شیخوپورہ پولیس کا شاندار کارنامہ : 5 سالہ ایمان فاطمہ کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے جنسی درندے کو کسطرح چند گھنٹوں کے اندر گرفتار کیا گیا ؟ پورے ملک کے تفتیشی افسران کے لیے مثال قائم کردینے والی خبرآ گئی

لاہور (شیر سلطان ملک ) ضلع شیخوپورہ کے علاقہ مریدکے میں گاؤں چوہڑہ کی ننھی ایمان فاطمہ کا زیادتی کے بعد قتل پورے علاقے میں کہرام برپا کر گیا ۔ پورے شہر میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی مگر ڈی پی او شیخوپورہ سرفراز خان ورک نے اپنی ٹیم کے ہمراہ چند ہی گھنٹوں میں اس اندھے قتل کا

سراغ لگا کر درندہ صفت قاتل بابر عرف للی کو گرفتار کرلیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق کل شام کمسن بچی کی نماز جنازہ میں شرکت کے بعد ڈی پی او شیخوپورہ سرفراز خان ورک نے بچی کے لواحقین اور اہل علاقہ کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ انشااللہ چند گھنٹوں میں مجرم قانون کے شکنجے میں ہو گا ۔ اس موقع پر انہوں نے بچی کے نانا اور دیگر رشتہ داروں کو گلے لگا کر دلاسہ دیا اور ملزم کو فوری طور پر کیفر کردار تک پہنچانے کی یقین دہانی کرائی۔ پولیس اہلکاروں نے ٹھوس شواہد کے حصول کے لیے رات بھر جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کرڈیوٹی سر انجام دی۔ بعد ازاں دفتر ڈی ایس پی مریدکے میں پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی پی او شیخوپورہ سرفراز ورک نے کہا کہ ڈاکٹروں نے ابتدائی طور پر بچی کے ساتھ بداخلاقی کی تصدیق کر دی ہے تاہم شواہد کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ملزم کے ڈی این اے سمیت دیگر ٹیسٹ بھی کرائے جائیں گے اور ملزم کے خلاف 7اے ٹی اے کے علاوہ دیگر دفعات کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور مجرم کو کفیر کردار تک پہنچایا جائے گا ۔

مزید پڑھیں  پشاور،اداکارہ سنبل نے اپنے زندہ ہونے کا ویڈیو بیان جاری کر دیا،مرنے والی سنبل کوئی اور تھی

تھانہ صدر کے علاقہ موضع چوہڑہ میں بابر عرف بلی نامی درندہ صفت نوجوان نے دو روز قبل مدرسے میں داخل ہونے والے پانچ سالہ معصوم بچی ایمان فاطمہ کو حویلی میں لگی بیری سے بیر توڑ کر دینے کا لالچ دے کراپنے پاس بلایا اور اغوا کرکے قریبی گندم کے کھیتوں میں لیجا کر بد اخلاقی کا نشانہ بنانے کے بعد اسی کی شلوار کا پھندا بنا کر موت کی نیند سلا دیااور فرار ہو گیا۔ والد کے بیرون ملک مقیم ہونے کے باعث اپنے ننھیال میں رہائش پذیر کمسن ایمان فاطمہ کی والدہ اور دیگر رشتہ داروں نے شام کے وقت اسے تلاش کرنے کی کوشش کی مگر وہ نہ مل سکی جس پر تھانہ صدر مریدکے پولیس کو اطلاع دی گئی۔ پولیس نے بچی کی نعش کو پوسٹمارٹم کے لیے تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال مریدکے منتقل کی اور ملزم کی تلاش جاری رکھی۔ شک گزرنے پر ایس ایچ او تھانہ صدر ذو الفقار ورک نے ملزم بابر کو حراست میں لے کر اس کے کپڑوں کا جائز ہ لیا تو اس کی بنیان کو تازہ خون لگا نظر آیا جس پر پولیس دیگر تین مشکوک افراد کے ہمراہ اسے تھانہ لے گئی جہاں ملزم نے اقرار جرم کر لیا۔

مزید پڑھیں  Khursheed Shah Strict Talk About Shahid Khaqan Abbasi | Urdu tv online

کمسن ایمان فاطمہ کو دوپہر اڑھائی بجے اسی گاؤں کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔ نماز جنازہ میں ڈی پی او شیخوپورہ سرفراز ورک سمیت ضلع کے تمام افسران نے شرکت کی۔ ڈی پی او شیخوپورہ نے جنازہ کو کندھا بھی دیا ۔گرفتار ملزم بابر نے میڈیا کو بتایا کہ موبائل پر فحش فلمیں دیکھ کر وہ ایسے اقدام کی طرف راغب ہوا۔ قبل ازیں بھی اس نے تین بچوں کو بد اخلاقی کا نشانہ بنایا اور ایک مرتبہ پکڑے جانے پر اہل دیہہ نے اسے معاف بھی کیا تھا۔ رات کواس نے بیر کھلانے کا لالچ دے کر معصوم کو بلایا اور بداخلاقی کا نشانہ بنانے کے بعد گلا دبا کر مار ڈالنے کی کوشش کی اور ناکام پر اسی کی شلوار کو پھندا بنا کر پھانسی دے دی اور نعش کھیتوں میں پھینک کر فرار ہو گیا۔ اس نے کہا کہ میں نے بہت ظلم کیا ہے مجھے جو بھی سزا دی جائے منظور ہے۔ ڈی پی شیخوپورہ نے فوری طور پر سفاک قاتل کا کھوج لگا کر گرفتار کرنے پر ڈی ایس پی محمد نواز سیال اور ایس ایچ او ذو الفقار ورک کی قیادت میں پولیس پارٹی کے لیے ایک لاکھ روپے نقد انعام اور تعریفی اسناد دینے کا اعلان کیا۔

مزید پڑھیں  چودھری نثار علی خان کو ان کی اپنی پارٹی نے مذاق بنا دیا ۔۔۔وجہ کیابنی جانئے

دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments