نجی میڈیکل کالجز میں بھاری فیسوں کی وصولی ازخود نوٹس کی سماعت،سپریم کورٹ نے گورنر پنجاب کے بیٹے کو طلب کر لیا

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں نجی میڈیکل کالجز میں بھاری فیسوں کی وصولی ازخودنوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے پورے پاکستان کے میڈیکل کالج فیسوں کے کیس سپریم کورٹ ٹرانسفرکرنے کاحکم دیتے ہوئے گورنر پنجاب رفیق رجوانہ کے بیٹے کو طلب کر لیااور سماعت میں کچھ دیر کیلئے وقفہ کردیا،چیف جسٹس نے کہا ہے کہ آج کے بعدمیڈیکل کالجزکی فیس وصولی کاطریقہ سپریم کورٹ طے کرے گی اورسپریم کورٹ کی طے شدہ فیس ہی وصول کی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں نجی میڈیکل کالجز میں بھاری فیسوں کی وصولی ازخودنوٹس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں 2رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، نجی میڈیکل کالجز کے چیف ایگزیکٹو اور مالکان عدالت میں پیش ہوئے، لیکن فاطمہ میموریل میڈیکل کالج کے چیف ایگزیکٹو اور مالکان پیش نہیں ہوئے، دوران سماعت خاتون وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کل آپ کی عدالت میں ایک کالج کی طرف سے زیادہ فیس وصولی کی شکایت کی توشکایت پرمجھے گورنرپنجاب کے بیٹے سمیت بڑے بڑے لوگوں کے فون آئے۔
اس پر چیف جسٹس ثاقب نثارنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیسے جرات ہوسکتی ہے کہ گورنر کا بیٹا آپ کو فون کرے،قانون میں دیکھیں کہ گورنر پنجاب کو طلب کرنے کی کیا گنجائش ہے،چیف جسٹس پاکستان نے وقفے کے بعد گورنر پنجاب کے بیٹے کو طلب کرلیا۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ میں نے مالکان اور چیف ایگزیکٹو کو طلب کیا تھا،مجھے آج علم ہوا کہ ہرنجی کالج اپنامیرٹ بنارہاہے،انہوں نے کہا کہ پہلے تو میڈیکل کے طالبعلم ایک ہی جگہ ہسپتال میں مریض دیکھتے تھے،کیا آپ اب بسوں میں طالبعلموں کو لے جا کر مریض دکھاتے ہیں؟
چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ہم اس قوم کو کچھ واپس کریں،مجھے کل بتایا گیا تھا کہ6لاکھ 42ہزارفیس وصول کی جارہی ہے،آج معلوم ہورہاہے کہ9 لاکھ سے زائدفیس وصول کررہے ہیں۔

دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments

مزید پڑھیں  رائو انوار کس طرح بری ہوں گے۔۔۔معافی دلوانے کی تیاریاں مکمل کرلی گئیں:حیران کن انکشاف