تہران کے میزائل یورپ اور ایشیا کے 70 فی صد علاقوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں،ایرانی فوجی ذرائع

urdu tv online

ایران کے فوجی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران کے میزائل یورپ اور ایشیا کے 70 فی صد علاقوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران کے پاس مختلف نوعیت کے میزائل ہیں۔ایران کے فوجی ذرائع کے مطابق اس کے میزائل 3000 ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں ۔وہ براعظم یورپ اور ایشیا کے ستر فی صد دور دراز علاقوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔اس سے اس امر کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ ایرانی میزائل سے صرف مشرق وسطی کے خطے میں واقع ممالک ہی کو خطرہ لاحق نہیں ہے بلکہ دور دراز دوسرے براعظموں میں واقع ممالک بھی ان کی زد میں ہیں۔اقوام متحدہ میں متعین امریکی سفیر نِکی ہیلی نے جمعرات کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ حوثی ملیشیا نے سعودی دارالحکومت الریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو ہدف بنانے کے لیے جو میزائل داغا تھا، وہ ایرانی ساختہ تھا۔اگر اس کو ناکارہ نہیں بنایا جاتا تو اس سے سعودی عرب میں سیکڑوں شہری ہلاک ہوسکتے تھے۔انھوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ امریکا کے پاس ایران کی جانب سے یمنی حوثیوں کو میزائلوں اور ہتھیاروں سے مدد مہیا کرنے کے شواہد موجود ہیں۔ حوثیوں سے ضبط کیے گئے ہتھیاروں کی امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں ایک فوجی اڈے پر نمائش کی گئی ہے اور یہ ہتھیار ایران کی اقوام متحدہ کی قراردادوں کی واضح خلاف ورزیوں کے مظہر ہیں۔امریکی سفیر نے کہا کہ ایرانی میزائلوں سے صرف سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات ہی کو خطرہ لاحق نہیں ہے بلکہ ان سے ہر کسی کو خطرہ لاحق ہے۔انھوں نے واضح کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت ایران پر ہتھیاروں یا میزائلوں کی برآمد پر پابندی عاید ہے۔ایران کی فارسی زبان کی ایک ویب سائٹ تابناک کے مطابق میزائل فورس ایرانی فوج کا ایک اہم تزویراتی اثاثہ ہے اور وہ میزائل پروگرام کو ترقی دینے کا جواز یہ پیش کرتی ہے کہ یہ تہران کے خلاف کسی بھی خطرے کے مقابلے میں ایک سد جارحیت ہے۔ایران کی ریڈیو اور ٹیلی ویژن کارپوریشن کی ویب سائٹ جامِ جم نے فوج کے ہتھیاروں سے متعلق ایک رپورٹ شائع کی ہے۔اس میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ایرانی میزائل یورپ اور براعظم ایشیا کے ستر فی صد علاقے تک پہنچ سکتے ہیں۔ایران نے روس ، چین اور شمالی کوریا سے حاصل کردہ ٹیکنالوجی کی بدولت اپنے میزائل پروگرام کو ترقی دی ہے اور مبینہ طور پر اس کے اور شمالی کوریا کے درمیان میزائل ٹیکنالوجی کے شعبے میں ابھی تک تعاون جاری ہے۔ایران کے مختلف میزائلوں ، رینج اور ان کی ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت سے متعلق تفصیل حسب ذیل ہے ۔سجیل میزائل۔یہ زمین سے زمین تک مار کرنے والا پہلا میزائل ہے جو ایران میں تیار کیا گیا تھا۔ایران کے فوجی ذرائع کے مطابق اس میزائل کی رینج 2000 ہزار کلومیٹر ہے۔اس کو ایرانی فوج کا سب سے بہترین ہتھیار خیال کیا جاتا ہے اور اس کو ایک گشتی پلیٹ فارم سے بھی داغا جاسکتا ہے۔خلیج فارس میزائل۔یہ ایک چھوٹا بیلسٹک میزائل ہے۔ ٹھوس ایندھن کے حامل اس میزائل کی رفتار آواز سے کہیں تیز ہے۔اس کو بحری جہازوں اور زمینی پلیٹ فارم سے داغا جاسکتا ہے۔اس کو خلیج فارس میں بحری جہازوں کے لیے حقیقی خطرہ سمجھا جاتا ہے۔یہ تین سو کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور 650 کلو گرام دھماکا خیز مواد ہدف تک لے جاسکتا ہے۔اس کو پاسداران انقلاب نے ڈیزائن کیا تھا اور ایران کی وزارت دفاع نے اس کو تیار کیا تھا۔شہاب میزائل۔ایران کے تمام میزائلوں میں سب سے معروف شہاب گروپ ( اول ، دوم اور سوم) ہے۔یہ میزائل دو طرح کے ہیں۔ ایک درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے اور دوم طویل فاصلے تک مار کرنے والے۔اسی میزائل گروپ سے ایران کے ہمسایہ ممالک کو حقیقی خطرہ لاحق ہے۔اس سلسلے کا شہاب بی 3 نام کا میزائل 2000 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایران نے شہاب ڈی 3 کے نام سے ایک اور میزائل تیار کیا ہے۔یہ 2200 کلومیٹر سے 3000 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔شہاب پنجم بیلسٹک میزائل۔ایران اس کو بڑا جدید میزائل قرار دیتا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ یہ طویل فاصلے اور دور دراز تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن اس کی حقیقی رینج نہیں بتائی گئی ہے۔شہاب چہارم بیلسٹک میزائل۔بیلسٹک میزائل شہاب چہارم 3000 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایران کا کہنا ہے کہ اس نے اس میزائل کو خلائی مقاصد کے لیے تیار کیا تھا اور یہ خلائی سیارے ( سیٹلائٹس ) لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔اس کو فوجی اور خلائی دونوں مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔قدر میزائل۔قدر میزائل کو ایرانی میزائلوں میں سب سے تیز رفتار سمجھا جاتا ہے۔ایران کا یہ دعوی ہے کہ اس میزائل کا راڈار اور میزائل شکن نظاموں کے ذریعے دنیا میں کہیں بھی سراغ نہیں لگایا جاسکتا ہے۔یہ میزائل 2500 سے 3000 کلومیٹر تک مار کرسکتا ہے۔یہ دو مرحلے کے انجن سے لیس ہے۔اس کا پہلا انجن مائع ایندھن سے چلتا ہے اور دوسرا انجن ٹھوس ایندھن سے چلتا ہے ۔ یہ چین کے ایم 18 میزائل کی ایرانی شکل ہے۔قیام میزائل۔یمن کے حوثی شیعہ باغیوں نے ایران کے مہیا کردہ اس میزائل سے ہی الریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔یہ میزائل مائع ایندھن سے چلتا ہے ۔اس کو کسی گشتی پلیٹ فارم سے چلایا جاسکتا ہے ۔ایران کے دعوے کے مطابق اس کا بھی راڈارز سے سراغ نہیں لگایا جاسکتا ہے۔عاشورا بیلسٹک میزائل۔عاشورا بیلسٹک میزائل 2500 کلومیٹر تک مار کرسکتا ہے۔ایران اپنی میزائلوں کی کھیپ میں اس کو شہزادہ قرار دیتا ہے۔جب ایران نے پہلی مرتبہ اس میزائل کا تجربہ کیا تھا تو امریکا نے کہا تھا کہ اس تباہ کن میزائل سے مشرقی یورپ میں اس کے کسی بھی اڈے کو ہدف بنایا جا سکتا ہے۔

دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments

مزید پڑھیں  سعودی عرب نے پاکستانیوں کیلئے شاندار آفر دیدی