urdu tv online

مغوی لڑکی سے تین روز تک بدفعلی

urdu tv onlineقصور کے نواح میں ظلم و جبر کی ایک نئی داستان رقم کر دی گئی ، نوجوان لڑکی کو  تین روز تک جنسی درندگی سمیت ہر طرح کی تذلیل کا نشانہ بنادیا گیا تاہم ملزمان کی گرفتاری کو پولیس نے معمول کی کارروائی قرار دیدیا۔
تفصیلات کے مطابق چک نمبر 37 کا محنت کش اپنی والدہ اور جواں سالہ ہمشیرہ (ر) کے علاوہ دیگر اہلخانہ کے ہمراہ گھر میں سو رہا تھا کہ رات کے 12 بجے کے قریب علاقہ کے بااثر وڈیرے کا بیٹا عرفان اپنے دو ساتھیوں سمیت کار پر سوار ان کے گھر آیا اور شراب کے نشے میں دھت تینوں ملزمان زبردستی ان کے گھر میں داخل ہو گئے ملزمان نے اسلحہ کی نوک پر اس کی ہمشیرہ سترہ سالہ (ر) کو زبردستی اپنی کار میں ڈال لیا، مزاحمت کرنے پر ملزمان نے جاوید وغیرہ کو تشدد کا نشانہ بنایا اور بدقسمت لڑکی کو لے کر فرار ہو گئے ملزمان نے تین روز تک مذکورہ لڑکی کو اپنے ڈیرہ پر رکھا اور اس دوران نا صرف اسے جنسی تشدد کا نشانہ بناتے رہے بلکہ اسے ناچنے کے علاوہ دیگر بری حرکتیں نہ کرنے پر مار پیٹ کرتے رہے۔روزنامہ خبریں کے مطابق تیسرے دن جب مذکورہ لڑکی بیہوش ہو گئی تو وہ اسے چک نمبر 37 کے قریبی کھیتوں میں پھینک کر فرار ہو گئے ، جب اس امر کی اطلاع اپنی بچی کی تلاش میں سرگرداں محمد جاوید ، محمد رفیق اور دوسرے افراد کو ملی تو وہ موقع پر پہنچے جہاں (ر) خون میں لت پت بیہوش پڑی ہوئی تھی ، اسی دوران ملزمان کی طرف سے موصول ہونیوالی ٹیلی فون کال میں محمد جاوید وغیرہ سے کہا گیا کہ اگر تم نے قانونی کارروائی کی کوشش کی تو تمہارے خاندان کو نام و نشان تک مٹا دیا جائے گا جبکہ محمد جاوید اور دیگر دیہاتیوں کے مطابق لڑکی کے زبردستی اغواءکے بعد انہوں نے پتوکی پولیس سے رابطہ کیا اور مقدمہ کے اندراج کے علاوہ مغویہ کی بازیابی کے لیے پولیس کی منت سماجت کی تو پولیس نے انہیں تھانے سے یہ کہہ کر چلتا کر دیا کہ جب صبح ہو گی تو مقدمہ درج کیا جائے تاہم ان کی تمام تر منت سماجت کے باوجود پولیس نے صرف اغواءکا مقدمہ درج کیا حالانکہ بازیاب ہونے کے بعد تین روز بعد بھی ہوش میں آنے پر مغویہ نے اس امر کی تصدیق کی کہ اسے تین روز تک جنسی تشدد کے علاوہ جسمانی تشدد کا بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے

مزید پڑھیں  معصوم زینب کا قاتل اس کے جنازے میں بھی شریک ہوا ،اعترافی بیان میں ایسے ایسے انکشافات کر ڈالے کہ پڑھ کر آپ کا بھی دل دہل جائے گا
دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments