میاں صاحب جیل جاکر تمہیں معلوم ہوا کہ مشکل اور تکلیف کیا ہوتی ہے ۔۔۔۔ نواز شریف اور مریم نواز کی جانب سے قید کی مشکلات اور سہولیات کے فقدان کا رونا رونے پر نامور صحافی نے کرارا جواب دے ڈالا

لاہور(ویب ڈیسک)کتوں کے مقابلہ حسن میں دو مزدور رشک بھری نظروں سے کتوں کو دیکھ رہے تھے۔ معاملہ یہ تھا کہ مقابلے میں حصہ لینے والا ہر کتا کسی نہ کسی حسین دوشیزہ کی آ غوش میں تھا۔ یہ سب کچھ دیکھ کر ایک مزدور نے اپنے ساتھی کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور سرائیکی

نامور صحافی او ر کالم نگار ڈاکٹر اختر شمار اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔میں بولا،” بخشوا! ساڈے کولوں تے ایہہ کتورے چنگے ہن، جناں کوں ایہہ میماں کچھڑ چائی پھردیاں ہِن “ یعنی بخشو یار ! ہم سے تو یہ کتے اچھے ہیں جنہیں یہ دوشیزائیں بازﺅں میں لیے پھرتی ہیں۔“یہ واقعہ کچھ عرصہ قبل گلبرگ میں منعقدہ کتوں کے مقابلہ حسن کا ہے جس کے عینی شاہد ہمارے ایک شاعر دوست ہیں۔ عزیز قارئین ! ہمیں یہ سب کچھ میاں نواز شریف ، اُن کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر کیلئے جیل میں دی گئی سہولیات پر یاد آ گےا ۔ جیلوں میں اے کلاس اور بی کلاس کے قیدیوں کو ایسی سہولتےں میسر ہیں کہ ہم ایسے کئی عام افراد کیلئے یہ سہولیات بڑی آئیڈیل اور پُر کشش بن جاتی ہیں، ہمارے دوست شاعر باقی احمد پوری کا خیال ہے کہ اگر جیل میں الگ کمر ہ مع اٹیچ باتھ ،آرام دہ بستر ، ٹی وی ، اے سی، اخبارات اور دومشقتی کم ملازم میسّر آ جائیں تو ہم اپنے شاعر ، ادیب دوستوں سمیت آج ہی جیل جانے کو تےار ہیں۔ کیونکہ بڑی جیل (دنیا) میں تو لوڈ شیڈنگ ، سخت گرمی ، مچھر کے علاوہ مہنگائی نے بھی عام آدمی کی مَت مار رکھی ہے۔

جیل میں سیاستدان یا متمول شخص چلا جائے تو اُسے دنیا کی ہر آسائش حاصل ہوتی ہے۔ کاش! سارے ملک کو ایسی ہی جیل بنا دیا جائے تاکہ عام آدمی بھی سکون سے زندگی بسر کر سکے۔ کسی قیدی کو با مشقت قید ہو اور اُسے ایسی سہولیات بھی میّسر ہوں تو یہ نعمت سے کم نہیں۔ اگر انٹرنیٹ کی سہولت بھی مل جائے تو سونے پہ سہاگہ۔۔۔ سننے میں آیا ہے کہ بعض قیدیوں کے پاس موبائل فون کی سہولت بھی موجود ہوتی ہے۔ ہم حیران ہیں کہ میاں نواز شریف اپنی صاحبزادی سمیت ایسے ماحول میں بھی خوش نہیں اور وہ مچھروں کی شکایت کر رہے ہیں ۔کاش وہ لوڈشیڈنگ میں گرمی سے بد حال عوام الناس کی اجیرن زندگی کا بھی احساس کرسکتے۔ہمارا ذاتی خیال ہے کہ سیاستدان ہو یا کوئی بھی اور با اثر شخص ، عدالت سے سزا یافتہ ہر مجرم کے ساتھ یکساں سلوک روا رکھا جائے ۔یا تو سب سزا یافتہ مجرموں کو ہی اٹیچ باتھ کمروں میں ایسی لگژری فراہم کی جائے یا پھر کم ازکم سیاست دانوں کو جیل میں عام آدمیوں جیسی زندگی گزارنے کا تجربہ کرنے دیا جائے ،لیڈر انہی سختیوں سے کندن بن کر جیل سے نکلتے ہیں ۔یہاں تو ہمارے سیاستدان باہر کی دنیا سے زیادہ پُر آسائش زندگی گزارتے ہیں ۔

کھانا تو سبھی کو گھر سے لانے کی سہولت میسر ہوتی ہے ۔ کچھ مہینے کی بات ہے ، قومی اسمبلی کے رکن جمشید دستی کو جیل یا حوالات میںگزرے وقت نے رُلا دیا تھا ۔میاں صاحب کو تو بہترین سہولیات کے علاوہ اپنی چہیتی بیٹی کا ساتھ بھی میسر ہے ممکن ہے کچھ عرصہ بعد ان کے دیگر اہل خانہ بھی انہی کو جا ملیں ۔اگر سارا خاندان اکٹھا ہو تو پھر جیل کیسی ؟ جیل تو اپنوں سے دوری کا نام ہے ،کیا ہی اچھا ہو حکمران اپنے اقتدار کے دنوں میں جیلوں کے بھی دورے کریں اور وہاں قیدیوں کے رہن سہن کو ملاحظہ کریں ، اور ان عام قیدیوں کے لئے بھی زندگی کے بنیادی حقوق کا خیال رکھیں ،جیلوں کی حالت زار بہتر بنائیں ۔وہاں مجرموں کی اصلاح کا بندو بست بھی ہو۔مریم نوازنے بہت اچھا فیصلہ کیا ہے کہ وہ اسیری کے ان ایام میں قیدیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں گی ۔ میاں نواز شریف سے بھی کوئی ایسی ہی خدمت لی جاسکتی ہے ۔تاکہ قیدی یہ کہہ سکیں کہ ہمیں میاں نواز شریف نے دورانِ قید یہ تعلیم یا تربیت دی ہے ۔قیدیوں کے لئے یہ بھی ایک اعزاز کی بات ہو گی کہ وہ سابقہ وزیر اعظم سے تعلیم حاصل کریں گے۔ہم چشم ِ تصور میں میاں نواز شریف کو پڑھاتا دیکھ رہے تھے

کہ شیخوپورہ سے ممتاز شاعرہ نادرہ خیال تشریف لے آئیں۔ نادرہ خیال پنجابی کی مزاحمتی شاعرہ ہیں ، مزاحمت کرنے والوں کو کچھ نہ کچھ زندگی کی تلخیاں بھی بھگتنا پڑتی ہیں ۔ نادرہ خیال کو بھی تنگدستی اور شوگر بیماری نے لاچار کرکھا ہے۔ ان کے شوہر اشرف خیال مزدوری کر کے اپنی دو جوان بیٹیوں اور ایک کم سن بچے کی پرورش کر رہے ہیں ۔کچھ عرصے بعد اگست میں ان کی ایک صاحبزادی کے ہاتھ پیلے ہونے والے ہیں ،وہ شادی کارڈ لئے تشریف لائی تھیں ،ان کا خیال ہے کہ اگر کالم میں ان کے حالات کا تذکرہ کردیا جائے ، توحکمران ان کے مسائل سے آگاہ ہوسکتے ہیں ہم نے کہا نادرہ خیال یہ بھی آپ کی خام خیالی ہے آج کل کالم سے زیادہ ٹی وی چینل موثر ہیں ۔ اور پھر یہ نگرانوں کا دور حکومت ہے ، پھر اس نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنے گا۔ تاہم آپ کی دلجوئی اس لئے بھی مقصود ہے کہ آپ لکھاری قبیلے کی ہیں ہم آپ کی مالی امداد کیلئے سرکاری سطح پر آواز ضرور اٹھائیں گے ۔ اگر ہمارے سابقہ پروفیسر وزیر اعلیٰ حسن عسکری اپنے دور میں ایک شاعرہ کی مالی امداد کیلئے کچھ کر سکیں تو ہم ان کا یہ کا رنامہ عمر بھر یاد رکھیں گے۔اس سلسلے میں پنجاب رائٹر فنڈز اور اکادمی ادبیات پاکستان بھی توجہ کر سکتی ہیں، جو خالصتاً شاعروں ، ادیبوں کی مالی امداد کا بندوبست کرتی ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو اکادمی ادبیات پاکستان ان کا کوئی ماہانہ وظیفہ مقرر کردے تا کہ انکی گزر بسر سہل ہو جائے ،یہ نہ ہوسکے تو ان کے اہل خانہ کے لئے بھی اڈیالہ جیل جیسی سہولیات فراہم کر دی جائیں ، یہ لوگ جیل میں مچھروں کی شکایت بھی نہیں کریں گے ۔(ش،ز،خ)

دوستوں سے شئیر کریں