ججوں کے فیصلوں سے تنگ آکر اصل سسلئین مافیا کیسی کیسی حرکتیں کرتا تھا ؟پڑھیے تاریخی حقائق کی روشنی میں لکھی گئی ایک تحریر

لاہور(ویب ڈیسک ) پاکستان سمیت دنیا بھر میں ججوں کی زندگی کوئی پھولوں کی سیج نہیں، انتہائی سخت حفاظت میں رہنے والے آرمی چیفس ، حاضر سروس لیفٹیننٹ جنرلز، اعلیٰ سطحی پولیس حکام، موجودہ اور سابق وزرائے اعظم، گورنرز، وزرائے اعلیٰ، عدالتی منصفین اور ان کے اہل خانہ کو معلوم اور نامعلوم ملزمان بلا استثنیٰ ہدف بناتے رہتے ہیں

تاہم نجی ٹی و ی ‘‘ کی حالیہ تحقیقات سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستانی ججوں اور ان کے خاندان کے افراد کو ملنے والی دھمکیوں میں حالیہ سالوں کے دوران اضافہ ہوا ہے۔ ایسے وقت میں جبکہ ہر پاکستانی شہری خود کو دہشت گردی، لاقانونیت اورجرم کی دنیا کی گرفت میں محسوس کرتا ہے وہاں عدالتی ججوں کی سکیورٹی کا سنگین معاملہ بھی اُبھر کر سامنے آیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں انصاف کی فراہمی سخت مشکل ذمہ داری ہے۔ اگرچہ دنیا میں ہرجگہ ججوں کا خاص اثر رسوخ ہوتا ہے تاہم ان کی زندگیوں میں مسلسل دھمکیاں اور دیگر خطرات بھی ساتھ ساتھ ہوتے ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ گزشتہ روز بھی سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کی ماڈل ٹائون لاہور میں رہائش گاہ پر چند گھنٹوں دوران دو بار کچھ نامعلوم افراد نے فائرنگ کی ہے۔ جج کے گھر پر فائرنگ کے دو الگ الگ واقعات کی جہاں پاکستان بھر میں بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی ہے وہاں بہت سی آنکھیں کُھل گئی ہیں کیونکہ جسٹس اعجازالاحسن ناصرف شریف فیملی کے خلاف قومی احتساب بیورو کے دائر کردہ کرپشن ریفرنسز کے مانیٹرنگ جج ہیں بلکہ وہ اس بنچ میں بھی شامل ہیں جس نے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں پاکستان ریلوے کے مکمل آڈٹ کا حکم دیا ہے تاکہ اس قومی ادارے کے 60 ارب روپے کے خسارے کا جائزہ لیا جا سکے جس کے سربراہ بطور وزیر خواجہ سعد رفیق ہیں۔پاکستانی ججوں اور ان کے غیر محفوظ رشتہ داروں اور دیگر عدالتی حکام پر تشدد، دہشت گردی اور ذاتی چپقلش پر حالیہ سالوںمیں پیش آمدہ بڑے واقعات:.زیادہ پرانی بات نہیں جب جنوری 2018ء کو سپریم کورٹ کے جج جسٹس گلزار احمد کے فرزند سعد گلزار کی گاڑی پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی تاہم وہ محفوظ رہے ،


سعد اس وقت اپنے دفتر جارہے تھے جب نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان کی کار کو نشانہ بنایا، ملزمان نے انہیں کار کو روکنے کا اشارہ دیا مگر اُنہوں نے نہ روکی، جس کے بعد ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی، سعدکے محافظوں اور ملزمان کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا تاہم حملہ آور کسی نقصان کے بغیر فرار ہوگئے۔فروری 2017ء کو اس وقت ایک شخص جاں بحق اورچار سول جج (آصف جدون، آصفہ، رابعہ اور تحریمہ) زخمی ہوئے جب ایک خودکش حملہ آور نے پشاور میں اپنا موٹر سائیکل عدالتی وین سے ٹکرادیا، پولیس کا کہنا ہے کہ صوبائی دارالحکومت کے علاقے حیات آباد میں پیش آنے والے اس واقعے میں وین کا ڈرائیور جاں بحق ہوگیا۔جون 2016ء میں سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے فرزند ایڈووکیٹ اویس علی شاہ کے اغوا سے یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان میں ججوں اور ان کے قریبی رشتہ داروں کو کس قدر خطرات درپیش ہیں۔5اگست 2015ء کو نامعلوم افرادنے راولپنڈی میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج طاہر خان نیازی کو قتل کردیا۔نومبر2014ء میں کوئٹہ میں انسداد دہشت گردی جج نذیر احمد لانگو کو لے جانے والی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا اوردھماکے سے ایک شخص چل بسا۔جون 2014ء میں نامعلوم افرادنے کوئٹہ میں فائرنگ کردی جس سے ماحولیاتی ٹریبونل کے جج سخی سلطان جاں بحق ہوگئے۔مارچ 2014ء میں اسلام آباد کی ایک عدالت پر حملے میں درجن بھر افراد جاں بحق ہوئے جن میں ایڈیشنل سیشن جج رفاقت اعوان شامل تھے۔فروری 2014ء میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جیکب آباد خالد حسین شہانی کے بیٹے عاقب شہانی کو قتل کردیا گیا۔26 جون 2013ء کو کراچی میں عسکریت پسندوں نے سندھ ہائی کورٹ کے جج مقبول باقر پر اس وقت حملہ کیا جب وہ عدالت جا رہے تھے تاہم جسٹس باقر محفوظ رہے

مزید پڑھیں  ایک بادشاہ عوام کے حالات جاننے کیلیئے چھُپ کر نکلت...

۔30 اگست 2012ء کو مسلح افرادنے کوئٹہ میں ایک مشتبہ فرقہ وارانہ حملے میں جج ذوالفقار نقوی کو ان کے ڈرائیور اور پولیس گارڈ کے ہمراہ قتل کردیا۔18 مارچ 2012ء کو ایک پولیس اہلکار اُس وقت چل بسا جب ملتان کے شرعی عدالت کے جج کی رہائش گاہ پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کردی۔17 جولائی 2007ء کو کم از کم 17 افراد اُس وقت جاں بحق ہو گئے جب ایک خود کش بمبار نے اسلام آباد میں ڈسٹرکٹ بار کونسل کے کنونشن کے مقام کے باہر خود کو اُڑا دیا ، حملے میں پیپلز پارٹی کے کچھ کارکن بھی جاں بحق ہوئے جو اُس وقت کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی آمد کے منتظر تھے جنہیں وکلاء کنونشن سے خطاب کرنا تھا، یہ حملہ لال مسجد میں خونریزی کے ایک ہفتہ بعد ہوا جس میں 100سے زائد افراد کی جانیں گئیں۔13 مئی2007ء کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر افسر سید حماد رضا کو اسلام آباد میں اُن کے گھر کے قریب قتل کردیا گیا، مقتول افسر اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کے قریبی سمجھے جاتے تھے۔17 فروری 2007ء کو ایک خود کش حملہ آور نے کوئٹہ میں عدالتی کمرے کے اندر حملہ کر کے 15 افراد کے خون سے ہولی کھیلی جن میں جج وحید درانی بھی شامل تھے۔گلگت میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج محمد جمشید جدون کو جون 2006ء میں دن دیہاڑے ایک پبلک پارک میں قتل کردیا گیا۔25 جولائی 2003ء کو سیالکوٹ ڈسٹرکٹ جیل کے اندر 3 سول جج اور 5 قیدی اُس وقت جاں بحق ہوگئے جہاں ماتحت عدالت کے منصفین ماہانہ عدالتی معائنے کے لئے گئے تھے ،


بعد ازاں پولیس نے 10ججوں کو چھڑا لیا جنہیں مسلح قیدیوں نے یرغمال بنا لیا تھا اور وہ ججوں کو چھوڑنے کے بدلے اپنی رہائی کا مطالبہ کررہے تھے، اغوا کار جیل سے محفوظ طور پر نکلنے کے لئے مذاکراتی حکام سے ایک بس اور بندوقوں کا بھی مطالبہ کررہے تھے۔ اس فائرنگ میں جاں بحق ججوں کی شناخت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج صغیر اور شاہد رانجھا و آصف ممتاز چیمہ کے طور پر ہوئی جو سول جج تھے۔2003ء میں اُس وقت کے لاہور ہائی کورٹ کے جج (جو بعد ازاں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اور بعد ازاں سپریم کورٹ کے جج بنے) خواجہ شریف اور ان کی اہلیہ عائشہ شریف پر اُن کے سابق گھریلو ملازم محمد یوسف نے لاہور میں ان کی رہائش گاہ پر تشدد کا نشانہ بنایا۔اس ملازم کو چوری کرنے پر فارغ کیا گیا تھا، جسٹس شریف کو چہرے اور گردن پر چوٹیں آئیں جب رات کے پچھلے پہر اُن پر حملہ کیا گیا جب وہ تہجد کی نماز کے لئے جاگے تھے۔1996ء میں سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نظام الدین اور ان کے فرزند ندیم احمد ایڈووکیٹ کو کراچی میں اُن کی رہائش گاہ کے باہر قتل کیا گیا۔ فردِ جرم میں بتایا گیا کہ یہ دُہرا قتل کراچی کی شاہراہ فیصل پر کراچی کے عوامی مرکز کے قریب ایک پلاٹ پر تنازع کا شاخسانہ تھا جسٹس نظام الدین نے مبینہ طور پر اسے کمرشل کرنے اور اس کی الاٹمنٹ کی مخالفت کی تھی۔جسٹس راشد عزیز خان جو 1997ء سے 2000ء تک لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہے‘ کے فرزند لاہور میں ایک حملے میں شدید زخمی ہوئے۔ذیل میں دنیا بھر میں پیش آنے والے واقعات کی فہرست ہےجن میں ججز یا انکےقریبی فیملی ممبرز کو ناراض مدعیوں

مزید پڑھیں  خاوند کی اپنی بیوی کو نصیحتیں

،اعلیٰ مناصب پر فائز حریفوں یا ڈرگ مافیا کے لوگوں نے قتل کیا یا انہیں نشانہ بنانے کی کوشش ناکام رہی یاپھران پر تشدد ہوا۔فروری 2018ء میں فلاڈیلفیا امریکا میں ایک افریقی امریکی کنٹری جج کلائیڈ ویٹ نے بتایا کہ وہ اپنے گھر پر فون سُن رہے تھے جب ان پر حملہ کیا گیا ،وہ صحیح طور نہیں بتا سکے کہ دراصل ہوا کیا اور یہ کس نے کیا۔ (بحوالہ : دی فلاڈیلفیا انکوائرر)نومبر2017ء میں یوکرینی جج لاریسا گولنیک کوعدالت کی عمارت سے نکلتے ہوئے نامعلوم افراد نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ گولنیک کو مقامی میئر اولیک سینڈرمامائی نے2016ء میں اپنے خلاف کرپشن کا ایک کیس ختم کرنے کے لئےرشوت کی پیش کش کی تھی انہیں اس حوالےسے انکشاف پرجاناجاتاہے۔نومبر2017ء میں ایک برطانوی کنسٹرکشن پراجیکٹ کے سربراہ کو ایک جج رابن ٹولسن پر حملے پر پانچ ماہ جیل ہوئی۔ تشدد سے سرکٹ جج کو خراشیں آئیں اور جسم پر نشانات بھی پڑے۔مذکورہ جج کئی سال سے رابن سنزکیس کی سماعت کررہے تھے۔(بحوالہ دی ٹائمز)مئی 2017ء میں ڈکیتی کا الزام ثابت ہونےپرکٹہرےسےنکل کر جج پر حملے کی کوشش کرنے والے کو14سال قید کی سزا سنائی گئی۔ لوئس کرنڈل نے کرائون کورٹ میں ہنگامہ کھڑا کردیا، قبل ازیں ٹرائل کے دوران انہوں نے جج کی طرف پنسل بھی پھینکی تھی۔2014ء میں دہشت گردوں نے صدام حسین کو سزائے موت سنانے والے معروف جج رئوف عبدالرحمان کو قتل کردیا تھا۔ عراق میں ہی مسلح افراد نے 2006ء میں صدام حسین کا ٹرائل کرنے والے جسٹس محمد العریبی کے برادر نسبتی اور10سالہ بھتیجے کو فائرنگ

کر کے قتل کردیا تھا۔ (بحوالہ ٹیلی گراف)2014ء میں ایک امریکی جج کیتھرین فاریسٹ کو منشیات کی فروخت میں ملوث بدنام زمانہ ویب سائٹ ’’سلک روڈ‘‘ کے مبینہ ماسٹر مائنڈ کے ساتھیوں کی حمایت سے آن لائن قتل کی دھمکیاں ملیں۔ امریکی قومی ریڈیو نے یکم اپریل 2013ء کو انکشاف کیا کہ2012ء میں امریکی فیڈرل جج کو کم از کم1370دھمکیاں موصول ہوئیں۔2013ء میں برطانیہ میں ایک جج جان ڈیووکس پر حملے اور ان کی وگ گرانے کے الزامات پر ایک شخص کو 18 ماہ قید سنائی گئی۔2010ء میں برسلز کی عدالت میں ایک البانیہ کے شہری نے ایک جج اور کلرک کو قتل کردیاتھا۔(بحوالہ بی بی سی )چین میں 2010ء میں اپنےخلاف فیصلے پر انتقاماً ایک شخص نے 3 ججز کو فائرنگ کر کے قتل کردیا۔( بحوالہ : زنہوا نیوز ایجنسی)2009ء میں ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایک امریکی جج سنڈا فاکس پر قتل کے مقدمے کی سماعت کے دوران ایک شخص نے حملہ کیا، وہ معمولی زخمی ہوئے جبکہ پولیس اہلکار نے مجرم کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔2010ء میں جج فاکس نے یہ کہتے ہوئے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کیا کہ وہ جذباتی طور پر بہت خوفزدہ ہیں اور کام نہیں کر سکتیں۔مارچ 2006ء میں ترکی کی عدالت میں سکارف پر پابندی پر ایک انتہا پسند وکیل نے ایک جج کو فائرنگ کر کے قتل کردیا۔

مزید پڑھیں  قرض دار

(بحوالہ :دی گارجین)واشنگٹن پوسٹ کی 19نومبر 2001ء کی رپورٹ کے مطابق دومیکسیکن ججز اور ان میں سے ایک کی اہلیہ کو منشیات فروشوں نے قتل کردیا۔1992ء میں اٹلی میں ایک اطالوی جج گو وینی فالکن اور ان کی اہلیہ جو کہ خود بھی جج تھیں کو سسیلین مافیا نے قتل کردیا جبکہ 3گارڈ بھی ان کے ساتھ ہلاک ہوئے۔ فالکن نے معروف میکسی ٹرائلز(1986-87ء) میں سرگرم کردار ادا کیا جس نے360ڈاک ڈیلرز کو سنگین جرائم پر سزا سنائی۔ان میں سے کم از کم 19سو کو غیر حاضری میں سزا سنائی گئی ۔ ایک اور اطالوی جج پائولو یورسلینو کو فالکن کے قتل کے صرف 57روز بعد مافیا نے کار بم حملے میں قتل کیا۔ انہیں مافیا کے خلاف ریاست کی جنگ کی علامت کے طور پر یارکیا جاتا ہے۔ان دونوں ججز کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے اطالوی شہرپامیروکے ایئر پورٹ کو ان سے منسوب کیا گیا۔حالیہ چند سال میں اعلیٰ اطالوی قانون نافذ کرنے والے حکام سسلین مجسٹریٹس کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے باقاعدگی سے ملتے رہے ہیں جن کی زندگیوں کو سیسلین مافیا کو سانوسٹرا مافیا سے خطرات لاحق ہیں۔کچھ سال پہلے سسلی کے 4 ججز کو اس مافیا کے حوالے تحقیقات کے حوالے سے اعلیٰ سطح کی پولیس کی حفاظتی تحویل میں رکھا گیا۔بھارت میں 2005ء میں پٹیالہ کے ایک ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج وجے سنگھ کو قتل کیا گیا،2012ء میں دہلی میں ٹرائل کورٹ کے 3ججز پر حملوں پر قائم مقام چیف جسٹس اے کے سکری نے واقعے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے تمام جوڈیشل افسروں کو ان کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کے لئے محفوظ ماحول کی یقین دہانی کرائی تھی۔رپورٹ صابر شاہ

دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments