مردان میں بچی کیساتھ زیا دتی ہونے پر بچی کے لواحقین نے حکومت سے انصاف بارے انتہائی اہم اقدام اٹھالیا

پشاور (نیوز ڈیسک ) مردان میں 4 سالہ بچی کے قاتل 6 روز بعد بھی گرفتار نہ ہوسکے، پولیس نے علاقے سے مزید 5 مشکوک افراد کو حراست میں لیکر تفتش شروع کر دی۔ عمائدین کے جرگے نے ملزمان کی گرفتاری کیلئے 72 گھنٹے کا الٹی میٹم دے دیا۔ دوسری جانب ضلعی حکومت نے کل اے پی سی طلب کر لی۔ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق بچی کو زیادتی کے بعد گلا گھونسٹ کر قتل کیا گیا۔ واقعے کے بعد پولیس نے 20 افراد کو گرفتار کر لیا تاہم مرکزی ملزم نہ پکڑا جاسکا۔تین دن قبل ننھی اسما کی لاش ملی تھی جسے اسپتال لایا گیا جہاں پوسٹ مارٹم رپورٹ میں زیادتی کی تصدیق ہوئی۔ڈی پی او مردان کا کہنا ہے تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی تشکیل دے دی ہے، کچھ مشکوک افراد کو بھی حراست میں لیا گیا، علاقے کی جیو فینسنگ بھی کی جا رہی ہے۔ پولیس نے ملزمان کی گرفتاری میں مدد دینے والوں کے لئے 5 لاکھ انعام کا بھی اعلان کیا ہے۔ قبائلی عمائدین نے بچی قتل کیس میں دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔خیال رہے 4 سالہ اسماء کا والد بہرام محنت مزدوری کی عرض سے 6 ماہ سے بیرون ملک مقیم ہے۔
دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments

مزید پڑھیں  ماروی میمن کو شوہر نے طلاق دے دی