مجرم نےایسا جرم کردیا کہ۔۔۔عدالت نے 13 ہزار سال کی قید کا حکم سنا دیا

بنکاک (نیوزڈیسک) تھائی لینڈ میں عدالت نے فراڈ کے ایک مجرم کو 13275 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ 34 سالہ پوڈٹ کیتیتھراڈلوک نے ایک پونزائی سکیم چلانے کا اعتراف کیا جہاں اس نے اپنے سرمایہ کاروں کو انتہائی زیادہ منافع دینے کے وعدے کیے تھے۔تفصیلات کے مطابق کیتیتھراڈلوک کی اس سکیم کا نشانہ 40000 لوگ بنے اور انھوں نے اس کی کمپنیوں میں تقریباً 16 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ عدالت کے مطابق کیتیتھراڈلوک نے غیر قانونی قرضے دیے اور فراڈ کے جرم کے 2653 مرتبہ مرتکب ہوئے۔مجرم کے اعترافی بیان کے پیشِ نظر عدالت نے اس کی سزا نصف کر کے 6637 سال اور چھ ماہ کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔یاد رہے کہ اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ کیتیتھراڈلوک صرف بیس سال قید گزاریں کیونکہ جن دو اقسام کے فراز کے وہ مرتکب ہوئے ہیں تھائی قوانین کے مطابق ان میں مجرم کو دس سال قید کی حد مقرر ہے۔وکیلِ استغاثہ نے عدالت کو بتایاکہ کیتیتھراڈلوک سیمنار منعقد کرتا تھا جہاں وہ لوگوں یہ کہہ کر اپنی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتا تھا کہ یہ کمپنیاں پراپرٹی ڈویلپمنٹءبرآمدات، اور استعمال شدہ گازیوں کے کاروبار سے منسلک ہیں۔مقامی اخبار بنکاک پوسٹ کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کو انتہائی زیادہ شرح کے منافعوں کا لالچ دیا جاتا تھا اور نئے سرمایہ کار لانے کے لیے معاوضہ بھی دیا جاتا تھا۔کسی بھی پرامڈ سکیم یا پوزائی سکیم کی طرح نئے سرمایہ کاروں کے پیسوں سے پرانے سرمایہ کاروں کو منافع دیا جاتا تھا۔ یاد رہے کہ پوڈٹ کیتیتھراڈلوک اگست سے بنکاک جیل میں زیرِ حراست ہیں اور ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔عدالت نے ان کی دونوں کمپنیوں کو دو کروڑ ڈالر جرمانہ کیا ہے۔اس کے علاہو عدالت نے پوڈٹ کیتیتھراڈلوک اور ان کی کمپنیوں کو حکم دیا ہے کہ شناخت شدہ 2653 متاثرین کو ایک کروڑ ستر لاکھ ڈالر کی رقم 5 تا 7 فیصد سالانہ سود سمیت واپس کی جائے۔
دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments

مزید پڑھیں  بھارتی ہیکرز کے گروہ نے کراچی پولیس کی ویب سائٹ ہیک کر لی