”جو حضورﷺ کے بارے میں بات کرے وہ۔۔۔“ علامہ خادم حسین رضوی سے گالیاں دینے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے ایسا جواب دیدیا کہ محمد مالک بھی حیران پریشان رہ گئے، جان کر آپ بھی ہکا بکا رہ جائیں گے

تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کا کہنا ہے کہ جہاں گالی دینے کی ضرورت ہو وہاں گالی دینا پڑتی ہے۔ جہاں کوئی حضورﷺ کی بات کرے، جواب میں اسے پھول نہیں دیں گے اور پھولوں کا ہار نہیں پہنائیں گے ۔

آپ نے دیکھا ہو گا کہ سوشل میڈیا پر بھی اور ویسے بھی کافی اعتراضات آتے ہیں کہ آپ جو زبان استعمال کرتے ہیں وہ کافی تلخ ہوتی ہے اور اس میں گالیاں بھی نکال دیتے ہیں۔
اس سے پہلے تو ہم نہیں دیکھا کہ جو اہل دین ہوں اور عالم لوگ ہوں، وہ گالیاں نکالیں۔ گالی نکال کر پھر اسی جملے میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کی بات ہو تو تھوڑی سی پریشانی تو ہوتی ہے۔
میں سیدھی بات بتاتا ہوں کئی بار آپ ایسی باتیں کرتے ہیں کہ جو میرے والد بھی میرے کمرے میں کریں تو میں نہیں سن سکتا۔ یعنی وہ ایک طرف اللہ اور رسولﷺ کی بات کر رہے ہوں اور اسی جملے میں وہ پنجابی کی بھر کے گالی بھی نکال دیں ، تو یہ دونوں چیزیں اکٹھی کیسے چل سکتی ہیں؟“
اس پر علامہ خادم حسین رضوی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ”کیا میں نے اس لئے گالی دی ہے کہ نواز شریف نے مجھے پیسے نہیں دئیے؟ مجھے سنائیں کہ میں نے کیا کہا تھا، میں آپ کو کلیات اقبال سے اقبال کی گفتگو سناتا ہوں، کیا اقبال عالم دین نہیں تھا ؟ جہاں گالی دینا ہو وہاں دینی پڑتی ہے۔ گالی جائز تو نہیں لیکن جہاں کوئی حضورﷺ کی بات کرے، اس کے جواب میں اسے پھول دینے ہیں؟ یا اس کے گلے میں ہار ڈالیں؟

تسلیمہ نسرین کا ایک جملہ آپ کے سامنے بیان کروں تو آپ مجھے قتل کر دیں گے، اُس نے حضورﷺ کے بارے میں ایسی گفتگو کی ہے۔ سلمان رشدی کی کتاب میرے پاس موجود ہے، اس کا ایک جملہ نہیں پڑا جا سکتا، میں اپنی ذات کیلئے جلال میں نہیں آتا۔ “

۔۔۔ویڈیو دیکھیں۔۔۔

Comments

comments