سیاہ فام عورت کے بیٹے “

ایک مرتبہ حضرت بلال رضی الله عنہ اور حضرت ابوزر غفاری رضی الله عنہ میں تلخ کلامی ہوگئ تو غصے میں حضرت ابوزر غفاری رضی الله عنہ نے حضرت بلال رضی الله عنہ کو ” اے سیاہ فام عورت کے بیٹے ” کہہ دیا۔حضورِاکرم صلیٰ الله علیہ وآلہ وسلم کو جب خبر ملی تو آپ صلیٰ الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا

” اے ابوزر، کیا تم نے بلال کی والدہ کے لئے نامناسب الفاظ استعمال کئے ہیں ؟کیا تم میں ابھی بھی جہالت موجود ہے؟”حضرت ابوزر غفاری یہ سن کر روتے ہوےمسجدسے بھاگے اور حضرت بلال کے پاس پہنچ کر اپنی رخسار زمین پر رکھ کر بولے ” اے بلال، جب تک آپ اِس (گال) پر اپنا پاؤں نہیں رکھیں گے، میں نہیں اٹھونگا۔ آپ عالی مقام ہیں اور میں ادنیٰ حقیر “حضرت بلال رضی الله عنہ یہ سن کر رونے لگے اور اُنہیں زمین سے اٹھا کر اسی رخسار پر بوسہ دیا اور گلے لگالیا۔(شعیب الایمان ۴۷۶۰، صحیح بخاری ۵۰، صحیح مسلم ۱۶۶۱)حجتہ الوداع کے موقع پر پیارے رسولِ عربی محمد صلیٰ الله علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ میں فرمایا ” کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی گورے پر، کسی عربیکوکسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر برتری نہیں سوائے تقوٰی کی بنیاد پر ”ایک مرتبہ حضرت بلال رضی الله عنہ اور حضرت ابوزر غفاری رضی الله عنہ میں تلخ کلامی ہوگئ تو غصے میں حضرت ابوزر غفاری رضی الله عنہ نے حضرت بلال رضی الله عنہ کو ” اے سیاہ فام عورت کے بیٹے ” کہہ دیا۔حضورِاکرم صلیٰ الله علیہ وآلہ وسلم کو جب خبر ملی تو آپ صلیٰ الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ” اے ابوزر، کیا تم نے بلال کی والدہ کے لئے نامناسب الفاظ استعمال کئے ہیں ؟ کیا تم میں ابھی بھی جہالت موجود ہے؟”حضرت ابوزر غفاری یہ سن کر روتے ہوے

دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments

مزید پڑھیں  پاکستانی طوطوں نے بڑے یورپی ملک کی نام میں دم کردیا،وجہ جان کرآپ بھی ہنسی پرقابونہ پاسکیں گے،ملک بدرکرنےکامنصوبہ