے گی۔آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ اگر ہم ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں تو تمام اداروں پارلیمنٹ، عدلیہ اور فوج کو ساتھ مل کر چلنا ہو گا۔اور غیر ریاستی عناصر کے بارے میں بات کرتے ہوئے آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ملک اسی صورت میں ترقی کر سکتا ہے جب تشدد کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہو۔ہم کسی نان سٹیٹ ایکٹر کو کسی بھی طرح کی کارروائی کی اجازت نہیں دے سکتے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا پاکستان کو ایک نارمل ملک سمجھے تو ہمیں تمام شدت پسندوں سے چھٹکارہ حاصل کرنا ہو گا-آرمی چیف نے یہ بھی کہا کہ جمہوریت کے حوالے سے سیاسی رہنماؤں پر بھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے

مزید پڑھیں  مسلم لیگ ن پنجاب کیلئے نیا امتحان ، ایک ساتھ 8اراکین اسمبلی منحرف،جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنانے کا اعلان

لاہور (نیوزڈیسک)آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ کا کہنا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو ہم عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ڈیلی ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے میڈیا پرسنز کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو ہم عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ میں

مزید پڑھیں  سوشل میڈیا پر مری کے حوالے سے پھیلنے والوں خبروں کی حقیقت

;”>نے اس ملک میں جمہوریت کا تحفظ کیا ہے۔اور میں جمہوریت کا سب سے بڑا حامی ہوں لیکن عدالت کی توہین کی اجازت نہیں دی جا سکتی کیونکہ اس سے ملک میں ایک افراتفری پھیل جائے گی۔آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ اگر ہم ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں تو تمام اداروں پارلیمنٹ، عدلیہ اور فوج کو ساتھ مل کر چلنا ہو گا۔اور غیر ریاستی عناصر کے بارے میں بات کرتے ہوئے آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ملک اسی صورت میں ترقی کر سکتا ہے جب تشدد کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہو۔ہم کسی نان سٹیٹ ایکٹر کو کسی بھی طرح کی کارروائی کی اجازت نہیں دے سکتے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا پاکستان کو ایک نارمل ملک سمجھے تو ہمیں تمام شدت پسندوں سے چھٹکارہ حاصل کرنا ہو گا-آرمی چیف نے یہ بھی کہا کہ جمہوریت کے حوالے سے سیاسی رہنماؤں پر بھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے

مزید پڑھیں  نقیب اللہ محسود کی آخری خواہش کیا تھی۔۔۔بھائی نےصاف صاف بتا دیا
دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments