خادم حسین رضوی کی دوبارہ دبنگ انٹری

 تحریک لبیک یارسول اللہ کے قائدین علامہ خادم حسین رضوی اور پیر محمد افضل قادری نے کہا ہے کہ بِک جانے والے ہوتے تو ختم نبوت دھرنا فیض آباد کے موقع پر غیبی و روحانی امداد نازل نہ ہوتی اور نہ ہی اسم محمدﷺ آسمان پر لکھا جاتا. سودے بازی کرتے تو آپریشن، شہادتیں، وفاقی وزیر قانون کا استعفیٰ نہ ہوتا اور نہ ہی سیون بی اور سیون سی ختم نبوت سے متعلقہ شقیں بحال ہوتیں.ان خیالات کا اظہارانہوں نے شہید ختم نبوت ابوسفیان آف پنڈی بھٹیاں کے گھر فاتحہ خوانی کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا. انہوں نے کہا کہ ختم نبوت مارچ و دھرنے میں جانے سے قبل ہم دونوں نے مسجد میں دعا کی تھی کہ اگر ذاتی مفاد یا دنیاوی مقصد کیلئے نکلے ہوں تو یا اللہ ہمیں راستے میں ہی موت دے دینا.انہوں نے مزید کہا کہ تحریک لبیک اور حکومت پاکستان وحکومت پنجاب کے درمیان معاہدوں پر مکمل عمل درآمد تک قوم مطمئن نہیں ہوگی. علامہ خادم حسین رضوی اور پیر محمد افضل قادری نے مزید کہا کہ تحریک لبیک یارسول اللہ نے ختم نبوت وناموس رسالت ﷺ پر حملہ ناکام بنایا تو دین دشمن قوتوں، انکے آلہ کاروں اور مخالفین نے تہمتوں کا سلسلہ شروع کردیا. لیکن غلامان رسول افواہوں اور ناجائز تہمتوں کی بجائے اپنے عظیم دینی مشن کی طرف توجہ دیں. ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حلوے بند نہیں ہوسکتے لیکن دین تخت پر آیا تو شراب بند ہوجائیگی.دوسرے سوال کے جواب میں کہا کہ دھرنا کسی شخصیت کی فنڈنگ یا کہنے پر نہیں ہوا پھر بھی کوئی الزام تراشی کرتا ہے تو لعنة اللہ علی الکاذبین. اس موقع پر ختم نبوت دھرنا کے دوران پنڈی بھٹیاں احتجاج میں شہید ہونے والے ابوسفیان کے گھر فاتحہ خوانی کی گئی نیز تحریک لبیک یارسول اللہ کی طرف سے پانچ لاکھ عطیہ پیش اور ماہانہ دس ہزار خدمت کا اعلان کیا گیا.

دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments

مزید پڑھیں  رانا ثنا نے شریف خاندان میں پھوٹ ڈال دی نواز شریف اور شہباز شریف میں اختلافات سامنے آگئے