مولوی خادم رضوی کے خلاف تمام مقدمات داخل دفتر۔۔۔ مگر حکومت پنجاب دراصل کیا چال چل گئی ؟ بی بی سی کا دھماکہ خیز انکشاف

مولوی خادم رضوی کے خلاف تمام مقدمات داخل دفتر۔۔۔ مگر حکومت پنجاب دراصل کیا چال چل گئی ؟ بی بی سی کا دھماکہ خیز انکشاف

اسلام آباد (ویب ڈیسک) اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے فیض آباد میں دھرنا دینے والی جماعت لبیک یا رسول اللہ کے سربراہ خادم حسین رضوی سمیت دیگر افراد کے خلاف درج ہونے والے مقدمات کی سماعت کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا ہے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے ان مقدمات کو التوا میں ڈالنے کا حکم اس مقدمے کے سرکاری وکیل کی درخواست پر دیا ہے۔اس سے پہلے متعقلہ عدالت ملزم خادم حسین رضوی کو عدالت میں عدم پیشی پر نہ صرف اُنھیں اشتہاری قرار دے چکی ہے بلکہ ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر چکی ہے۔ پیر کے روز انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جب ان مقدمات کی سماعت شروع ہوئی تو سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان مقدمات کی نئے سرے سے تفتیش کی جارہی ہے جبکہ اس ضمن میں ایک نئی تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دی گئی ہے۔اُنھوں نے کہا کہ فیص آباد میں دھرنے کے دوران نئے شواہد بھی سامنے آئے ہیں جن کی تفتیش کرنا بہت ضروری ہے۔سرکاری وکیل کا مذید کہنا تھا کہ تفتیش کی روشنی میں نیا چالان عدالت میں جمع کروایا جائے گا ۔ اُنھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ جب تک تفتیش کا عمل مکمل نہیں ہوتا اس وقت تک اس مقدمے کو التوا میں ڈال دیا جائے۔وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیا کو بتایا کہ خادم حسین رضوی کے خلاف درج ہونے والے مقدمات کو التوا میں ڈالنا اسی معاہدے کی کڑی ہے جو پنجاب حکومت اور لاہور میں دھرنا دینے والی جماعت لبیک یا رسول اللہ کی قیادت کے درمیان چند روز قبل ہوا ہے۔

مزید پڑھیں  تحریک انصاف کے ایم این اے کو سینیٹ میں پڑی ہوئی مار ہضم نہ ہو سکی ،،ایسا فیصلہ کر لیا کہ پارٹی قیادت بھی حیران

اس معاہدے میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ اس جماعت کی قیادت اور کارکنوں کے خلاف درج ہونے والے مقدمات کو واپس لے لیا جائے گا۔اس معاہدے کے تحت فیض آباد دھرنے کے دوران قانون نافد کرنے والے اداروں کی طرف سے کی جانے والی کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے چھ افراد کے قتل کا مقدمہ بھی راولپنڈی کے ایک تھانے میں درج کیا گیا ہے۔لاہور میں اس جماعت کی طرف سے دیے گئے دھرنے کے دوران اس جماعت کی قیادت کی طرف سے صوبے بھر میں احتجاجی مظاہرے کی کال دے دی گئی جس پر لبیک یا رسول اللہ کی جماعت کے کارکنوں نے اہم شاہراوں کو بلاک کردیا جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔اسلام آباد پولیس کی طرف سے فیض آباد دھرنے کے بارے میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں جو رپورٹس پیش کی گئی تھیں اس کے مطابق دھرنے کے دوران احتجاجی مظاہرین نے سرکاری املاک کو جو نقصان پہنچایا اس کی مالیت 15کروڑ روپے ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق چونکہ ملزم خادم حسین رضوی کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں اس لیے ایسے مقدمات میں نہ تو فریقین کے درمیان صلح ہوسکتی ہے اور نہ ہی ان دفعات کو ختم کیا جاسکتا ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنے سے متعلق مقدمات زیر سماعت ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس مقدمے کی سماعت کے دوران ملک کے خفیہ اداروں کی کارکردگی پر سوالات اُٹھائے ہیں۔فیض آباد دھرنے کے دوران ملزم خادم حسین رضوی سمیت اس جماعت کی قیادت نے نہ صرف عدالتی احکامات کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا بلکہ ملک کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور دیگر ججز کے خلاف نازیبا کلمات بھی کہے تھے تاہم ان کے خلاف توہین عدالت کی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ (بشکریہ بی بی سی نیوز)(س)

مزید پڑھیں  بریکنگ نیوز: راؤ انوار اہم ترین پیشی میں جیل سے عدالت نہ پہنچے ۔۔۔ جیل حکام کے عدالت میں خالی ہاتھ پہنچنے پر کیا صورت حال پیدا ہوئی؟ناقابل یقین خبر آ گئی

دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments