جنرل ضیاء کی سیاسی نشا نی نواز شریف سے 1990 میں ایسی کیا غلطی ہوئی جو آج انکے گلے کا پھندا بن چکی ہے ؟ پاک فوج کے ریٹائرڈ کرنل کی حقائق پر مبنی یہ تحریر ملاحظہ کریں

لاہور(ویب ڈیسک)نامور دفاعی تجزیہ نگار لیفٹیننٹ کرنل(ر) غلام جیلانی خا ن اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں۔۔۔ کل 11جولائی 2018ء کا روزنامہ ’’دی نیویارک ٹائمز‘‘ دیکھئے۔ اس کے صفحہ اول پر ایک کالم شائع ہوا ہے جو عباس ناصر صاحب کے قلم سے ہے۔وسعت اللہ خان تو ڈان ٹی وی کے

ایک ٹاک شو میں بھی روزانہ جلوہ فرما ہوتے ہیں، ساتھ ہی ان کی تحریریں بی بی سی کے اردو پروگرام میں بھی بار پاتی ہیں اور برصغیر کے اردو دان اور اردو خوان طبقے کی اکثریت ان تحریروں اور تبصروں سے مستفید ہوتی ہے جبکہ جناب ناصر عباس بھی روزنامہ ڈان کے ایک سابق ایڈیٹر ہیں۔ اب یہ بین الاقوامی میڈیا میں کالم رقم فرماتے ہیں۔۔۔۔ 11جولائی کو شائع ہونے والے ان کے کالم کے یہ حصے ملاحظہ فرمایئے:1۔ 25جولائی کے عام انتخابات سے دو ہفتے پہلے پاکستان ایک اور سیاسی طوفان کی زد میں ہے۔2۔اگر نون لیگ کے ’’سٹار مقررین‘‘(نواز شریف اور مریم نواز) اس الیکشن میں حصہ نہیں لیتے تو نواز شریف اور ان کی بیٹی کی سزا اور ان کی آنے والے دنوں میں گرفتاری، انتخابی موسم کو شکوک و شبہات سے لبریز کر دے گی اور نتائج پر بھی اثر انداز ہوگی۔3۔ دیکھا جا رہا ہے کہ انتخابی مہم کی میڈیا کوریج کو ملٹری کی طرف سے ڈکٹیٹ کرنے کی پریکٹس کتنے پانی میں ہے۔ ملٹری کو اس نظر سے بھی دیکھا جا رہا ہے کہ وہ عدلیہ کے ساتھ مل کر مسٹر شریف اور ان کی پارٹی پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے اور سابق کرکٹر مسٹر خان

مزید پڑھیں  پاکستان سمیت 23ملک کی فوجیں سعودی عرب جا پہنچیں،، جدید ترین ہتھیار نکال لیے گئے،،کیا ہونے والا ہے؟؟اہم رپورٹ

اور ان کی پارٹی (PTI) کو پروموٹ بھی کر رہی ہے۔4۔ مسٹر شریف اور ان کی فیملی کے خلاف مبینہ الزامات، جو پانامہ پیپرز سے شروع ہوئے تھے، ان کی تحقیقات کرنے کے لئے سپریم کورٹ نے اپریل 2017ء میں ایک ٹیم (JIT) تشکیل دی تھی جس میں ’’پُراسرار طریقے‘‘ سے پاور فل آئی ایس آئی (ISI) اور ملٹری انٹیلی جنس (MI) کے آفیسرز بھی شامل کئے گئے۔5۔عبوری حکومت کے وزیر قانون (بیرسٹر علی ظفر) نے کہا ہے کہ مسٹرشریف اور ان کی صاحبزادی کو لاہور ائرپورٹ پر اترتے ہی گرفتار کر لیا جائے گا۔6۔مسٹر شریف کے حریف مسٹر خان، مذہبی انتہا پسندوں کی حمائت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔7۔ملک کے تین صوبوں(کے پی ، بلوچستان اور سندھ) کی تاریخ اب تک یہی رہی ہے کہ وہ مرکز کے خلاف مزاحمت کرنے کے عادی ہیں اور ملٹری کے خلاف کھڑا ہونے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔ لیکن پنجاب نے اس قسم کے رجحان کی کبھی حوصلہ افزائی نہیں کی۔غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ ملٹری میں پنجابی افسروں اور جوانوں کی اکثریت ہے۔8۔مسٹر شریف پنجاب کے وہ پہلے مقبول لیڈر ہیں جو ملٹری کے خلاف مزاحمت کے لئے کھڑے ہوئے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا پنجاب کے

مسٹر شریف اور ان کی بیٹی اس تصادم میں پنجاب کا یہ الیکشن جیتتے ہیں یا پنجاب، پاکستانی ملٹری کی ہدایات پر عمل کرتا ہے۔میں سمجھتا ہوں عباس ناصر کا یہ کالم ایک طرح سے کچھ کچھ متوازن بھی ہے۔ مثلاً ان کے اسی کالم کے ان فقرات پر بھی غور کیجئے:1۔مسٹر شریف کی حکومت نے انتخاب میں حصہ لینے والوں کے لئے حلف نامے میں جو تحریف کی تھی اسے ’’کلرکانہ غلطی‘‘ قرار دیا گیا ہے۔2۔عجیب اتفاق دکھیئے کہ مسٹر نواز شریف نے 1980ء میں اپنا سیاسی کیرئیر جنرل ضیاء الحق کے سایہ ء عاطفت میں شروع کیا۔ اور اپنی دولت کا زیادہ حصہ اسی عشرے (1980ء تا 1990ء) میں اکٹھا کیا کہ جب وہ بے نظیر اور ان کی پارٹی کو نیچا دکھانے میں پیش پیش تھے۔اب 11جولائی کے ایک انگریزی روزنامے ڈیلی ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک کالم کا ذکر کرتے ہیں جس کے مصنف واجد شمس الحسن ہیں۔ چونکہ یہ اخبار پی پی پی کا ترجمان تصور کیا جاتا ہے اس لئے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ پی پی پی کے وابستگانِ دامن کا نقطہ ء نظر موجودہ صورتِ حال پر کیا ہے۔ اس کالم کا عنوان ہے: Spies, Soldiers and Academics اس کے درج ذیل حِصیّ دیکھئے:

مزید پڑھیں  سعودی حکومت کی حراست میں انتہائی اہم شخص انتقال کرگیا کیونکہ۔۔۔ ایسا دعویٰ منظر عام پر آگیا کہ پورے ملک میں کھلبلی مچ گئی

1۔ مجھے جنرل درانی سے ملاقات کے چند مواقع ملے۔ ہم دونوں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے تعینات کردہ سفیر تھے۔1993ء کے اواخر اور 1994ء کے اوائل میں، جنرل درانی کو بون (جرمنی) میں اور مجھے برطانیہ میں سفیر مقرر کیا گیا۔2۔جنرل درانی بڑے دبنگ انسان ہیں۔ لگی لپٹی نہیں رکھتے اور قومی مسائل پر کھل کر اظہارِ خیال کرتے ہیں۔تاہم میرے دل میں ان کا احترام اس وقت عروج کو پہنچ گیا جب انہوں نے بغیر کسی خوف کے ، یہ انکشاف کیا کہ 1990ء کے الیکشنوں میں بے نظیر بھٹو کی لینڈ سلائڈ وکٹری کو اس وقت کے آرمی چیف جنرل اسلم بیگ اور صدر غلام اسحاق خان نے مل کر ایک سازش کرکے روکا تھا۔ اس سے پہلے 1988ء میں بھی جنرل درانی کے پیشرو جنرل حمید گل نے بیگ اور اسحاق سے مل کر اپنے کٹھ پتلی میاں نوازشریف کی قیادت میں IJI بنائی تھی۔3۔جنرل درانی نے ہر چیز ریکارڈ پر لانی شروع کی اور اس رقم کی تفصیل دی جو نوازشریف اور دوسروں کو بے نظیر کو شکست دینے کے لئے دی گئی تھی۔ مرحوم ائر مارشل اصغر خان اور سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کے شور مچانے کا بھی کچھ اثر نہ ہوا۔

مزید پڑھیں  بدلتے ہوئے ، ماڈرن اور فیشن ایبل سعودی عرب کی یہ چند تصاویر آپ کو دنگ کر ڈالیں گی

4۔یہ ایک خدائی انتقام ہے کہ جنرل ضیاء الحق کے سیاسی وارث نوازشریف نے جو گناہ 1988ء اور 1990ء کے الیکشنوں میں کئے تھے ان کی سزا ان کو اب کرپشن کی صورت میں مل رہی ہے۔5۔تاہم آخر میں یہی کہوں گا کہ وہ (نادیدہ قوتیں) جو یہ ساری انجینئرنگ کر رہی ہیں، لوگوں کو بہکا کر بھگوڑا بنا رہی ہیں اور اس طرح کی دوسری چھیڑ خانیاں کر رہی ہیں، ان کے لئے مشکل وقت آ رہا ہے۔ وہ بھی کیا یاد کریں گی کہ کس بھینسے کو انہوں نے مشتعل کر دیا ہے!

قارئین گرامی! اس طرح کی آلودہ اور آتش زیرِپا میڈیائی صورتِ حال میں اگر کوئی کالم نگار غیر جانبداری کا خواہاں ہو تو اس کے لئے غیر سیاسی موضوعات ہی باقی رہ جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ میری ترجیح غیر سیاسی اور بالخصوص اپنے خطے کی عسکری صورتِ حال وغیرہ کے بارے میں ہوتی ہے۔(ش۔ز۔م)

دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments