نواز شریف کا بچنا ناممکن ہو گیا ۔۔۔۔۔۔آج کیا دھماکہ خیز ثبوت احتساب عدالت کے ہاتھ لگ گئے ؟ بریکنگ نیوز آ گئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک)شریف خاندان کے خلاف نیب کے العزیزیہ ریفرنس کی سماعت کے دوران استغاثہ کی گواہ نورین شہزادی نے نوازشریف اور ان کے بیٹے حسین نواز کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات پیش کردیں۔العزیزیہ ریفرنس میں استغاثہ کی گواہ نورین شہزادی کا بیان ریکارڈ۔نجی نیوزکے مطابق اسلام آباد میں احتساب عدالت کے

جج محمد بشیرنے شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسزکی سماعت کی، سماعت کے دوران العزیزیہ ریفرنس میں استغاثہ کی گواہ نورین شہزادی کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔بیان ریکارڈ کرانے کے دوران نورین شہزادی نے نواز شریف کے بیٹے حسین نواز کے اکاوٴنٹ کی تفصیلات پیش کیں، نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے گواہ کی دستاویزات پر اعتراض اٹھا دیا۔سماعت کے دوران گواہ نے نواز شریف کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات بھی پیش کردیں، گواہ نے بتایا کہ نواز شریف کا اکاوٴنٹ اگست 2009 میں کھولا گیا، اکاوٴنٹ کھولنے کے فارم میں نواز شریف کو چوہدری شوگر ملز کا سی ای او لکھا گیا ہے اوراکاؤنٹ کھولنے کا مقصد کاروبار سے ہونے والی بچت کو رکھنا ہے.نواز شریف نے ریکارڈ پراعتراض اٹھایا کہ اوپننگ فارم اورکے وائی سی میں اکاوٴنٹ ٹائپ میں تضاد ہے، اوپننگ فارم میں اکاوٴنٹ ٹائپ کے خانے میں کرنٹ اکاوٴنٹ پر نشان لگایا گیا، جس پر گواہ نورین شہزادی نے بتایا کہ صارفین کے اصرار پر کے وائی سی (فارم) میں سیونگ لکھا جاتا ہے۔یاد رہے آج کے دن مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف نے سینیٹ الیکشن پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنی گالہ والے اور کراچی والے ایک ہی دربار پر جاکر جھکے

مزید پڑھیں  Secrets Hotel Maids Never Tell Their Gue...

اس کی کیا خاص وجہ تھی وہ عوام کے سامنے آنی چاہیے۔اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نواز شریف کے خلاف دائر نیب ریفرنسز کی سماعت کر رہے ہیں۔احتساب عدالت نے آج 5 گواہوں کو بیان ریکارڈ کرنے کے لیے طلب کیا تھا۔سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انوسیٹمنٹ ضمنی ریفرنسز کی سماعت کے دوران استغاثہ کی گواہ نورین شہزادی کا بیان قلمبند کرلیا گیا۔گواہ نورین شہزادی نے نوازشریف کے اکاؤنٹ کی تفصیلات عدالت میں پیش کیں۔انہوں نے بتایا کہ نواز شریف کا اکاؤنٹ اگست 2009 میں کھولا گیا، اکاؤنٹ کھولنے کے فارم میں نوازشریف کو چوہدری شوگرملز کا سی ای او لکھا گیا، اکاؤنٹ کھولنے کا مقصد کاروبارسے ہونے والی بچت کورکھنا ہے۔گواہ کے بیان پر نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ اوپننگ فارم اور کے وائی سی میں اکاؤنٹ ٹائپ میں تضاد ہے، اوپننگ فارم میں اکاؤنٹ ٹائپ کے خانے میں کرنٹ اکاؤنٹ پر مارک کیا گیا ہے۔گواہ نورین شہزادی نے خواجہ حارث کے اعتراض پر کہا کہ صارفین کے اصرارپرکے وائی سی (فارم) میں سیونگ لکھا جاتا ہے۔سماعت کے دوران استغاثہ کے دوسرے گواہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیب وقار احمد کا بیان قلمبند کرلیا گیا جس کےبعد تیسرے گواہ نجی بہنک ملازم شیرخان کا بیان قلمبند کیا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں  ”مجھے جنسی عمل کی لت لگ گئی تھی میں روزانہ اپنے شوہر سے دن میں 5 بار اس کا تقاضا کرتی تھی لیکن پھر اس نے تنگ آ کر مجھے طلاق دیدی تو میں نے ۔۔۔

دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments