مدرسے کے استاد نے 12 سالہ لڑکی کو اپنی حوس کا نشانہ بناڈالا

نئی دلی(نیوز ڈیسک) بھارت کے شہر ناندد کے ایک مدرسے میں مذہبی تعلیم پر مامور معلم نے دو کمسن طالبات کے ساتھ ایسی حیوانیت کا مظاہرہ کر ڈالا کہ سن کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ یہ بدبخت شخص بچوں کو مذہبی تعلیم دینے کی آڑ میں نجانے کب سے ہوس کا کھیل جاری رکھے ہوئے تھا لیکن بالآخر اس کا بھیانک کردار کھل کر سامنے آگیا۔ اس شیطان نے ایک 12 سالہ بچی کو درندگی کا نشانہ بناڈالا،جبکہ ایک آٹھ سالہ بچی کو بھی ہوس کا نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ٹائمز آف انڈیا کے مطابق یہ المناک واقعہ مجلگاؤں نامی دیہات میں پیش آیا جہاں مولوی صابر فاروق نامی یہ شیطان صفت شخص ایک عرصے سے مدرسے کے معلم کے طور پر تعینات تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے 12 سالہ لڑکی کو اپنے پاس علیحدگی میں بلا کر پہلے اسے اپنے موبائل فون پر فحش فلم دکھائی اور پھر اسے اپنی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا۔جب یہ شرمناک معاملہ سامنے آیا تو یہ بدکردار شخص لڑکی کے گھر چلا گیا اور اس کی والدہ پر دباؤ ڈال کر اسے خاموش کروانے کی کوشش کرتا رہا۔ بعدازاںاس نے مقامی سیاسی رہنماؤں کے ذریعے بھی متاثرہ لڑکی کے اہلخانہ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔ جب یہ حربے کامیاب نا ہوئے تو گرفتاری سے بچنے کے لئے وہ روپوش ہو گیا اور تا حال اس کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔دریں اثناءپولیس نے لڑکی کے گھر والوں پر صلح کے لئے دباؤ ڈالنے والے بااثر افراد کے خلاف بھی پرچہ درج کر لیا ہے۔ ظلم کا نشانہ بننے والی بچی کی بجائے جنسی درندے کی حمایت کرنے والے ان نام نہاد مقامی رہنماؤں کے نام خلیل پٹیل، نواب پٹیل اور ابریش بگوان بتائے گئے ہیں۔
دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments

مزید پڑھیں  شامی صدر بشار الاسد کی اہلیہ ’’ اسما الاسد ‘‘ در اصل کون ہیں اور دونوں نے گھر والوں سے چھپ کر شادی کیوں کی تھی ؟ دنگ کر دینے والا انکشاف ہوگیا