جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کا واقعہ۔۔۔ چیف جسٹس کی اپیل کے بعد وکلاء نے اہم فیصلہ کر لیا

جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کا واقعہ۔۔۔ چیف جسٹس کی اپیل کے بعد وکلاء نے اہم فیصلہ کر لیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)صدر سپریم کورٹ بار پیر کلیم خورشید کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی ہدایات پر ہڑتال کی کال واپس لے لی ہے ،وکلا معمول کے مطابق کل عدالتوں میں پیش ہوں گے۔


اس سے قبل چیف جسٹس آف پاکستان نے مشکل گھڑی میں غیرمتزلزل حمایت پر تمام بار کونسلز سے اظہار تشکر کیا تھا اور کہا تھا کہ کل کی ہڑتال کی کال واپس لی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف عدالتوں میں سائلین کے مقدمات مقررہوچکے ہیں،سائلین ان مقدمات کےلیے دوردرازعلاقوں سے آتے ہیں۔خیال رہے صدر سپریم کورٹ بار نے سپریم کور ٹ کے جج جسٹس اعجازالاحسن کی رہائش گاہ پر دو بار فائرنگ کا واقعہ پیش آنے کے بعد ہڑتال کا اعلان کیا تھا ۔عدالتی اعلامیے کے مطابق فائرنگ کا واقعہ ہفتے کی شب اور اتور کو علی الصبح پیش آیا،واقعے کے بعد چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار، جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پہنچے اور وہ اس معاملے کی نگرانی خود کررہے ہیں۔دوسری جانب اس واقعے کا مقدمہ تھانہ ماڈل ٹاون میں کانسٹیبل آصف کی مدعیت میں درج کیا گیا،پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ نا معلوم حملہ آوروں کے خلاف درج کیا گیا جس میں دہشت گردی اور اقدام قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔جبکہ دوسری جانب واقعے کے بعد چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار جسٹس اعجازالاحسن کی رہائش گاہ پہنچ گئے ہیں اور صورتحال کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز خان کو بھی جسٹس اعجازالاحسن کے گھر طلب کر لیا ہے۔

مزید پڑھیں  indian new country

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پر فائرنگ کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب پولیس سے رپورٹ طلب کرلی ہے اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔ادھر اسلام آباد میں بھی ججز کی سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے جبکہ ججز انکلیو کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کو مزید الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایس ایس پی سیکورٹی جمیل ہاشمی سیکورٹی کی خود نگرانی کررہے ہیں۔ سپریم کورٹ بار نے جسٹس اعجازالاحسن کے گھر پر فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جج کے گھر پر یوں فائرنگ ہونا افسوسناک عمل ہے، ججز کی سیکورٹی پر خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔دو روز سے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل دو رکنی بنچ از خود نوٹسز کی سماعت کررہا ہے۔ گزشتہ روز بھی بنچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں انصاف کی فوری فراہمی اور روزانہ سماعت کا حکم دیا تھا۔ واضح رہے کہ چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے جسٹس اعجاز الاحسن کو پاناما کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے نگراں جج تعینات کیا تھا۔ وہ پاناما فیصلے پر عملدرآمد کے لیے نگراں جج کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور شریف خاندان اور اسحاق ڈار کے خلاف نیب میں دائر ریفرنسز میں پیش رفت کو مانیٹر کر رہے ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن 28 جولائی کو وزیراعظم نواز شریف کو نااہل کرنے کا فیصلہ سنانے والے 5 رکنی لارجر بینچ کا بھی حصہ تھے۔

مزید پڑھیں  اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک اور معصوم فلسطینی شہید


دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments