فریب قسط نمر دو ۔ایک نوجوان کی کہانی جو زندگی کی دوڑ میں شارٹ کٹ کا قائل تھا

میں شہر آگیا اور فیس جمع کرواکر اپنے امتحانات کی تیاری کرنے لگا داخلی جمع کروانے میں مجھے کوئی مشکل پیش نہ آئی اب میں زور شور سے اپنے امتحانات کی تیاری کر رہا تھا میرے سر پر ایک ہی جنون سوار تھا کہ امتحان اعلی نمبروں سے پاس کرکے کہیں اچھی سی نوکری کرنے لگوں دن گزرتے رہے میرے امتحان بہت اچھے ہوگئے میں بہت خوش تھاجاری ہے

کامیابی کی بہت توقع تھی امتحانات سے جیسے ہی فارغ ہوا میں نے گھر کی راہ لی گھر پہنچا تو گھر سب کو اپنے امتحانات اچھے ہونے کی خوشخبری سنائی گھروالوں نے ڈھیروں دعائیں دیں بہنیں ہاتھ اٹھا اٹھا کر میری کامیابی کیلئے دعاگو تھیں گھر آئے ہوئے تین چار دن گزر گئے تھے کہ اچانک میرے ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہ بڑی اماں سے ملاقات کی جائے تین مہینے گزرچکے تھے اور اب میرے اندر وہ خواہش جذبہ بن کر بار بار ابھر رہی تھی لیکن میں سوچنے لگا کہ ابھی ملنا درست ہے یا نہیں پھر میرے سے صبر نہیں ہو رہا تھا میں نے اماں سے ملنے کی ٹھان لی اس کے لیے میں مناسب وقت کا انتظار کرنے لگا میرے لیے گھر پر وقت گزارنا ایک عذاب تھا میں نے کافی وقت شہر میں پڑھنے میں گزاردیا تھا اس لئیے اب گائوں کی زندگی میں بوریت محسوس کرنے لگتا اسی طرح ایک صبح میں نے منشی کا دروازہ جا کھٹکھٹایا منشی صاحب بڑے تپاک سے ملے میرے پڑھے لکھے ہونے کی وجہ سے گائوں میں میری بڑی عزت تھی سب مجھے بائوجی کہہ کر بلاتے یا پھر میاں جی کیوں کہ ابا کو سارا گائوں میاں جی کہہ کر احترام سے بلاتے تھے منشی مجھے محبت سے اندر لے گیا میں نے بتائا کہ میں بڑی اماں سے امتحانات میں کامیابی کی دُعا کروانے آیا ہوں بڑی اماں کی طبیعت ٹھیک نہیں منشی مجھے چارپائی پر بیٹھے کا اشارہ کرتے ہوئے پریشانی سے بولا میں گھبرا کر بولا کیوں منشی چاچا کیا ہوا بس میاں جی کیا بتائو بسم اللہ الرحمن الرحیم ان کی حالت اب ٹیھک نہیں رہتی پتہ نہیں کیا کرتی رہتی ہیں ہروقت کھانا پینا بھی پورا سے نہیں کرتی ہےجاری ہے

مزید پڑھیں  رواں صدی کے آخر تک کیا ہونیوالا ہے؟ ماہرین موسمیات نے خطرناک پیش گوئی کردی

اور چلے بھی جاٹتی رہتی ہیں نہ گرمی دیکھتی ہیں نہ سردی اپنی صحت کا خیال بھی نہیں رکھتیں اس بات میں زبردستی ڈاکٹر کے پاس شہرلے گیا تھا ڈاکٹر نے بڑے حیران کن انداز میں بتایا کہ اماں کا اندرونی حال بہت عجیب و غریب ہے ہر چیز نارمل ہے مگر نارمل نہیں بھی میں خود بہت حیران تھا کہ ایسا کیا ہے اس نے میری تسلی کے لیے کچھ دوائیں لکھ کر دے دی ہیں لیکن زور اسی بات کر دیتی ہیں کہ انہیں مناسب غذا اور آرام دلوائیں مگر میری کوئی بات نہیں سنتیں تم مل لو اندر پہی ہیں میں نے قراری سے اُٹھ کر اندرونی کمرے کی طرف بڑھا بڑی اماں چارپائی پر لیٹی تھیں تین مہینوں میں ہی کاگی نحیف لگ رہی تھیں مجھے دیکھ کر اشارے سے پاس بلایا میں سلام کیا تو میرے سر پر ہاتھ پھر کر محبت سے جواب دیا اور مجھے اپنے پاس ہی بٹھا لیا وہ نقاہت سے بہر آہستہ بات کر رہی تھیں ۔۔۔حال چال پوچھنے کے بعد میرا دل نہیں چاہ رہا تھا کہ میں اب سے مئوکل کے متعلق بات کروں مگر اس سے پہلے ہی وہ آہستہ سے کہنے لگیں عرفان پتر میری بات دھیان سے سن میری زندگی کا اب کوئی اعتبار نہیں تو نے ایک بات مجھ سے پوچھی تھی میں مزید بے قرار ہوگیوہ اتنا کہہ کر سانس لینے کورکیں بلغم کی وجہ سے جس وقت وہ سانس لیتیں تو سینے سے شاں شاں کی آواز آتی جی اماں آپ کہیں میں سن رہا ہوں اب وقت آگیا ہے کہ میں تمہیں اس بارے میں بتادوں بیٹا موکل کو میں اب آزاد کرنے کی پابند ہوں مگر عمل کے اعتبار سے میں اسے اپنی مرضی سے کسی ایسے آدمی کو سپرد کر سکتی ہوں جو اسے صحیح استعمال کرنا جانتا ہو میں بے چین ہوگیا لیکن میں چاہتی ہوںجاری ہے

مزید پڑھیں  مجھے جوتا کیوں مارا۔۔، نواز شریف

کے تم اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کرو میں تذبذب میں پڑگیا مگر اماں وہ کیسے تم مجھے یقین دلائو کہ اُسے غلط استعمال نہیں کروگے اس سے کسی کی جان نہیں لوگے کسی غریب کو نہیں ستائو گے اماں میں وعدہ کرتا ہوں میں نے کہا اماں خاموش ہوگئیں وہ کچھ لمحے چھت کو گھورتی رہیں پھر پولیں عرفان بیٹا کیا میں تم پر اعتبار کروں تم مخلوق خدا کو تنگ تو نہیں کرو گے نہیں اماں میرا آپ سے وعدہ ہے میں نے یقین سے کہا اچھا اگر میرے گھر پر کبھی مصیبت آئے تو تم میرے گھر کو ضرور بچانا اماں میری طرف آبدیدہ نظروں سے دیکھ کر کہنے لگیں میں نے اماں کا ہاتھ چوم لیا میری آنکھوں سے آنسو نکل پڑے اماں اللہ آپ کو لمبی عمر دے اور صحت والی زندگی دے اماں جبراہنس کر پولیں نہیں بیٹا میرا وقت آن پہنچا اماں نے کانتے ہاتھوں سے اپنی تسبح اور ایک تہہ کیا ہوا کاغذ مجھے پکڑایا اور کہے لگیں جائو سب ہدایات اسی میں ہیں صرف اپنا وعدہ یاد رکھنا میں نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا تو انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے منع کیا اور کہنے لگیں جائو میری ببیعت ٹھیک نہیں تمیں اس کاغذ کے ہوتے کسی چیز کی ضرورت نہیںجاری ہے

مزید پڑھیں  پاستا، میکرونی اور اسپیگٹی سے وزن بڑھتا نہیں کم ہوتا ہے، نئی تحقیق

۔یہ تہماری راہنمائی کرے گا کہ تمیں کیا کرنا ہے اب جائو میں انہیں سلام کرکے آہستہ سے اُٹھا اور دروازے سے نکل آیا میرا دل بلیوں اچھل رہا تھا

کہانی ابھی جاری ہے

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments