رات ریت اور راز قسط نمبر 1

شہاب ثاقب کا وہ ٹکڑا باضد تھا وہ اس سیارے پر انسان دیکھنا چاہتا تھا چاند نے اسے منع کیا کہ تم وہاں جاکر مایوس ہوجائو گے اور ناکام واپس لوٹو گے مگر وہ بصد تھا کہ انسان کی محبت کیا چیز ہوتی ہے میں اے پاس سے دیکھنا چاہتا ہوں چاند کہنے لگا میں نے تجھے ان کی فطرت سے آگاہ کردیا ہےجاری ہے

کہ ان کے درمیان ہوس اور لالچ ہے وہ خود غرض اور لالچی ہیں اپنی خواہشات میں جکڑے ہوئے تم ان کے درمیان خوش نہیں رہو گے مگر اس کی ایک ہی صند تھی کہ میں ایک دفعہ ضرور اس سیارے پر جائوں گا جب کوئی چارہ کار آمد نہ ہوا تو چاند کو اس چہاط ثاقب کو زمین پر بھیجنا ہی پڑا مگر ٹھیرو تمہیں ان میں ان جیسا بن کر رہنا پڑے گا ان کی سی شکل والا وہ دلچسپی سے اس چمکتے سیارے کو دیکھ رہا تھا جسے زمین کہتے ہیں اور ہاں اگر تم وہاں خوش نہ ہو سکو تو لوٹ آنا مگر مجھے یقین ہے کہ تم اپنی ضدمیں ہار کر واپس آئو گے چاند مسکرایا شہاب ثاقب کا ٹکڑا چمکتی آنکھوں سے سیارے کو دیکھ رہا تھا جائو اور میری بات یاد رکھا جب مایوس ہو جائو تو لوٹ آنا چوہدری سرتاج نے لکڑیاں کے بڑے گٹھڑ کو جمع کیا اور رسی سے باند ھ دیا ایک دوسرے سے جکڑگئے وزن دو ڈھائی من سے کم نہیں تھا لیکن چوہدری نے اس طرح لپیٹ کر رکھ دیا جیسے اس کا وزن ایک سے زیادہ نہ ہو اور خود گھاس کے درمیان بیٹھ گیا یہاں سے گھاس کاٹنے پر کوئی پابندی نہیں تھی رات کے وقت ایک تو موسم ٹھیک تھا گرم نہیں تھی اور دوسرا وہ سکی کی نظروں میں آئے بغیر اپنی مرضی سےگھاس کاٹ سکتا تھا اس کے ہاتھوں تیزی سے گردش کرنے لگے اور گھاس جانوروں کے لیے جمع کرنے لگا تھوڑی دیر کے بعد اس کام سے فارغ ہوگیا ایک بڑی سی چادر میں اس نے کئی گھاس جمع کی اور پھر اسے چھکٹرے پر ڈالا دیا پھر جیب سے ایک بڑی سی بیڑی اور ماچس نکالی اور ایک درخت کی طرف بڑھ گیا جو اس کی پسندیدہ جگہ تھی درخت کی ج میں بیٹھ کر اس نے گہری گہری سانسیں لی اور بیڑی سلگالی اور سلنگے لگی سرتاج گہرے سانس لیے اور درخت کے تنے سے کمر ٹکالی اس کام سے وہ تھک چکا تھاجاری ہے

مزید پڑھیں  mardana timimg ab ghanton mein,bivi khu...

مگر یہ کام بھی ضروری تھا ہفتے بھر کا راشن جمع ہوگیا اس کی بکریوں گائے کے لیے کافی تھا چوہدری نام کا ہی چوہدری تھا ورنہ گائوں کا ایک غریب آدمی دو بیٹیوں کا بوجھ عمر کی زیادتی سے کمر جھک چلی ھی مگر کام میں ماہر تھا ظاہر ہے اور کون کرتا بیٹھے بیٹھے اسے سنسنا ہٹ سنائی دی اس کی نگائیں اوہر اٹھ گئیں ایک عجیب سی لکیر تھی چمکتی ہوئی سونے کی مانند لکیر صرف ایک لمحے کے لیئے چمکی جیسے بجلی چملی ہو اور پھر زمین پر پڑی جیسے کوئی چٹان گری ہو چوہدری ڈر گیا چوہدری مضبوط اعصاب کا آدمی مگر کچھ گھبرا گیا یہ کیا تھا کہاں سے آیا اس نے کئی بھیڑئیے اور سور اپنے ہاتھوں سے ہلاک کیے تھے وہ تیزی سے آگے بڑھا پاس کے کھیت میں جہاں وہ چیر گری آن کی آن میں چوہدری وہاں پہنچ گیا یہ کیا تھا وہ حیرت سے اچھل پڑا اس نے ناقابل یقین چیز دیکھی ایک انوکھی چیز جو اس کی سمجھ میں نہ آنے والی تھی دیکنے میں وہ انسان ہی لگتا تھا اس کے بدن میں چھوٹے سوراخ تھے جن سے روشنی کی کرنیں آرہی تھیں جیسے سونے کا رنگ ہو سرتاج سب کچھ بول گیا وہ سونے کو مجسمہ تھا سرتاج جے سر ہر تاج جگمگانے والا تھا وہ اپنے آپ کو قسمت کا دھنی سمجھنے لگا وہ سونے کا ایک مجسمہ تھا وہ بےجاری ہے

مزید پڑھیں  پاؤں کی انگلیوں سے شخصیت کے بارے میں جانیں‌

حس و حرکت پڑا تھا س کے ہاتھ پائوں مڑے ہوئے تھے اسے اپنی بدرنگ پگڑی کچا مکان اور گھر بیٹھی دو بیٹیوں کے نصیب کھلتے نظر آئے وہ خوشی خوشی مجسمے کو اُٹھانے کے لیے آگے بڑھا اس نے پاس سے دیکھا مجسمہ مکمل سونے کا تھا اس کے ادر گرد دیکھا کوئی مجھے دیکھ تو نہیں رہا پھر خود ہی ہنس دیا ارے پاگل رات کے اس وقت تجھے کون دیکھے گا میں اب اصل چوہدری بنوں گا وہ سوچنے لگا یہ خدا نے مجھے عظا کیا ہے میں اس کا مالک ہوں وہ دولت کا خواہش مند تھا لیکن اتنے بڑے مجسمے کو بازار میں کیسے لے جائوں گا پھر خود ہی جواب ارے پاگل اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے بازار لے جانا وہ مجسمے کے پاس بیٹھ گیا اور اسے غور سے دیکھنے لگا وہ بہت خوش تھا اس نے جسمہ اُٹھانے لے لئے ہاتھ ڈالا تو حیران رہ گیا مجسمہ بہت وزنی کم ازکم پانچ چھ من وزن کے برابر تھا وہ پریشان ہوگیا اسے کیسے لے جائوں پھر اس ایک ترکیب سمجھ میں آئیجاری ہے

مزید پڑھیں  Funny Common Sense Test In Urd...

اس نے چھکڑے سے لکڑیوں کا گٹھا اتار پھینا اور بیل کو ہانکتا ہوا مجسمے کے پاس لے آیا کافی دیر کی محنت کے بعد وہ مجسمے کو چھکڑے پر چڑھانے میں کامیاب ہوگیا اگرا س کی جگی جگہ کوئی اور ہوتا تو مجسمہ ہلانے کا بھی سوال پہدا نہ ہوتا اتنا قزجی تھا پھر اس نے نے گھاس کی پوٹلی کھولی اور گھاس پورے مجسمے پر ڈال دی تاکہ وہ اس میں چھپ جائے اب وہ اطمینان میں تھا پھر وہ آہستہ سے چھکڑے کو گھر کی طرف ہانکنے لگا محنت سے کاٹی گئی لکڑیاں زمین پر پڑی تھیں مگر سونے کے مجسمے کی خوشی میں اے کچھ ہوش نہ تھا شہاب ثاقب جس جگہ زمین پر گرا وہ ایک گائوں تھا زمین کی مٹی اسے ریت کی طرح محسوس ہونے لگی ایک عجیب سا احساس تھاجاری ہے

ایک انوکھی زمین جو اس نے پہلے کبھی محسوس نہ کی ہو ابھی اسے وہاں پڑے کچھ ہی دیر گزری تھی کہ اس نے ایک آدم زاد کا سایہ لہراتا ہوا دیکھا اور اب وہ اس کے سامنے تھا اونچا لمبا چہرے پر گھنی مونچھیں تہمد باندھے پہلا آدم زاد جو اس نے دیکھا
کہانی ابھی جاری ہے 

دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments