میاں صاحب ہتھ ہولا رکھو۔۔۔ نواز شریف کو یہ مشورہ کس نے اور کیوں دے دیا؟ خبر آگئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ہمارے خلاف دھرنے دلوائے گئے تاہم میں گھبرانے والا نہیں ہوں وقت آنے پر کرداروں کے نام لوں گا۔احتساب عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران نواز شریف نے کہا عمران خان اور طاہر القادری دھرنے

کے ثانوی کردار ہیں، بہت جلد اصل کرداروں کو بے نقاب کروں گا۔ عمران خان اور طاہر القادری تو مہرے تھے جو انگلیوں کے اشاروں پر ناچ رہے تھے ۔ قوم کو بتانا پڑے گا کہ اصل میں کون کردار ہیں جو ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔نواز شریف نے کہ پی ٹی آئی کا کوئی کردار ہے اور نہ نظریہ، یہ بہتان تراش اور پگڑی اچھال پارٹی ہے ۔ پی ٹی آئی امپائر کی انگلی کی طرف دیکھنے والی پارٹی ہے ۔ تحریک انصاف دھرنے والی پارٹی ہے ، اس کا ‘عوام کے ووٹ کو عزت دو’ پر اعتبار نہیں ہے ۔ یہ جھوٹ بولو پارٹی اور دھرنے دو جماعت ہے ۔گندی ذہنیت کے لوگ تحریک انصاف میں ہیں ۔ کے پی کے میں نیا پاکستان تو نہیں بن سکا حالات پرانے پاکستان سے بھی بدتر ہو گئے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈان لیکس کے بعد سینیٹر پرویز رشید سے جب استعفی لیا تو اس وقت کسی اور سے بھی استعفی لینا چاہتا تھا مگر عملدرآمد نہیں کر سکا ۔ سوچا ضرور تھا کہ طلب کر کے استعفی لوں مگر بوجوہ ایسا نہیں کر سکا ۔کاش یہ کام میرے ہاتھوں ہو جاتا تو سیاست میں ان طاقتوں کے راستے بند ہو جاتے ۔ اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی، مانیٹرنگ ڈیسک) نواز شریف کے متنازعہ انٹرویو کے

مزید پڑھیں  بھارتی میڈیا کا چہرہ بے نقاب ۔۔۔پاک آرمی نے سب سےبڑا راز فاش کردیا

بعد ن لیگی قیادت کے تین بڑوں نے سر جوڑ لئے ۔ پنجاب ہاؤس میں حکمران جماعت کے تین بڑوں کا اہم اجلاس ہوا ۔ سابق وزیراعظم نوازشریف سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے تفصیلی ملاقات کی۔92 نیوز نے تین بڑوں کی بیٹھک کی اندرونی کہانی کا سراغ لگا لیا۔ ملاقات میں نوازشریف کے متنازعہ انٹرویو کے بعد پارٹی کو درپیش مشکلات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے نواز شریف کو ہتھ ہولا رکھنے کا مشورہ دیا ۔ چھوٹے بھائی کا کہناتھا کہ بھائی صاحب اپنے موقف میں ذرا نرمی لائیں ، ہماری توجہ انتخابات اور نیب مقدمات پر ہونی چاہئے ۔ نئے محاذ کھولنے سے انتخابی مہم متاثر ہونے کا احتمال ہے ۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی شہبازشریف کے موقف کی تائید کی۔تاہم نوازشریف اپنے موقف پر قائم رہے اور لچک دکھانے سے انکارکردیا اور کہا کہ اب مصلحت سے کام لینا مناسب نہیں ہوگا۔ حق سچ بولنے اور ووٹ کی عزت کا بیانیہ عوام نے قبول کیا ہے ۔نوازشریف کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر قومی کمیشن بنایا جائے تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے ۔آئی این پی کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی ون آن ون ملاقات ہوئی جس میں نگران وزیراعظم کے ناموں اور

مزید پڑھیں  خواجہ آصف نے ڈونلڈ ٹرمپ کوبڑی دھمکی دے دیدی

فاٹا انضمام، نواز شریف کے بیان کے بعد کی صورتحال پر مشاورت اور عسکری قیادت کے تحفظات پربھی غور کیا گیا۔ بعد ازاں سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بھی نوازشریف سے ملاقات کی۔ انہوں نے نوازشریف کے بیانیہ سے اتفاق کیا۔ دریں اثناء نواز شریف کی زیرِصدارت پنجاب ہاؤس میں پارٹی رہنماؤں کا مشاورتی اجلاس ہوا جس میں وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی بھی شریک ہوئے ۔ اجلاس میں نواز شریف کے بیان اور پارٹی پالیسی کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر بھی مشاورت کی گئی۔ اجلاس میں نیب کے نواز شریف پر منی لانڈرنگ کے الزامات پر بھی غور کیا گیا اور چئیرمین نیب کے قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہ ہونے کی مذمت کی گئی۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ نیب پارلیمنٹ کو جوابدہ ہے ۔ چیئرمین نیب نے کمیٹی کے سامنے پیش نہ ہو کر پارلیمنٹ کی توہین کی، انہیں الزامات کی وضاحت پیش کرنا ہوگی۔ اجلاس میں رمضان المبارک کے دوران عوامی رابطہ مہم پر بھی مشاورت کی گئی۔ اس موقع پر لیگی رہنماؤں نے پارٹی قائد نواز شریف کیساتھ اظہاریکجہتی کیا۔ اجلاس میں مریم نواز، رانا ثناء اللہ، دانیال عزیز، خواجہ آصف، برجیس طاہر، سعد رفیق، طلال چودھری، مریم اورنگزیب، پرویز رشید، مہتاب عباسی اور مشاہد اﷲ بھی شریک ہوئے ۔ سر جوڑ لئے ۔(م،ش)

مزید پڑھیں  جناب سونگ تاؤ کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کومسلم لیگ ن کے صدر کے طور پر منتخب ہونے پر مبارکباد!!
دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments