’’میں نے خانہ بدوش لڑکی کے ساتھ کئی راتیں۔۔۔۔۔۔‘‘ انتہائی ہولناک مکان میں رہنے کاتجربہ کرنے والے ماسٹر کی کہانی جومزے لینے کے چکر میں خود چکرا کر رہ گیاتھا،اسکے ساتھ کیا ہوا ،جان کر آپ بھی چکرکھاجائیں گے

سب لوگ مجھے ماسٹر کہتے ہیں۔میں سکول ماسٹر تونہیں لیکن موٹر بائیکس ٹھیک کرلینے کی وجہ سے گھر والے مجھے ماسٹر کہہ کر پکارتے ہیں اور یہی نام دوستوں کی زبان پر بھی چڑھ گیا ۔میں ایک ٹورسٹ ہوں،دوست احباب مجھے سیلانی کہتے ہیں۔ان کی بات درست ہے ،مجھے اپنی بائیک کے علاوہ کسی اور چیز میں اتنی دلچسپی نہیں ہے۔ اللہ کا شکر ہے کاروبار اچھا چلتا ہے اور بھائی بھتیجے مجھے سیاحت کی عیاشی افورڈ کرنے کی سہولت دیتے ہیں۔

میں نے اس وقت تک شادی نہیں کی تھی،ڈر تھا کہیں پاوں میں زنجیر بندھ جانے سے بطور سیاح گھریلو زندگی کاپابند ہوکر نہ رہ جاوں۔ مجھے شہروں اور گھروں میں رہنا زیادہ پسند نہیں تھا ۔لیکن چند سال پہلے میں نے شادی کا فیصلہ کرلیا ۔کسی کو نہیں بتایا اور شمالی علاقوں میں نکل گیا اور وہاں ایک خانہ بدوش لڑکی سے شادی کرلی ۔
یہ خیمہ بدوش چیلاس سے کچھ پرے رہتے تھے،سالہا سال سے ان لوگوں کی زندگی خیموں میں گزر رہی تھی۔ان دنوں جب میں اپنی بائیک پر اس علاقے میں گیا تو میرا دل پہلی بار کسی پر ریجھ گیا اور میں نے گوشالی سے شادی کرلی۔اسکو سب گوشالی کہتے تھے میں نے بھی اسکا یہی نام رہنے دیا ۔
عجیب بات ہے۔۔۔ گوشالی کی معصومیت نے میرا دل جیت لیا۔پہاڑوں کی بیٹی خود بھی آزاد فضاوں میں رہنے کی عادی تھی لیکن مجھے اچانک اسکے تحفظ کا خیال آگیا ۔میرے دل سے آوازاٹھی کہ میں نے عیاشی کے لئے شادی نہیں کی،اب گوشالی ہی میری زندگی کا سب کچھ ہے۔یہ سوچنے کے بعد میں نے چیلاس کے پاس ہی ایک گھر کرائے پر لینے کا فیصلہ کیا ۔یہاں زندگی کا زیادہ مزہ لیا جاسکتا تھا۔یہ بہت پرانا گھر تھا ،پہاڑ کی چوٹی پربنے چندگھروں میں سب سے نمایاں تھا لیکن اس میں کوئی نہیں رہتا تھا۔میں نے جب کرائے کے لئے بات کی تو لوگوں نے بتایا کہ اس گھر میں نہ رہیں کیونکہ اس میں بدروحین رہتی ہیں،اور مردوں کو تنگ کرتی ہیں۔
یہ بات سن کر میں ہنس دیا۔میں نے زندگی میں اس سے زیادہ واہیات بات کوئی نہیں سنی ہوگی۔جب بھی مجھے کوئی ایسی مخلوق کی باتیں سناتا تھا تو اسکو فوری چپ کرادیاکرتا تھا کہ مجھے ایسے فضول کہانیوں اور باتوں میں کوئی دلچسپی نہیں رہی۔۔۔لہذا میں نے اس گھر کو کرائے پر لے لیا اور گوشالی کے ساتھ وہاں منتقل ہوگیا ۔
گھر کو ضروری چیزوں سے آراستہ کیا،کچن آباد کیا ۔اور میں نے گوشالی کے سنگ زندگی کا وہ لطف لیا جسے شاید ہی میں بیان کرسکوں۔پہاڑ تھے،سکون تھا،خوشبودار پھلوں کی وادی تھی،تازہ ہوائیں تھیں۔ایسا تھا جیسے جنت میں کسی حور کے ساتھ میں یہاں آبسا ہوں۔
گوشالی کہنے کو خانہ بدوش تھی لیکن بڑی سلیقہ مند اور صاف ستھری لڑکی تھی۔وہ محبت کرنا جانتی تھی۔زبانوں کا تھوڑا سا فرق تھا،عمروں کا فرق زیادہ تھا،وہ اٹھارہ سال کی اور میں تیس سال کا تھا۔۔۔
کئی راتیں میں نے گوشالی کے ساتھ اس آسیب زدہ گھر میں گزاریں ،ہم پر کوئی آفت نہیں ٹوٹی۔کسی بدروح نے مجھے نہیں چھیڑا۔پھر ایک دن گوشالی کہنے لگی’’ میرا دل گھر میں گھبرا رہا ہے چند دن خیمے میں سونا چاہتی ہوں ۔آپ مجھے والدین کے پاس چھوڑ آئیں‘‘
میرا دل تو نہیں چاہتا تھا لیکن میں اس پر مرضی مسلط نہیں کرنا چاہتا تھا ۔میں بائیک پر اسے پہاڑوں کے اس جانب اسکے ماں باپ اور بھائی بہنوں کے پاس چھوڑ کر واپس آگیا۔ویسے مجھے واپس نہیں آنا چاہئے تھا،گھر میں کون سی ایسی مصروفیت تھی جو مجھے واپسی پر مجبور کرتی۔ہاں میں نے یہ سوچا کہ مجھے مجھے آج واپسی پر اپنی بائیک کا چیک اپ کرلینا چاہئے۔میرے لئے بس یہی ایک اہم کام تھا ۔
واپس گھر پہنچ کر میں نے سب سے پہلے بائیک کی ٹیوننگ کی۔کھانا کھایااور چہل قدمی کے بعد کمرے میں جاکر سوگیا ۔ آدھی رات کو اچانک احساس ہوا میرا بیڈ بری طرح لرز رہا ہے۔پہلا خیال دل میں یہی آیا کہ زلزلہ آگیا ۔میں نے فوراً اٹھ کر بستر سے کودھنا چاہا تو سُن ہوکر رہ گیا ۔مجھے صاف طور پر محسوس ہورہاتھا کوئی میرے کاندھے دبا کر سینے پر بیٹھا ہوا ہے لیکن اسکا وجود مجھے نظر نہیں آرہا تھا۔
’’کون ہو تم‘‘میں پوری آواز سے چلایا۔
جواب میں کھنکتی سی ہنسی آئی ’’ تھوڑا سا ہمیں بھی پیار کرلو‘‘
’’ کک کون ہو تم ،نظر کیوں نہیں آرہی ‘‘ میں نے اب کی بار ذرا آہستہ سے پوچھا ۔
’’ میں اس گھر کی مالکن ہوں ‘‘ وہی نسوانی سرگوشی میرے کانوں کے پاس گونجی۔’’ تم مجھے دیکھنا چاہو گے لیکن پہلے ایک وعدہ کرو‘‘
’’ کیسا وعدہ ‘‘ میں نے پوچھا ۔لیکن ایک بات میں صاف کہہ دوں ،اس کے باوجود مجھے ڈر نہیں لگ رہا تھا ۔
’’مجھے بلانے کے لئے تم کو سامنے طاق میں رکھا دیا جلانا ہوگا،ساتھ اگر بتیاں رکھی ہیں ،وہ بھی جلا دو‘‘ اس نے کہا اور ا س بار مجھ سے دباؤ ہٹ گیا ۔
میں اٹھا اور سامنے والی دیوار میں مجھے طاق نظر آئی حالانکہ اس سے پہلے کبھی میں نے یہ طاق نہیں دیکھی تھی۔میں نے کمرے کا جائزہ لیا۔باقی سب جگہوں پر میرا لایا ہوا سامان ہی رکھا تھا ۔ اگر بتیوں کے پاس ہی ماچس دھری تھی میں نے پہلے اگر بتیاں جلائیں اور پھر دیا بھی جلایا تو کمرے میں ملگجا سا اجالا ہوا،خوشبو پھیلی تو وہ بولی ’’ذرا آنکھیں موند لو‘‘
میں نے اسکے حکم پر آنکھیں بند کیں تو دوسرے ہی لمحے بولی’’ کھول لو آنکھیں‘‘

مزید پڑھیں  آن لائن آرڈر میں غلطی،

آنکھیں کھولتے ہی میں نے دیکھا کہ گوشالی میرے بستر پر دراز تھی۔اس نے نہایت خوش رنگ لباس پہنا ہوا تھا،بالوں کا جوڑا بنایا ہوا تھا ،ہونٹوں پر قاتلانہ مسکراہٹ تھی۔اس نے وارفتگی سے بازو پھیلائے۔اسے دیکھتے ہی میری عقل ماوف ہوگئی۔میں پاس گیا تو شدت جذبات سے اس نے میری کلائی پر اپنا ناخن چبھوکر اپنی بے قراری کا اظہار کیا۔۔۔میں تو جیسے اسکی آنچ سے موم کی طرح پگل گیا’’ تم واپس کب آئی اور آنے کا یہ کیسا انداز ہے‘‘ میں اسکے پاس جاکر اسکا چہرہ ہاتھوں میں لیکر خوابیدہ اندازمیں بولا۔
’’ اداس ہوگئی تھی ۔۔۔‘‘ اس نے ایسے انداز سے کہا کہ پھر وہ رات میری زندگی کے حسین لمحوں میں گزرتی چلی گئی ۔گوشالی اور مجھ پر نشہ سا چھایا تھا۔محبت کی پُرجوش قربت کالمحہ۔۔۔ دل سے آہ نکلی کاش یہ رات اور یہ لمحے یہیں ٹھہر جائیں۔لیکن وقت کہاں رکتا ہے ۔
صبح میری آنکھ کھلی تو میں نے کروٹ لیکر گوشالی کو دیکھنا چاہا لیکن وہ بستر پر نہیں تھی،میں نے آواز دیکر اسے پکارا ۔۔لیکن پورے گھر میں میری آواز گونج کر رہ گئی۔میں اٹھا اور پورے گھر میں گوشالی کو تلاش کر چھوڑا لیکن وہ کہیں نہیں ملی۔میں پریشان ہوگیا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ کہیں وہ واپس تو نہیں چلی گئی۔میں نے فوری کپڑے بدل لے اور گوشالی کے والدین کے پاس پہاڑوں میں پہنچ گیا۔گوشالی اس وقت خیمے کے باہر دھوپ سینک رہی تھی۔
’’ یہ کیا بات ہوئی،مجھے بتائے بغیر تم واپس چلی آئی ،ایسا تو نہیں کرتے ‘‘ میں نے اسکا ہاتھ پکڑ کر کہا
’’ میں نے کیا کیا ہے ‘‘ اس نے تھکے ہوئے لہجے میں پوچھا
’’ ارے ،اتنی معصوم تو نہ بنو ۔۔۔ رات تم گھر واپس آئی تھی اور صبح ہوتے ہی غائب ہوگئی ‘‘
’’ میں تو کہیں نہیں گئی۔رات سے ادھر ہی ہوں۔آپ نے کس کو دیکھ لیاہے ،کوئی سپنا تو نہیں دیکھ لیا ‘‘ گوشالی نے ہنستے ہوئے پوچھا۔
’’ سپنا ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ دیکھو گوشالی مذاق نہیں کرو ۔۔۔ میں سچ کہہ رہا ہوں ‘‘ اس دوران اسکی اماں خیمے سے باہر نکل آئی اور مجھے دیکھتے ہی بولی’’ اچھا ہوا آپ آگئے۔رات بھر سے اسکی طبیعت بہت خراب ہے۔مرتے مرتے بچی ہے۔پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا،رات بھر اسکے سینے میں درد رہا ہے ،چہرہ پیلا پڑگیا تھا اور بار بار سر جھٹکتی رہی ہے۔ہم تو سوچ رہے تھے کہ آپ کو کیسے بلایا جائے ‘‘
گوشالی کی اماں کی بات سن کر میں نے غور سے دیکھا ،اسکا چہرہ ستا ہوا تھا،آنکھوں میں دکھن سی نظر آرہی تھی۔معاً میری نظر اپنی کلائی پر پڑی،ایک گہرا نیلگوں سا زخم رات بھر کی کہانی کی سچائی کی گواہی دے رہا تھا ۔۔۔ میں نے گوشالی سے مزید کچھ نہیں کہاسوائے اس بات کے ’’ٹھیک ہے تم نہیں آئی تو میں ہی آگیا ہوں،اب ادھر تمارے ساتھ خیمے میں ہی رہوں گا ‘‘ میں نے اسے ساتھ لیا اور ہم خیمے میں چلے گئے۔گوشالی نے میرا ہاتھ بڑی مضبوطی سے تھام رکھا تھا ۔اس نے اپنا سر میری گود میں رکھا اور کسی معصوم بچے کی طرح سوگئی۔ رات بھر نہ جانے کون اسکا جسم چرا کر لے گیا تھا جو اب میری گود میں آکر سکون کی نیند سوگیا تھا۔اب مجھے کوئی وہم نہیں رہا تھا کہ اس گھر میں بدروحیں رہتی ہیں ۔اور اس گھر کی مالکن گوشالی کے روپ میں میں میرے ساتھ مزے لے چکی ہے۔

دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments