جدید سائنسی تحقیق اور واقعہ معراج

ٹائم ٹریولز یا وقت میں سفر کا تذکرہ بہت ہوتا ہے۔ یہ ایک دلچسپ موضوع ہے جس پر بنی فلمیں عام لوگوں کے لیے سائنس فکشن ہی ہوتی ہیں۔ کیا یہ کہانی سے بڑھ کر بھی کچھ ہے؟ کیا وقت میں سفر ممکن ہے؟ آئیں پہلے آسان لفظوں میں سمجھیں کہ وقت میں سفر Time travel کیا ہے۔

ہمیں جو کچھ بھی نظر آتا ہے وہ روشنی کا کسی چیز سے منعکس ہو کر اس کا عکس ہماری آنکھ کے ذریعے اعصاب تک لے جانے کی وجہ سے ہے۔ روشنی کی رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل یا تقریباً تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے جس کی وجہ سے ہمیں اطراف کے مناظر فوراً نظر آجاتے ہیں۔ اگر کوئی چیز زمین سے تین لاکھ کلومیٹر دور ہے تو اس سے منعکس ہونے والی روشنی کی کرن ہماری آنکھوں تک ایک سیکنڈ میں پہنچے گی، اس طرح ہمیں وہ چیز ایک سیکنڈ پہلے والی نظر آئے گی۔ سورج کا فاصلہ زمین سے 150 ملین کلومیٹر ہے اور اس کی کرن ہم تک تقریباً آٹھ منٹ میں پہنچتی ہے، دوسرے لفظوں میں ہمیں جو سورج نظر آتا ہے وہ آٹھ منٹ پہلے کا ہوتا ہے۔

ٹائم ٹریول کو سمجھنے کے لیے فرض کریں، اگر ہم روشنی کی دگنی رفتار سے سورج جتنے فاصلے پر موجود کسی ستارے یا سیّارے پر جا کر پلٹ آئیں تو ہمارا جانا چار منٹ میں اور واپسی بھی چار منٹ میں ہوگی اور کُل سفر آٹھ منٹ میں ہوگا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہوگی کہ زمین پر پہنچ کر ہم خود اپنے آپ کو واپسی کا سفر کرتے دیکھیں گے! وجہ اس کی یہ ہوگی کہ کیونکہ روشنی کی وہ کرنیں جو ہم سے ٹکرا کے منعکس ہو کر ہماری متحرّک تصاویر images لے کر زمین کی طرف آ رہی تھیں، اُن کو تو قدرتی طور پر ہماری آنکھ تک پہنچنے میں آٹھ منٹ لگنے ہیں جبکہ ہم اُن سے پہلے (چار منٹ میں) روشنی کی دگنی رفتار کی وجہ سے زمین پر آگئے. اس طرح ہمارے متحرّک عکس قدرتی وقت (آٹھ منٹ) میں ہماری آنکھوں میں داخل ہوں گے، جس کی وجہ سے ہم خود کو دیکھ رہے ہوں گے۔ یہی مستقبل یا وقت میں سفر ہے، اسی کو ٹائم ٹریول Time Travel کہا جاتا ہے، یعنی روشنی کی رفتار سے زیادہ تیز رفتار سفرجس میں حال present پیچھے رہ جاتا ہے۔

مزید پڑھیں  Jannat Aur Dozakh Ka Faisla || Must Watc...

اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ انسان وقت میں سفر کرسکے؟ دیکھیے اس دور کے قابل ترین سائنسدان مسٹر ہاکنگ (جو کہ اب مر چکے ہیں) اس بارے میں کیا کہتے ہیں۔

Quote: ‘I do believe in time travel. Time travel to the future. Time flows like a river and it seems as if each of us is carried relentlessly along by time’s current. But time is like a river in another way. It flows at different in different places and that is the key to travelling into the future. This idea was first proposed by Albert Einstein over 100 years ago.

میں وقت میں، مستقبل میں سفر پر یقین رکھتا ہوں۔ وقت ہم سب کو ساتھ میں لیے دریا کی طرح بہتا ہے، لیکن یہ ایک اور طرح سے دریا کی طرح بہتا ہے، یہ مختلف جگہوں پہ مختلف رفتار سے بہتا ہے اور یہی وقت میں سفر کی کلید ہے۔ یہ تصوّر 100 سال پہلے آئن اسٹائن نے دیا۔

وقت میں سفر کے لیے سائنس دان ایک تصّور پر ریسرچ کر رہے ہیں جس میں ایک تصورّاتی خلائی راستہ ہے جو کسی پُر پیچ راستے یاپگڈنڈی پر شارٹ کٹ ہوگا۔ اس مختصر راستے کو Wormhole وورم ہول کا نام دیاگیا ہے۔

WORMHOLES: These space-time tubes act as shortcuts connecting distant regions of space-time. By journeying through a wormhole, you could travel between the two regions faster than a beam of light would be able to if it moved through normal space-time. As with any mode of faster-than-light travel, wormholes offer the possibility of time travel.

وَرم ہول: یہ اسپیس ٹائم ٹیوب Space Time Tube ہے جو کائنات کے دور دراز علاقوں کو ملانے والا ایک چھوٹا راستہ یعنی شارٹ کٹ ہے۔ اس میں سفر کرتے ہوئے آپ روشنی کی اس بیم سے زیادہ رفتار سے سفر کریں گے جو اسپیس ٹائم میں سفر کرتی ہے۔ کسی بھی پیرائے میں وورم ہول میں روشنی سے زیادہ رفتار سے سفر کا مطلب وقت میں ممکنہ سفر ہوسکتا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق نظریاتی طور پر روشنی سے تیز سفر ممکن نہیں لیکن یہ نظریہ اب تک کے حاصل علم کے مطابق ہی ہے۔ کائنات کے ہر لحظہ پھیلنے میں ایک نئے عامل اندھیری توانائی Dark Energy کی ممکنہ موجودگی سے یہ بات بھی ثابت ہوسکتی ہے کہ روشنی سے بھی تیز حرکت ممکن ہے۔ ایک سائنسی نظریہ یہ بھی ہے کہ کائنات روشنی کی رفتار سے زیادہ رفتار سے ہر لحظہ پھیل رہی ہے، جس کے بموجب رفتار کا لامحدود ہونا بھی ممکنات میں ہے۔ یعنی ہم منطقی طور پر رفتار کو روشنی تک محدود نہیں کرسکتے۔

مزید پڑھیں  Dr. Farhat Hashmi - | اسلام میں باندی |

مندرجہ بالا حوالے یہ ثابت کرتے ہیں کہ وقت میں سفر یعنی وقت کو پیچھے چھوڑتے ہوئے آگے بڑھنا فی الحال تھیوری میں قابل عمل جدید سائنسی نظریہ ہے جس پر کسی کو اعتراض نہیں، بس انسان کا مسئلہ اس کی علمی اور عملی استعداد ہے جو کہ فی الوقت محدود ہے۔ یعنی اس سفر کے سائنسی لوازمات کے لیے بے حساب علم اور استعداد کی ضرورت ہے۔

ٹائم ٹریول اور واقعہ معراج
اب اس طرف توجّہ دیں کہ اس کائنات کے خالق نے وقت میں سفر کی نہ صرف عملی مثال قائم کی بلکہ اپنے کلام میں اس کا تذکرہ بھی کردیا ۔ یہ مثال 14 سو سال قبل سفر معراج میں عملاً دکھائی گئی۔ یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایک سپر سائنس یا سپر علم ہمیشہ سے کائنات میں کارفرما ہے جس کی عملی استعداد لامحدود ہے جو ہر کام کرگزرنے کی لامحدود قوّت رکھتی ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:

پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گئی مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے تاکہ اسے اپنی نشانیوں کا مشاہدہ کرائے۔ وہی ہے سب کچھ سننے اور دیکھنے والا۔ ( بنی اسرائیل، آیت1)

غور کریں کہ قرآن انسان کو ایک بظاہر انہونی اور انوکھی بات سے آگاہ کر رہا ہے جو سمجھ میں تو نہیں آتی لیکن جدید سائنسی نظریات آج اس کی تصدیق کر رہے ہیں۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد ؐ نے ایک رات مکّہ سے بیت المقدس کا سفر کیا جس کا قرآن میں تذکرہ کیا گیا ہے، پھر اس کے بعد آپ ؐ وہاں سے آسمان پر ایک انوکھی انتہائی برق رفتار سواری پر تشریف لے گئے، اور مزید یہ تذکرہ بھی اس آیت میں ہے کہ آپ کو کچھ نشانیوں کا مشاہدہ کرایا گیا۔ اس کو سفرِمعراج کہا جاتا ہے جو آج بذات خود بھی ایک نشانی بن کر سامنے آ رہا ہے۔ حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ یہ بات بھی مرقوم ہے کہ جب آپ ﷺ واپس تشریف لائے تو زمین پر وقت وہی تھا یعنی ساکت اور ٹھہرا ہوا تھا حالانکہ آپ بہت طویل وقت یہاں سے غیر حاضر رہے تھے۔ عام علم والے کے لیے یہ ایک ناقابل یقین بات ہے لیکن اس کو ایمان اور معجزے کے ضمن میں لوگوں نے قبول کیا۔ اب اس دور میں علوم کی ترقّی سے ظاہر یہی ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے روشنی کی رفتار سے بھی بہت زیادہ رفتار، سے سفر کیا، اسی لیے زمین پر وقت نہیں گزرا اور آپ ؐ کی واپسی ہوگئی۔ اس کو اوپر بیان کی ہوئی ستارے کی طرف سفر اور واپسی کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ گویا سفر ِمعراج میں کائنات میں رواں عظیم تر اور ہر انسانی سائنس کو مغلوب کر دینے والی سائنس کی قوّت کا ایک مظاہرہ ہوا جس کو جدید انسانی سائنس ابھی سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں  King dared Allah to pour the Rain. Or i ...

قرآن میں اس سفر کا تذکرہ قرآن کے الہامی ہونے کی روشن دلیل ہے۔ ایک نکتہ قابل غور یہ ہے کہ اگر قرآن کسی انسان کی تحریر ہوتا تو وہ شخص ایسی انہونی بات جس کو عام انسان قبول نہ کرے کیوں لکھتا۔ قرآن کو فرسودہ کتاب سمجھنے والے منکرین اور سیکولر دوست جان رکھیں کہ اگر قرآن کسی خالق کا کلام ہے، جو یقیناً ہے، تو پھر وہی خالق ِکائنات ہر سائنس اور علم کا خالق اور اس پر غالب ہے اور اللہ جب چاہے گا، خود اسی جدید سائنس کے ذریعے ہی اپنی تصدیق کرائے گا۔ اُسی رب کا قرآن میں منکرین کو سمجھاتا یہ فرمان مدّنظر رہے۔

”اور ہم انہیں ان کے اندر اور آسمان میں اپنی نشانیاں دکھائیں گے، یہاں تک کے ان کے سامنے عیا ں ہو جائے گا کہ یہی حق ہے، کیا یہ بات کافی نہیں کہ تمہارا رب ہر چیز کا شاہد ہے؟ (سورۃ 41، آیت53)“

دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments