ناراض لیگی رہنما زعیم قادری تحریکِ انصاف کو کیسے فائدہ پہنچا سکتے ہیں؟ بڑے کام کا سیاسی تبصرہ سامنے آ گیا

لاہور(ویب ڈیسک)لاہور میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 133 کا شمار اُن چند حلقوں میں ہوتا ہے جو 25 جولائی کے روز پاکستان کی توجہ کے مرکز ہوں گے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہاں سے مسلم لیگ ن کے ناراض رہنما اور سابق رکن صوبائی اسمبلی سید زعیم قادری جیپ کے

صحافی عامر سہیل اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں۔۔۔ نشان پر اپنی ہی سابقہ جماعت کے خلاف الیکشن لڑنے کے لیے بھرپور انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔مسلم لیگ ن کی قیادت اس حلقے میں اپنی جماعت کے ووٹ بینک کو اتنا مضبوط سمجھتی ہے کہ گزشتہ انتخابات میں اس نے انارکلی سے تعلق رکھنے والے وحید عالم خان کو اس حلقے میں کھڑا کیا تھا جو ہزاروں ووٹوں کے واضح فرق سے رکنِ قومی اسمبلی بننے میں کامیاب ہو گئے تھے۔مسلم لیگ ن نے لاہور میں پارٹی کے صدر پرویز ملک کو میدان میں اتارا ہے جو ابتدائی طور پر این اے 127 سے امیدوار تھے مگر اس حلقے سے مریم نواز کے امیدوار بننے اور این اے 125 میں شدید مخالفت کا سامنا ہونے کی وجہ سے انہیں این اے 133 سے الیکشن لڑایا جا رہا ہےتحریک انصاف نے اس حلقے سے اپنے پرانے سیاسی کارکن اور جماعت اسلامی کے سابق رہنما اعجاز چوہدری کو انتخابی اکھاڑے میں اتارا ہے جو پوری توانائی اور منظم انداز سے اپنی مہم چلا رہے ہیں۔اعجاز چوہدری کے جیتنے اور ہارنے کا زیادہ تر دارومدار اس بات پر ہو گا کہ زعیم قادری مسلم لیگ ن کو کتنا نقصان پہنچاتے ہیں۔ اگر زعیم قادری 20 سے

مزید پڑھیں  Chaudhry Nisar Reponse on Nawaz Sharif Allegation on Pakistan

25 ہزار ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو پرویز ملک کے لئے صورتحال مشکل ہو جائے گی۔اس حلقے کے نمایاں علاقوں میں ٹاؤن شپ، جوہر ٹاؤن کے زیادہ تر بلاکس، وفاقی کالونی، عبداللہ ٹاؤن، عوامی کالونی، کوٹ لکھپت کا صنعتی اور رہائشی علاقہ، چونگی امرسدھو کے چند علاقے، قائد ملت کالونی، فضل حق کالونی، رسول پارک، ایچسی سن سوسائٹی، لیاقت آباد، پنڈی راجپوتاں، مریم کالونی، باگڑیاں، ستارا کالونی، فریہ کالونی اور گرین ٹاؤن کے چند بلاکس شامل ہیں ۔یہ وہ حلقہ ہے جہاں سے ماضی میں جماعتِ اسلامی کے لیاقت بلوچ، پاکستان عوامی تحریک کے طاہر القادری اور مسلم لیگ نون کے سابق وفاقی وزیر اسحاق ڈار کامیابی حاصل کر چُکے ہیں۔ماضی میں یہاں سے مذہبی سیاسی جماعتوں کے اُمیدواروں کی کامیابی سے ظاہر کرتی ہے کہ اس حلقے کے باسی مذہب کے نام پر بھی ووٹ دیتے ہیں تاہم ماہرین کے مطابق 25 جولائی کے روز یہاں اصل مقابلہ مسلم لیگ ن اور تحریکِ انصاف میں ہی ہوگا تاہم زعیم قادری کو ملنے والے ووٹ اُمیدواروں کی جیت میں فیصلہ کُن ثابت ہوں گے۔پرویز ملک کو ن لیگ میں ناقابلِ شکست اُمیدوار تسلیم کیا جاتا ہےسیاسی ماہرین کے مطابق اس حلقے میں پڑھے لکھے درمیانے طبقے کے نوجوانوں کی کثیر تعداد بھی آباد ہے جن میں سے زیادہ تر کی ہمدردیاں تحریک انصاف کے ساتھ ہیں۔اگر یہ نوجوان 25 جولائی کو پولنگ اسٹیشنوں پر پہنچے اور اپنا ووٹ تحریک انصاف کو دیا تو یہ حلقہ مسلم لیگ ن کے ہاتھ سے نکل کر تحریک انصاف کے پاس جا سکتا ہے۔مزید براں اس حلقے میں تاجروں کی بھی بڑی تعداد آباد ہے جو روایاتی طور پر لاہور میں مسلم لیگ ن کی حمایت کرتے ہیں۔(ش۔ز۔م)

مزید پڑھیں  جوڈیشل کمپلیکس میں نواز شریف کی پیشی، اڈیالہ جیل سے لائے گئے ملزمان کے گو نواز گو کے نعرے

دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments