قر آن پاک کی بے حرمتی کرنے والا ملزم9سال بعدعدالت نے بری کردیا۔۔۔بری اس لیے کردیاکیونکہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ہمارے ہاں ایسے واقعات گاہے بگاہے سامنے آتے رہتے ہیں کہ اپنے ذاتی مفادات کے لئے لوگ کسی پر توہین مذہب کا جھوٹا الزام لگا دیتے ہیں۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ ذاتی مفادات کے لئے مذہب کا نام استعمال کرنے والوں کو تو کوئی پوچھتا تک نہیں لیکن جن پر جھوٹے الزامات لگائے جاتے ہیں ان کی زندگی برباد ہو جاتی ہے۔ ایک ایسے ہی قیدی کو سپریم کورٹ نے بری کر دیا ہے کیونکہ اس پر لگائے گئے الزامات ثابت نہیں ہو سکے، لیکن رہائی ملنے سے قبل اس بدنصیب شخص کی زندگی کی تقریباً ایک دہائی جیل میں گزر چکی تھی۔ اسے مقدس اوراق کی توہین کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور دفعہ 295-Bکے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ویب سائٹ dawn.com کے مطابق اختر محمد نامی شخص، جو کہ سماعت و گویائی کے مسائل سے دوچار تھا، نے مقامی امام مسجد حافظ محمد منیر کو ملزم کے بارے میں شکایت کی، جس نے پنچایت سے رابطہ کیا۔ بعد ازاں ملزم کو مار پیٹ کے بعد پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ بہاولنگر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی جانب سے ملزم کو 2009ءمیں عمر قید کی سزا سنائی گئی اور لاہور ہائیکورٹ نے بھی 2014ءمیں اس سزا کو بحال رکھا۔ جب اس مقدمے کی سپریم کورٹ میں سماعت شروع ہوئی تو وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ عدالت کے سامنے پیش کئے گئے شواہد قانون شہادت کے معیار پر پورے نہیں اترتے تھے کیونکہ مرکزی گواہ سماعت و گویائی کے مسائل سے دوچار تھا اور قانون شہادت کی رو سے اسے بطور گواہ نہیں پیش کیا جاسکتا تھا۔ سپریم کورٹ کی توجہ اس بات کی جانب بھی دلائی گئی کہ معاملے کی تفتیش کرمنل پروسیجر کورٹ کے مطابق نہیں کی گئی تھی۔ دلائل کی سماعت کے بعد جسٹس دوست محمد اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل بنچ نے ملزم کے خلاف شواہد کی عدم دستیابی پر اسے بری کردیا۔ اس موقع پر عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو کسی پر قرآن مجید اور مقدس ہستیوں کی توہین کا جھوٹا الزام لگاتا ہے دراصل خود توہین کا مرتکب ہوتا ہے۔
دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments

مزید پڑھیں  سعودی شہریوں نے اسرائیل کے خلاف کیاکام شروع کر دیا جان کر آپ حیران رہ جائیں گے