مری میں 2 نوجوان سیاحوں پر بدترین تشدد، ظالمانہ تشدد کرنے والا شخص سابق وزیراعظم کا قریبی رشتہ دار نکلا

لاہور(ویب ڈیسک)مری میں سیاحوں پر تشدد کرنے اور انہیں ہراساں کیے جانے کے پے در پے واقعات پر سوشل میڈیا پر مری بائیکاٹ مہم کا آغاز کیا گیا تھا۔ جس کے بعد خوفزدہ سیاحوں نے سیر و تفریح کے لیے مری کی بجائے دیگر تفریحی مقامات کو ترجیح دینا شروع کر دی۔

مری بائیکاٹ مہم کے تحت کئی ریلیاں بھی نکالی گئیں جن میں شریک لوگوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اُٹھا رکھے تھے جن پر تحریر تھا کہ مری میں ہم اور ہمارے بچے محفوظ نہیں ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ سیاحوں کو عزت دو کے پلے کارڈز بھی دیکھنے میں آئے۔۔مری میں نوجوانوں پر تشدد کا ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے جس میں نوجوانوں کے سر کے بال اور مونچھیں مونڈنے کی کوشش کی گئی ہے۔نوجوانوں پر تشدد یو سی کے دفتر میں ہوا۔نوجوانوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ہم تشدد یوسی گیہل کے دفتر میں ہوا ہے۔جس میں چئیرمین یوسی ملوث ہے۔یوسی چئیرمین سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا رشتہ دار ہے۔یاد رہے کہ یہ دونوں نوجوان مری میں سیرو تفریح کے لیے گئے تھے تا ہم مری میں ان کو پولیس اہلکار ظاہر کر کے گرفتار کیا گیا جس کے بعد نوجوانوں کو یرغمال بنایا گیا اور نوجوانوں کو لوٹا گیا اور پھر شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔نوجوانوں پر اس طرح کا تشدد کیا گیا ہے کہ بظاہر دونوں نوجوان ذہنی طور پر مفلوج نظر آتے ہیں۔نوجوانوں نے الزام عائد کیا ہے کہ چونکہ ہم پر تشدد کرنے والا سابق وزیراعظم کا قریبی رشتہ دار ہے اس لیے ان کے خلاف کاروائی بھی نہیں کی جا رہی۔اس سے پہلے بھی مری میں سیاحوں کے ساتھ بد سلوکی کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جس کے بعد سیاحوں نے مری کا بائیکاٹ کرتے ہوئے مری بائیکوٹ مہم کا آغاز کیا تھا۔(م،ش)

مزید پڑھیں  لاہور میں حمزہ شہباز کا مقابلہ کون کرے گا ، پی ٹی آئی نے اہم فیصلہ کر لیا

دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments