دل سے فیصلے کرنے والے اور دماغ سے فیصلے کرنے والے کون لوگ ہوتے ہیں؟ہاتھوں میں سب سے نمایاں نظر آنے والی وہ لکیریں جو کسی بھی انسان کی خوبیوں اور خامیوں کا پتہ دیتی ہیں

دوسروں کی شخصیت کو پرکھنے اور ان کی شخصیت کا جائزہ لینے کے لئے اب بہت سے نفسیاتی اور سائنسی طریقے رواج پاچکے ہیں لیکن ایک ماہر پامسٹ محض ہاتھ اور لکیریں دیکھ کر یہ مسئلہ حل کرسکتا ہے۔

اب تو کئی پروفیشنل ادارے بھی اچھے ملازمین رکھنے سے پہلے پرسنیلٹی کا جائزہ لینے کے لئے ماہرین کی مدد حاصل کرتے ہیں۔ اگر کسی کو اپنی ضرورت کے مطابق سٹاف چاہئے تو اسے چاہئیے کہ وہ اس بات کا جائزہ لے کہ کیااسکو جذباتی لوگ رکھنے

ہیں یا دماغ سے کام لینے والوں کی ضرورت ہے۔ کسی بھی ورکر کا یہ رویہ کسی بھی ادارے کی ترقی اور بہتری میں خرابی اور بھلائی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔
آپ نے کئی ہاتھوں پر یہ لکیر تو دیکھی ہوگی کہ دل اور دماغ کی لکیریں باہم ایک دوسرے میں ضم نظر آتی ہیں۔یہ شروع سے آخر تک ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتیں۔دست شناسی کے علوم میں ایسی لکیر حیرت انگیز ہوتی ہے ،یہ لوگ دل اور دماغ سے بیک وقت سوچتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ہر دس میں سے ایک انسان کی یہ لکیریں ایک جیسی ہوتی ہیں۔بعض محقیقین کا کہنا ہے کہ ایسی لکیر بندروں میں پائی جاتی تھی۔یہی وجہ نظر آتی ہے کہ جن ہاتھوں میں ایسی لکیر موجود ہو وہ انتہائی چست ،بے چین اور عیار ہوتے ہیں ۔دل و دماغ کی ایک لکیر ہاتھ کو دوواضح حصوں میں واضح طور پر تقسیم کرتی ہے۔ ان کے نیچے اور اوپر بھی کئی لکیریں موجود ہوتی ہیں ۔ایسی لکیر کی موجودگی والا دل اور دماغ دونوں سے یکساں کام لیتا ہے اور انتھک ہوتا ہے۔ایسے ورکر جس ادارے میں موجود ہوں بڑی توانائی سے کام کرتے ہیں۔
ایک ایسی واضح لکیرجو دل سے پھوٹ کر دماغ کی طرف جاتی اور اس کے آغاز میں جا کر پیوست ہوجاتی ہے تو ایسا فرد اپنے تمام کام دل کے تحت جذباتی طور پر ادا کرتا ہے ۔ منطق ،دلیل کو بہت کم بروئے کار لاتا ہے ۔ اسکی زندگی میں جذبات زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں اور اسکے ہر کام میں جذباتی عنصر زیادہ ہوتا ہے۔ تاہم اگر ایک واضح لکیر دماغ کی لکیر سے نکلے اور دل کی لکیر میں جاکر ضم ہوجائے تو ایسا انسان اپنے فیصلوں میں پوری دماغی قوت خرچ کرتا ہے۔

مزید پڑھیں  آدمی نے یہ انڈہ توڑا تو اندر سے کیا نکلا؟ ایسا منظر آپ نے کبھی زندگی میں نہ دیکھا ہوگا، ویڈیو نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی

دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments