”جب مدرسوں میں مولوی بچوں کے ساتھ۔۔۔۔“ صحافیوں نے خادم حسین رضوی سے ایسا سوال پوچھ لیا کہ غصے سے آگ بگولہ ہوگئے

تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی نے قصور میں زیادتی کا شکار ہونے والی زینب کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کیا ، ان کی پریس کانفرنس کے دوران جب ایک صحافی نے سوال پوچھا کہ آپ زینب کے واقعہ پر تو احتجاج کر رہے ہیں مگر جب فیصل آباد میں ایک مولوی نے بچے کے ساتھ زیادتی کرکے اسے مدرسے کی چھت سے نیچے پھینک دیا تھا ، اس وقت آپ خاموش کیوں رہے؟ صحافی کا یہ سوال سن کر خادم حسین رضوی آگ بگولہ ہوگئے اور میڈیا پر برس پڑے ، ان کا کہنا تھا کہ میڈیا ہی ان تمام جرائم کا مجرم ہے۔ تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی نے زینب واقعے کے حوالے سے پریس کانفرنس کا انعقاد کیا مگر اس پریس کانفرنس میں اس وقت بدمزگی پیدا ہوگئی جب ایک صحافی نے ان سے سوال پوچھا کہ اس سے قبل ایک واقعہ فیصل آباد میں پیش آیا مگر اس واقعے پر آپ نے خاموشی اختیار کئے رکھی ، اس کی کیا وجہ ہے؟ صحافی کا سوال سنتے ہی خادم حسین رضوی کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے زینب کے ساتھ یہ ظلم کیا ، مدارس کے واقعات میں بھی وہی لوگ ملوث ہیں ۔ آپ لوگ کہتے ہیں کہ یہ واقعہ مدرسے میں ہوا تو کیا اس کے پیچھے مولوی ہیں؟ آپ بہت عجیب باتیں کر رہے ہیں ، آپ کو اس کا کتنا درد اٹھا ہوا ہے، جس ایشو پر ہم بیٹھے ہیں اسی پر بات کریں۔ خادم حسین رضوی کا مزید کہنا تھا کہ لوگوں کو فحاشی پر ابھارنے کا کون ذمہ دار ہے؟ کیا مولوی اس کے ذمہ دار ہیں؟ کس نے ننگی پچیاں ناچتے ہوئے ٹی وی پر دکھائیں؟ کس نے اس طرح کی فلمیں دکھائیں؟ کس نے لوگوں کے جذبات ابھارے؟ میڈیا نے ہر انسان کو وحشی بنا دیا ہے۔ مدرسے میں ہونے والے ظلم پر آپ لوگ چیختے ہیں، آپ لوگ مدرسے میں کیمرے لے کر کیوں نہیں گئے؟ آزادی کے نام پر بچیوں کی فلمیں کس نے دکھائیں؟خادم رضوی کا مزید کہنا تھا کہ اس بات کو آپ کیوں نہیں سمجھ رہے کہ ان تمام واقعات کے حکمران ذمہ دار ہیں ۔اگر حکمرانوں نے مسلمانوں کی رہنمائی کی ہوتی تو آج یہ واقعات رونما نہ ہوتے۔

مزید پڑھیں  نگران وزیراعظم ناصرالملک کب تک نگران رہیں گے؟ پڑھیے ایک معلوماتی خبر

دوستوں سے شئیر کریں