جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کا واقعہ ۔۔۔پاکستان بار کونسل نے بڑا اعلان کر دیا

لاہور(ویب ڈیسک)دن دیہاڑے دہشتگردی نے جہاں عوام میں خوف و حراس پھیلا دیا ہے وہاں سکیورٹی اداروں پر بھی سوال کھڑے کر دیے ہیں سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ واقعہ کیخلاف پاکستان بار کونسل نے کل ملک بھر کی عدالتوں میں ہڑتال کا اعلان کردیاجبکہ

صدر سپریم کورٹ بار نے تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ کردیا۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ رات اور آج صبح پاناما ریفرنس کی سماعت کرنیوالے جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کی گئی ،اس پر پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین کامران مرتضیٰ نے نجی ٹی وی چینل سما نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ججز کو ڈرانے اور دھمکانے کے واقعات بالکل برداشت نہیں کریں گے اور اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔ان کا کہناتھا کہ کل ملک بھر کی عدالتوں میں علامتی ہڑتال کی جائے گی وکلا اپنی بازوﺅں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر پیش ہونگے۔صدر سپریم کورٹ بار پیر کلیم خورشید نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنائی جائے،ان کا کہناتھا کہ ججز کو ڈرانے کے واقعات برداشت نہیں کریں گئے،مستقبل کا لائحہ عمل مشاورت سے طے کریں گے ۔دوسری جانب چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس میاں ثاقب نثار نے غیر قانونی شادی ہال کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ شادی ہالزکے نام پر غیر قانونی قبضے کی اجازت نہیں دینگے، عدالت تعین کرےگی کہ شادی ہال کیلئے کم ازکم کتنی جگہ ہونی چاہیے۔ چیف جسٹس پاکستان

مزید پڑھیں  پی ایس ایل نے میچ کی صورتحال دلچسپ بنادی بارش ہونے کی صورت میں کونسی ٹیم باہرہوگی ،جانیے

نے سپریم کورٹ رجسٹری میں غیرقانونی شادی ہالزسے متعلق ازخودنوٹس کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ کسی غیر قانونی شادی ہال کو نہیں رہنے دیں گے،انہوں نے کہا کہ پہلے سے موجود شادی ہالزکوریگولرائزکرنے کی سفارشات کا جائزہ لیں گے،شادی ہالزکے نام پرغیرقانونی قبضے کرکے پلازے کھڑے کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ عدالت تعین کرےگی کہ شادی ہال کیلئے کم ازکم کتنی جگہ ہونی چاہیے۔دوسری جانب چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے وزراء اور سرکاری افسران کے زیر استعمال لگژری گاڑیوں کے استعمال کا از خود نوٹس لے لیا۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کی بریفنگ کے دوران لگژری گاڑیوں کے استعمال کا نوٹس لیا۔چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے ملک بھر کے وفاقی اور صوبائی محکموں سے لگژری گاڑیوں کے استعمال پر رپورٹ طلب کرلی ہے۔چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ بتایا جائے کتنے وفاقی وزراء معتین کردہ حد سے زیادہ گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں اور کتنے سرکاری افسران کے زیر استعمال عہدے کے حساب سے متعین کردہ حد سے زائد لگژری گاڑیاں ہیں۔سپریم کورٹ نے تمام صوبوں کے کابینہ سیکرٹریز اور وفاقی سیکرٹریز کابینہ کو رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے تمام صوبوں کے ہائیکورٹ کے چیف جسٹسز کے زیر استعمال لگژری گاڑیوں کی بھی رپورٹ طلب کرلی ہے اور تمام ہائیکورٹس کے رجسٹرار کو بھی 15 دنوں میں رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ صحت اور تعلیم کی صورتحال خراب ہے اور افسران لگژری گاڑیوں سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔(ذ،ک)

مزید پڑھیں  پی ایس ایل کافائنل کونسی ٹیم جیتے گی ،بڑی پیش گوئی ہوگئی

دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments