حیران کن بچا جو پیدا ہوتے ہی ٨٥ سال کا دیکھتا تھا

شوہر کا بیوی سے کتنے دن دور رہنے پر نکاح ٹوٹ جاتا ہے مکمل مسئلہ جانین شوہر کا بیوی سے کتنے دن دور رہنے پر نکاح ٹوٹ جاتا ہے مکمل مسئلہ جانین بیرون ملک جاب کرنے والوں کو 1سال بعد اور بعض کو دو سال بعد چھٹی ملتی ہے اور بعض افراد تو پیسے کی لالچ میںجلدی واپس جاتے ہی نہیں ہیں۔ ایک شادی شدہ مرد زیادہ سے زیادہ کتنی مدت تک بیوی سے دور بیرون ملک قیام کر سکتا ہے، دور جدید کے مطابق احسن و افضل عمل کیا ہے؟ تاریخ الخلفامیں جلال الدین سیوطی رحم اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ ذکر کیا ہے کہ آپ رات کے وقت گشت کر رہے تھے تو ایک گھر سے ایک عورت کی آواز آرہی تھی اور وہ کچھ اشعار پڑھ رہی تھی۔

مفہوم یہ تھا کہ اس کا شوہر گھر سے کہیں دور چلا گیا تھا اور وہ اسکے فراق میں غمزدہ تھی۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ گھر آئے اور اپنی زوجہ سے دریافت کیا کہ شادی شدہ عورت شوہر کے بغیر کتنی مدت صبر کر سکتی ہے تو زوجہ نے جواب دیا کہ تین سے چار ماہ۔ آپ نے حکم جاری کر دیا کہ ہر فوجی کو چار ماہ بعد ضرور چھٹی دی جائے تاکہ ہر فوجی اپنی بیوی کا حق ادا کر سکے۔ (تاریخ الخلفا : 142) علماکرام فرماتے ہیں کہ چار ماہ تک اگر شوہر عورت کا حق ادا نہ کرے تو عورت کو حق حاصل ہے کہ وہ خلع کا مطالبہ کرے یہ اس صورت میں ہے جب عورت راضی نہ ہو۔

مزید پڑھیں  فلسطینیوں کا قتل عام۔۔ترکی نے عالم اسلام کی رہنمائی کا حق ادا کر دیا شیر اسلام ترک صدر طیب اردوان کے حکم پر اسرائیلی سفیر کے بعد ایسی یہودی شخصیت کو ملک چھوڑنے کا کہہ دیا گیا کہ اسرائیل دانت پیس کر رہ گیا

اس لیے شوہر کو چاہیے کہ وہ عورت کو راضی رکھے اور ہوسکے تو کم از کم سال میں ضرور اپنے گھر کا چکر لگائے ، اگر ممکن ہو تو عورت کو اپنے ساتھ ہی رکھے۔ باہمی رضامندی سے اگر زیادہ وقت دور رہ سکتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر فتنہ کا خوف ہو تو پھر رضامندی بھی بے فائدہ ہے کیونکہ زیادہ عرصہ تک گھر واپس نہ آنا بہت سے نقصانات کا باعث بن سکتا ہے۔
شوہر کا بیوی سے کتنے دن دور رہنے پر نکاح ٹوٹ جاتا ہے مکمل مسئلہ جانین شوہر کا بیوی سے کتنے دن دور رہنے پر نکاح ٹوٹ جاتا ہے مکمل مسئلہ جانین بیرون ملک جاب کرنے والوں کو 1سال بعد اور بعض کو دو سال بعد چھٹی ملتی ہے اور بعض افراد تو پیسے کی لالچ میںجلدی واپس جاتے ہی نہیں ہیں۔ ایک شادی شدہ مرد زیادہ سے زیادہ کتنی مدت تک بیوی سے دور بیرون ملک قیام کر سکتا ہے، دور جدید کے مطابق احسن و افضل عمل کیا ہے؟ تاریخ الخلفامیں جلال الدین سیوطی رحم اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ ذکر کیا ہے کہ آپ رات کے وقت گشت کر رہے تھے تو ایک گھر سے ایک عورت کی آواز آرہی تھی اور وہ کچھ اشعار پڑھ رہی تھی۔
مفہوم یہ تھا کہ اس کا شوہر گھر سے کہیں دور چلا گیا تھا اور وہ اسکے فراق میں غمزدہ تھی۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ گھر آئے اور اپنی زوجہ سے دریافت کیا کہ شادی شدہ عورت شوہر کے بغیر کتنی مدت صبر کر سکتی ہے تو زوجہ نے جواب دیا کہ تین سے چار ماہ۔ آپ نے حکم جاری کر دیا کہ ہر فوجی کو چار ماہ بعد ضرور چھٹی دی جائے تاکہ ہر فوجی اپنی بیوی کا حق ادا کر سکے۔ (تاریخ الخلفا : 142) علماکرام فرماتے ہیں کہ چار ماہ تک اگر شوہر عورت کا حق ادا نہ کرے تو عورت کو حق حاصل ہے کہ وہ خلع کا مطالبہ کرے یہ اس صورت میں ہے جب عورت راضی نہ ہو۔

مزید پڑھیں  ’قندوز مدرسے پر امریکی بمباری سے سینکڑوں حفاظ کرام کی شہادت‘‘ نبی کریمﷺ کے دور میں جب بڑی تعداد میں حفاظ شہید ہوئے تو آپ ؐ نےکیا کام کیا تھا، ایسی سنت رسولؐ جسے اداکرنے پر گھر بیٹھے ہی آپ ہزاروں شہدا جتنا ثواب پا لینگ

اس لیے شوہر کو چاہیے کہ وہ عورت کو راضی رکھے اور ہوسکے تو کم از کم سال میں ضرور اپنے گھر کا چکر لگائے ، اگر ممکن ہو تو عورت کو اپنے ساتھ ہی رکھے۔ باہمی رضامندی سے اگر زیادہ وقت دور رہ سکتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر فتنہ کا خوف ہو تو پھر رضامندی بھی بے فائدہ ہے کیونکہ زیادہ عرصہ تک گھر واپس نہ آنا بہت سے نقصانات کا باعث بن سکتا ہے۔

مزید پڑھیں  ٹرمپ کی ساری کوششیں ناکام۔۔۔امریکہ میں اسلام تیزی سے پھیلتاجارہا ہے:اس وقت امریکہ اسلام کے لحاظ سے کتنے نمبر پر جان کرتمام مسلمانوں کو اپنے مذہب پر فخر ہوگا

دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments