شہزادہ ولید بن طلال نے سعودی حکومت کے سامنے ہتھیار ڈال دیے

ریاض (نیوزڈیسک) عرب دنیا کے سب سے امیر ترین شخص شہزادہ ولید بن طلال نے حکومت کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے اپنی 95 فیصد دولت سے دستبردار ی پر رضا مندی ظاہر کردی ہے۔نجی ٹی وی جیو نیوز نے عرب میڈیا کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کی حکومت نے سابق بادشاہ عبداللہ کے صاحبزادوں مشال بن عبداللہ اور فیصل بن عبداللہ کو جمعرات کو رہا کردیا تھا جس کے بعد عرب دنیا کے امیر ترین شخص شہزادہ ولید بن طلال کی رہائی کی بھی امید پیدا ہوگئی ہے۔جیو نیوز کے دعویٰ کے مطابق ولید بن طلال نے اپنی دولت کا 95 فیصد حکومت کے سپرد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے جس کے بعد انہیں جلد ہی رہا کردیا جائے گا۔دوسری جانب امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا تھا کہ شہزادہ ولید بن طلال سے 7 ارب ڈالر کا تقاضہ کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ دنیا بھر میں کاروبار کرنے والے ولید بن طلال کو مشرق وسطیٰ کا وارن بفٹ بھی کہا جاتا ہے جن کے اثاثوں کی مجموعی مالیت 19 ارب ڈالر کے قریب بنتی ہے۔ ولید بن طلال کو سعودی عرب میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سربراہی میں قائم کی جانے والی اینٹی کرپشن کمیٹی نے 4 نومبر کو دیگر 200 شہزادوں ، وزرا اور اہم کاروباری شخصیات کے ہمراہ گرفتار کیا تھا، حکومت کی جانب سے مختلف اوقات میں اب تک 23 افراد کو رہا کیا جاچکا ہے۔
دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments

مزید پڑھیں  اسرائیل پر اسلامی ملک نے میزائلوں کی بارش کرکے حملہ کر دیا