عطاالحق قاسمی کھوتی کالج کے لیکچرار تھے فی اخباری کالم ان کو 60 روپے ملتے ، پہلے سفیر پھر ایم ڈی پی ٹی وی بنے

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) چینل 5 کے تجریوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام” ضیاشاہد کے ساتھ “میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار ضیا نے کہا ہے کہ مشاہد حسین پہلے اخبار نویس تھے اب خوشامد شروع کی اور لاکھو ں کی جاب مل گئی۔ عطاالحق قاسمی عرفان صدیقی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ۔

عرفان صدیقی پی آر او تھے پھر وہ میاں نواز شریف کے ہر فیصلے پر واہ واہ کرتے رہے ، لہذا اب وہ وزیر ہیں، ایسے محکمے کے وزیر جسے کوئی جانتا تک نہیں ۔طالبان سے مذاکرات کے وقت یہ حضرت حکومتی ٹیم کے سربراہ تھے ۔ کوئی شخص حکومتی عہدیداروں کو شعرر ٹواتا ہے ،لہذا اسے15 لاکھ روپے کی نوکری دے دی جائے۔کوئی صاحب حکومت کے حق میں کالم لکھتا ہے تو اسے ریلوے میں ایڈوائزر لگا دیا جاتا ہے۔عطاالحق قاسمی تھرڈ کلاس، کھوتی کالج، ایم اے او کالج کے لیکچرار تھے، ان کی ترقی دیکھیں۔ حکومتی اراکان کی شان میں قیصدے لکھے، شعر لکھے تو وہ سفیر بن گئے پھر چیئرمین پی ٹی وی بن گئے۔ یہ میرے ساتھ نوائے وقت میں ملازم ہوا کرتے تھے۔ مجھے وہاں اچھی تنخواہ ملتی تھی بطور ڈپٹی ایڈیٹر جبکہ عطا الحق قاسمی کو ایک کالم کے60 روپے ملا کرتے تھے۔ کھوتی کالج کی لیکچرارشپ سے انہوں نے اپنے گھر ایک دعوت کی نواز شریف کو شب دیگ بہت پسند ہے۔ یعنی شلجم گوشت۔ انہوں نے خود میاں صاحب کے لئے شب دیگ بنوائی۔ جس سے بادشاہ سلامت خوش ہو گئے۔ انہوں نے کہا بو ل بچہ کیا مانگتا ہے۔ بچے نے مانگا کہ مجھے ناروے کا سفیر بنا دیں۔ انہیں لیکچرار شپ سے اٹھا کر تین مہینے تربیت دلائی گئی اور ڈائریکٹ ناروے میں سفیر مقرر کر دیا گیا۔

مزید پڑھیں  ن لیگ کو اب تک کاسب سے بڑا جھٹکا

دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments