(ن) لیگ ختم : پنجاب میں شہباز شریف کا دوبارہ حکومت میں آنا ناممکن ہو گیا ، تین دن کے اندر اندر کن کن ضلعوں سے کتنے اور کونسے ایم این ایز اور ایم پی ایز شریف برادران کا ساتھ چھوڑنے والے ہیں ؟ دھماکہ خیز خبر آ گئی

لاہور (ویب ڈیسک ) الیکشن 2018ء کی انتخابی مہم جوں جوں جوبن پر پہنچ رہی ہے مسلم لیگ (ن) میں ٹوٹ پھوٹ کی خبروں میں تیزی آتی جا رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو چودھری نثار اور ساتھیوں کے جانے سے جو نقصان پہنچ سکتا ہے اسے روکنے میں شہباز شریف کامیاب ہو گئے ہیں

لیکن تاحال خبریں گردش کر رہی ہیں کہ 31 مئی کے بعد مسلم لیگ (ن) کے آشیانے سے بہت سے پنچھی پرواز کر سکتے ہیں۔ اس وقت تین طرح کے لوگوں کی مسلم لیگ (ن) چھوڑنے کی چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔ ایک ایسے ممبران اسمبلی جو الیکشن 2013ء میں آزاد حیثیت سے جیت کر مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوئے تھے، دوسرے وہ جو نواز شریف کے بیانیے کے نتیجے میں اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی کیخلاف ہیں اور تیسرے وہ ہیں جن کا حلقہ انتخاب نئی حلقہ بندیوں کے نتیجے میں ختم ہو گیا ہے۔ آئیے اب ہم یکے بعد دیگرے ان تینوں اقسام کے ممبران اسمبلی کا جائزہ لیتے ہیں۔ 11 مئی 2013ء کے عام انتخابات کے بعد صرف 16 روز بعد آزاد حیثیت میں جیتنے والے 33 ممبران پنجاب اسمبلی اور 12 ممبران قومی اسمبلی نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی تھی۔ ان میں سے اب تک چند ایک مسلم لیگ (ن) چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہو چکے ہیں جن میں این اے 194 رحیم یار خان سے مخدوم خسرو بختیار، این اے 169 وہاڑی سے طاہر اقبال چودھری، این اے 156 خانیوال سے رضا حیات ہراج شامل ہیں جبکہ این اے 180 مظفر گڑھ سے سردار عاشق حسین گوپانگ، این اے 176 مظفر گڑھ سے ملک سلطان محمود ہنجرا، این اے 91 جھنگ سے نجف عباس سیال اور این اے 188 بہاولنگر سید محمد اصغر کے جانے کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں  پولیس مقابلے میں ہلاک نقیب محسود کا تعلق کہاں سے اورکیا ارادے رکھتا ہے:جانئے

مسلم لیگ (ن) کی ٹکٹ پر منتخب ہونے والے جو ممبران قومی اسمبلی پی ٹی آئی میں جا چکے ہیں ان میں این اے 153 ملتان سے رانا محمد قاسم نون ، این اے 182 لیہ سے سید محمد ثقلین شاہ بخاری نمایاں ہیں۔ جہاں تک میاں نواز شریف کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ موقف کی سختی سے نالاں افراد کا تعلق ہے ان میں نمایاں نام چودھری نثار کا ہے۔ چودھری نثار کی رانا تنویر حسین جیسے پارٹی کے سینئر لوگوں سے پختہ دوستی ہے جبکہ سیالکوٹ کے چودھری ارمغان سبحانی بھی چودھری نثار علی خان کے ہم خیالوں میں سے ایک ہیں، سو انکے حوالے سے جو خبریں آتی ہیں ان میں یہ حقیقت نمایاں ہے کہ ان کا فیصلہ چودھری نثار کی محبت میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ تیسری قسم کے وہ لوگ ہیں جن کا حلقہ انتخاب نئی حلقہ بندیوں نے ختم کر دیا۔ نارووال کے میاں محمد رشید کا پرانا حلقہ انتخاب این اے 115 نئی حلقہ بندیوں کی نذر ہو گیا ہے اور اب نارووال میں قومی اسمبلی کی 3 کی بجائے 2 نشستیں رہ گئی ہیں جن میں سے ایک پر احسن اقبال اور دوسری پر دانیال عزیز امیدوار ہوں گے، سو میاں عبدالرشید کے پاس اسکے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا کہ

مزید پڑھیں  پاکستانی نے پوری دنیا میں ایسا کام کردیا ۔۔۔کہ دیکھنے والے حیران رہ گئے

وہ دانیال عزیز کے مقابلے میں آزاد حیثیت میں الیکشن لڑیں۔ انکے بارے میں افواہیں رہیں کہ وہ پی ٹی آئی میں شامل ہو رہے ہیں لیکن قومی امکان ہے کہ وہ آزاد حیثیت میں ہی قومی اسمبلی کا الیکشن دانیال عزیز کے مقابلے پر لڑیں گے۔ یہی صورتحال این اے 98 گوجرانوالہ سے مسلم لیگ (ن) کے منتخب ممبر قومی اسمبلی میاں طارق محمود کو پیش آئی تھی۔ انکا حلقہ بھی نئی حلقہ بندیوں میں ختم ہوگیا اور انکا نئے حلقے کا ٹکٹ کیلئے وزیر دفاع خرم دستگیر خان سے میچ پڑتا تھا سو وہ مسلم لیگ (ن) چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے جہاں سے انہیں خرم دستگیر خان کے مقابلے میں ٹکٹ ملنے کی یقین دہانی کر دی گئی ہے۔ ایسی ہی صورتحال کا سامنا این اے 140 سے مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی ملک محمد رشید خان کو ہے، انکا حلقہ انتخاب بھی ختم ہو گیا ہے۔ پہلے انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے قصور کے ایک دوسرے حلقے جہاں سے سلمان حنیف رکن قومی اسمبلی ہیں، ٹکٹ کیلئے قیادت سے یقین دہانی چاہی لیکن جب کام نہ بنا تو انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے ایک اور حلقے سے رکن قومی اسمبلی رانا محمد اسحاق خان کے حلقے کا رخ کیا۔ قصور کی رانا فیملی اس وقت سیاسی طور پر نہ صرف خاصی مضبوط ہے بلکہ شریفوں کے قریب بھی ہے۔

مزید پڑھیں  خواتین کو ہراساں کرنے کا معاملہ ۔۔۔۔۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے نوٹس لیتے ہوئے دبنگ حکم جاری کر دیا

اب ملک رشید خان کے پاس نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن کیونکہ اس حلقہ انتخاب میں پی ٹی آئی کی ٹکٹ کے پہلے سے تین خواہشمند مسز میاں خورشید محمود قصوری، سردار آصف احمد علی اور ڈاکٹر عظیم الدین زاہد لکھوی موجود ہیں سو ملک محمد رشید خان کے پاس مسلم لیگ (ن) چھوڑ کر آزاد حیثیت میںالیکشن لڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ جہاں تک ننکانہ کے چودھری طارق محمود باجوہ ایم پی اے کا تعلق ہے ان کا مسلم لیگ (ن) کے سانگلہ ہل ننکانہ سے 1990ء سے 2013ء تک پانچ مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے والے چودھری برجیس طاہر کے ساتھ مقامی سیاست میں ٹکرائو ہو گیا ہے اور وہ برجیس طاہر کے مقابلے پر اس حلقے سے مسلم لیگ (ن) کی ٹکٹ کے خواہاں ہیں۔ انہیں قوی امکان ہے کہ میاں نواز شریف برجیس طاہر کو سینٹ میں لے جائینگے اور انہیں ٹکٹ مل جائیگا لیکن ان کے قریبی ذرائع کہتے ہیں کہ اس کے برعکس کچھ ہوتا ہے تو وہ آزاد حیثیت سے الیکشن لڑیں گے۔ شرقپور سے آزاد حیثیت میں ایم پی اے منتخب ہونے والے چودھری علی اصغر منڈا کا بھی اپنے ایم این اے رانا تنویر حسین سے تنازعہ تھا اور انہوں نے آزاد حیثیت سے رانا تنویر حسین کے مقابلے میں قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے۔(ش س م)

دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments