مذہبی کارکنوں کا دھرنا ، سیاسی سوالات چھوڑ گیا

الآخر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والی اہم شاہراہ مری روڈ پر واقع فیض آباد انٹرچینج پر تحریک لبیک یا رسول اللہ کا 21روز سے جاری دھرنا فوج کی مداخلت سے ختم ہوگیا ۔لیکن اپنے پیچھے کئی سوالات چھوڑ گیا ہے کہ دھرنا دینے والوں کے کیا سیاسی مقاصد تھے؟ کیا یہ دھرنا نواز شریف کی مقبولیت میں کمی کیلئے دیا گیا؟ ۔

کیا نوازشریف کا ووٹ بینک تقسیم کرنے لئے ان کے مدمقابل ایک مذہبی قوت کھڑی کر دی گئی؟ کیا آئندہ الیکشن میں فیض آباد سے اٹھائی جانے والی 7 لاشیں مسلم لیگ(ن) کا تعاقب کریں گی؟ ۔میاں نوازشریف کا اپنی پارٹی کے رہنماؤں سے یہ پوچھنا بجا ہے دھرنے کے شرکاء کو کہاں سے ”سپورٹ“ تھی معاہدے کے نکات کس نے طے کئے؟ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے بھری محفل میں اپنے قائد کو سب کچھ بتانے کی بجائے ”ون آن ون“ ملاقات میں سب کچھ بتا دیا۔

اگرچہ یہ دھرنا حکومت اور تحریک لبیک یا رسول اللہ کے درمیان 6 نکاتی معاہدے پر دستخطوں کے بعد ختم ہوا جس پر پنجاب رینجرز کے سربراہ نے بطور ”ضامن“ دستخط کئے ہیں لیکن جب معاہدہ ہوا اس وقت تک ”پلوں“ کے نیچے بہت پانی بہہ چکا تھا۔ مری روڈ پرکھیلے جانے والے ”آگ وخون“ کھیل کی بھینٹ 7 افراد چڑھ چکے تھے‘ یہ معاہدہ کسی کی جیت یا کسی کی ہار نہیں بلکہ افسوسناک انجام کے ساتھ دھرنا اختتام پذیر ہوا۔

کروڑوں روپے کی املاک کو نقصان پہنچا 21روز تک راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان 10لاکھ افراد کو متبادل راستہ اختیار کرنا پڑا۔ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پچھلے کئی دنوں سے دھرنے کو ریاستی قوت سے ختم کرنے سے گریز کر رہے تھے ان کا موقف یہ تھا کہ تحریک یا رسول اللہ کا سیاسی ایجنڈا ہے اور وہ دھرنے سے کچھ لاشیں اپنے ساتھ لے جانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے صاف صاف عدالت میں کہہ دیا کہ وہ جانی نقصان کے پیش نظر دھرنا کے شرکاء کو منتشر کرنے کیلئے طاقت کے استعمال سے گریز کر رہے ہیں جس کے باعث انہیں ”توہین عدالت “ کے نوٹس کا سامنا کرنا پڑا۔ دھرنا آپریشن جسے ”ناکام آپریشن“ قرار دیا جارہا ہے اپنے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکا کہ وفاقی وزارت داخلہ نے غیرمسلح پولیس فورس“ کے ذریعے عمران خان کے دھرنا2 کو روکنے کی طرز کا تجربہ کیا تاکہ ایک گولی چلائے بغیر دھرنا ختم کیا جاسکے۔

راولپنڈی کی طرف پولیس کی کمان پنجاب پولیس کے پاس تھی، غالباً اسلام آباد اور پنجاب پولیس میں اس قدر کوآرڈی نیشن نہیں تھی جو اس آپریشن کی کامیابی کے لئے ضروری تھی۔ دوسرا یہ کہ غیرمسلح پولیس سے ختم نبوت پر مر مٹنے کا عہد کرکے آنے والے لوگوں کو منتشر کرنے کا اندازہ غلط ثابت ہوا‘ سب سے بڑی غلطی حکومت پنجاب کی تھی جس نے احتجاج کرکے واپس آجانے کا ”وعدہ“ کرنے والوں پر اعتبار کیا‘ دھرنا دینے والوں کو اسلام آباد بھجوا دیا۔

سابق وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثارعلی خان جوکہ خود مسلم لیگ(ن) کے اندر بنیاد پرست اور مذہبی شخصیت ہیں کی رہائش گاہ دھرنا دینے کے مقام سے چند قدم کے فاصلے پر تھی۔ چودھری نثارعلی خان اپنی فیملی کے ہمراہ آپریشن سے ایک ہفتہ قبل پنجاب ہاؤس میں منتقل ہوگئے تھے۔ پنجاب پولیس نے ان کی رہائش گاہ کی حفاظت کا کماحقہ انتظام کر رکھا تھا۔ چودھری نثارعلی خان نے احسن اقبال کی طرف سے دیئے گئے اس بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا کہ چودھری نثارعلی خان کی رہائش گاہ کے باہر مظاہرین کی اموات ہوئی ہیں جبکہ چودھری نثارعلی خان کا موقف ہے ان کی رہائش گاہ کے باہر ایک شخص بھی زخمی نہیں ہوا۔

بہرحال مری روڈ کے مختلف حصوں میں” آتشزنی او گھیراؤ جلاؤ“ کے واقعات کے باعث7افراد کی ہلاکتیں ہوئیں ۔ پولیس پوسٹ مارٹم رپورٹس سے صورتحال واضح ہوگی کہ یہ ہلاکتیں کس نوعیت کی گولی سے ہوئی ہیں؟ دھرنا آپریشن کی قیادت ایس ایس پی اسلام آباد ساجد کیانی کر رہے تھے‘ ان کی فورس علامہ خادم حسین رضوی کے ٹینٹ تک پہنچ چکی تھی لیکن اس دوران ہی ”اوپر“ سے دھرنا کے خلاف آپریشن روک دینے کا حکم آگیا جس سے اسلام آباد پولیس کا مورال گر گیا۔

شنید ہے یہ آپریشن فوج سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ کی مداخلت پر روک دیا گیا۔ ان کی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ٹیلیفون پر بات چیت کے بعد کارروائی روک دی گئی جس میں انہوں نے دونوں اطراف کو تشدد سے اجتناب کرنے مشورہ دیا اور پرامن طور مسئلہ حل کرنے کے لئے کہا۔ وفاقی حکومت نے ان کے مشورے کو مان لیا۔ اس کے فوراً بعد وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 245کے تحت فوج طلب کرلی لیکن دھرنا والوں سے نمٹنے کے لئے ”پنجاب رینجرز“ کو تعینات کر دیا گیا۔

اس سلسلے میں پنجاب رینجرز کے کمانڈر کو آپریشن کا انچارج مقرر کر دیا‘ اسی روز پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف اسلام آباد بھی آئے انہوں نے زاہدحامد سے ملاقات کرکے حکومت کو موجودہ بحران سے نکالنے کیلئے انہیں استعفیٰ دینے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے فوری طور پر اپنا استعفیٰ دے دیا تاہم ان کا موقف تھا کہ ساری ذمہ داری ان پر ڈال دی گئی ہے۔

ختم نبوت پر” یقین کے حلف کو اقرار“ میں تبدیل کرنے کے”جرم“ میں پوری پارلیمنٹ شریک ہے‘ بالخصوص سینیٹ میں تو اپوزیشن (پیپلزپارٹی، تحریک انصاف اور قوم پرست جماعتوں) نے سینیٹر حمد اللہ کی ترمیم کی مخالفت کی تھی جبکہ اس وقت راجہ محمد ظفرالحق کی قیادت میں زاہدحامد سمیت پوری مسلم لیگ(ن) نے حکومتی بل میں اصلاح کی حمایت کی تھی جبکہ اپوزیشن نے اکثریت کے بل بوتے پر سینیٹر حمداللہ کی ترمیم کو مسترد کرکے حکومت کیلئے مشکلات پیدا کر دیں‘ چونکہ دھرنے کی قیادت زاہدحامد کا ”سر“ لینے پر تلی ہوئی تھی اس لئے ان سے استعفیٰ لیکر انہیں قربانی کا بکرا بنا دیا گیا۔

سینیٹ میں قائد ایوان راجہ محمد ظفرالحق جنہوں نے ختم نبوت کے مخالفین کے خلاف جدوجہد کی ہے اور وہ اس مسئلہ کی حساسیت سے بخوبی آگاہ ہیں کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیٹی نے ابتدائی رپورٹ پارٹی کے سربراہ میاں نوازشریف کو پیش کر دی تھی اگرچہ اس رپورٹ میں حتمی نتائج اخذ نہیں کئے گئے لیکن رپورٹ میں کچھ ایسے اشارات دیئے گئے ہیں جن کی روشنی میں پارٹی قیادت کو حتمی نتیجہ تک پہنچنے میں مدد ملے گی۔

راجہ محمد ظفرالحق نے پارٹی کے صدر کو ابتدائی رپورٹ بھجواتے ہوئے اس حد تک احتیاط برتی ہے کہ انہوں نے اس معاملہ کی ذمہ داری جن شخصیات پر ڈالی ہے ان کے ناموں پر سیاہی پھیر دی تاکہ ان ناموں کے بارے میں میاں نوازشریف کے سوا کسی کو علم نہ تاہم فی الحال تحریک لبیک یا رسول اللہ کی قیادت زاہدحامد کے استعفیٰ پر اکتفا کرکے واپس چلی گئی ہے۔

دھرنا کو ختم کرانے میں فوج کی مداخلت سے جہاں حکومت کو ہزیمت اٹھانا پڑی ہے وہاں میاں نواز شریف بھی اس صورتحال پر نالاں دکھائی دیتے ہیں۔ تحریک لبیک یا رسول اللہ کی قیادت کو دھرنے کے خاتمے پر7لا شیں اٹھانی پڑی ہیں اسے زاہدحامد کے استعفیٰ کے لئے بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ شاید یہی اس کا حاصل حصول ہے ختم نبوت کے قانون کی شق میں تبدیلی کے حوالے سے راجہ ظفرالحق کی انکوائری رپورٹ 30 دن میں منظرعام پر لائی جائے گی۔

دھرنا شرکاء کے خلاف حکومتی آپریشن کی انکوائری کے لئے ایک بورڈ تشکیل دیا جائے گا جو تیس روز کے اندر اپنی رپورٹ مکمل کرے گا اور اور ذمہ داروں کا تعین کرے گا۔ تحریک لبیک نے تحریری طور اس بات کی ضمانت دی ہے کہ وہ زاہد حامد کے خلاف کسی قسم کا کوئی فتویٰ جاری نہیں کرے گی۔ زاہدحامد نے بار بار اس بات کی وضاحت کی ہے کہ وہ ختم نبوت پر پختہ یقین رکھتے ہیں ۔

سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی وزارت داخلہ کو ”دھرنا“ ختم کرنے کا حکم تو جاری کیا لیکن ”غیرمسلح“ پولیس سے دھرنا ختم کروانا وفاقی حکومت کے بس میں نہ تھا۔ ممتاز عالم دین سید حسین الدین شاہ کی سربراہی میں مذاکراتی ٹیم پر امن طور پر دھرنا ختم کرانے میں ناکام ہوگئی تو آپریشن شروع کیا گیا۔ کھلم کھلا یہ بات کہی جا رہی ہے دھرنے والوں کو ”غیبی ہاتھ“ کی اشیرباد حاصل تھی۔

جہاں تک انتخابی اصلاحات کے قانون میں ختم نبوت پر یقین کے حلف کے بارے میں پائے جانے والے شکوک و شبہات پائے جاتے تھے وہ حکومت نے مناسب قانون سازی کرکے دور کر دئیے ہیں بلکہ 2002ء میں شامل کی گئی شق7بی اور سی جو اپنے نفاذ کے 10روز بعد ختم ہوگئی تھی اسے بھی دوبارہ شامل کرلیا گیا۔ راجہ محمد ظفرالحق کی سربراہی میں قائم کمیٹی اس ”جیب تراش“ کا سراغ لگانے میں کامیاب ہو جائے گی۔

وفاقی وزیر قانون و انصاف زاہد حامد پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپنے مسلمان ہونے اور ختم نبوت پر پختہ یقین ہونے کے اعلانات کرچکے ہیں تاہم ان سے استعفیٰ لے کر دھرنا ختم ہوا۔ کاش یہ سب کچھ جانی نقصان کے بغیر ممکن ہوتا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی اس بات پر برہم ہیں کہ ”کیا آئین کے تحت فوج معاہدے میں کیسے ثالث بن سکتی ہے؟ انہوں نے برملا کہا ہے کہ سازش کے تحت اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ کو ناکام بنایا گیا ہے۔

انوشہ رحمان کو بچانے کے لئے زاہدحامد کو قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ختم نبوت کے معاملہ کی انکوائری کرانے کے لئے بیرسٹر ظفراللہ پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی ہے جو ختم نبوت میں ردو بدل کے معاملہ کی 10روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ جسٹس شوکت صدیقی کی بہت سی باتیں تو ضبط تحریر نہیں لائی جاسکتیں۔ ان کے ریمارکس سے پورے دھرنے کی کہانی بیان ہو جاتی ہے ”معاہدہ اس لئے ہوگیا کہ آپ کا پراجیکٹ مکمل ہوگیا“ اب دیکھنا یہ ہے دھرنا دینے والوں کو اپنے ”مشن“ میں کس قدر کامیابی ہوئی ہے اور اس دھرنا سے مسلم لیگ(ن) کو کس قدر سیاسی نقصان پہنچا ہے۔ اس بارے میں آنے والے دنوں صورت حال واضح ہو جائے گی۔

Comments

comments