ٹرین میں آدمی کا خاتون پر ’جنسی حملہ‘ لیکن یہ خاتون دراصل کون تھی؟ حقیقت سامنے آئی تو آدمی کو زندگی کا سب سے بڑا جھٹکا لگ گیا، یہ تو سوچا بھی نہ تھا کہ۔۔۔

نیویارک(نیوز ڈیسک) جنسی جرائم کے عادی افراد اپنی بد فطرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر کہیں بھی اور کسی کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔ نیویارک کی زیرمین ریلوے میں سفر کرنے والے فلپ مونڈریگن نے بھی یہی کیا۔ چلتی ریل گاڑی میں وہ ایک نوجوان خاتون کے پیچھے جا کھڑا ہوا اور موقع پا کر اپنا جسم اس کے ساتھ چھونے لگا، مگر اس بار اس کی قسمت بہت خراب تھی۔ اس چھپن سالہ بدقماش شخص کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ جس خاتون کے ساتھ شیطانی حرکت کر رہا تھا وہ سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکار تھی۔ صرف یہی نہیں، خاتون اہلکار کا خاوند اور ایک ساتھی سارجنٹ بھی قریب ہی موجود تھے۔ وہ دونوں بھی پولیس میں ہیں اور سادہ لباس میں تھے۔ اب آگے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اس شخص کے ساتھ کیا ہوا ہو گا۔

دی میٹرو کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی صبح نیویارک کے یونین سکوائر سے روانہ ہونے والی ریل گاڑی میں پیش آیا۔ جونہی ہوس پرست شخص نے اپنا جسم خاتون پولیس اہلکار کے ساتھ چھوا تو خاتون نے پلٹ کر اسے دبوچ لیا۔ ساتھ ہی اس کا پولیس مین خاوند اور ساتھی سارجنٹ بھی پہنچ گئے۔ اگلے سٹیشن پر گاڑی رکتے ہی وہ تینوں ملزم کو اتار کر سیدھا پولیس سٹیشن لے گئے۔
خاتون اور اس کے ساتھی پولیس اہلکاروں کا تعلق نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ٹرانزٹ بیورو اینٹی کرائم سکواڈ سے ہے۔ وہ سادہ لباس پہن کر ریل گاڑی میں جرائم پیشہ افراد کا سراغ لگانے میں مصروف تھے کہ یہ واقعہ پیش آ گیا۔ ملزم کے خلاف قانونی کاروائی جاری ہے۔

مزید پڑھیں  اللہ کے نام پہ کافی پلا دو ۔ انوکھا فقیر

افطار کی اہمیت اور اجروثواب

ماہ صیام میں انفرادی اور اجتماعی سطح پر افطاری کا اہتمام کیا جانا چاہیے جوکہ باعث برکت ہے،گھروں پر اہل محلہ ،عزیز واقارب کے لیے افطارکے لیے پروگرام کیے جائیں،درس قرآن ،درس حدیث،رمضان کے فضائل پر لیکچر کے لیے اہتمام کریں،اجتماعی دعا کرائیں،دعا وہ اظہار بندگی ہے کہ جو اللہ پاک بہت زیادہ پسند ہے،اور دعا کبھی رائیگا بھی نہیں جاتی مگر اسلام میں بہ وقت افطار روزہ دار کی دعا بہت اہمیت کی حامل ہے،افطار پارٹیوں کو کھانے پینے کی نمائش کی بجائے خدا کی خوشنودی کی خاطر مخلوق کی خدمت کے لئے وقف کیا جائے تو خدا کی رضا اور بندوں کی دعا لی جاسکتی ہے۔
یوں توں ماہ کریم کا ہر ہر لمحہ تاریخی،بابرکت اور یادگار ہے۔اس کہ باجو د تاریخ اسلام کے کئی اہم مراحل کو رمضان سے نسبت حاصل ہے جیسے 17 رمضان لمبارک غزوہ بدر،10 رمضان المبارک یوم باب السلام سندھ،27 رمضا ن المبارک یوم نزول قرآن ،27 رمضان المبارک ہی یوم آزادی پاکستان کی یاد دلاتا ہے۔ان ایام میں افطار پروگرام کے موضوعات اسی مناسبت سے ہوں تو ماضی سے جڑنا آسان ہوگا۔
اسلام رمضان المبارک میں ایمان والوں کو ایک دوسرے سے مضبوط تعلقات استوار کرنے کے لئے خوبصورت پیکج عطا کرتا ہے،بتا یاجاتا ہے کہ ایمان والا اپنے دوسرے ایمان والے بھائی کا روزہ افطا ر کروائے گا،اُسے تین انعامت ملیں گے،بخشش کا پروانہ،دوزخ سے آزادی کا سرٹیفیکیٹ اورروزے دار جتنا ثواب اور یہ بیکج صرف امیروں کو ہی نہیں عطا فرمایا بلکہ غرباء پر بھی کرم فرما ہے۔
کہ اگر کوئی غریب آدمی دودھ کے ایک گھونٹ،ایک کھجور یا پانی کے ایک گھونٹ سے روزہ افطارکرائے گا،اُسے بھی انہی انعامات سے نوازاجائے گا،یہ دراصل روزہ کی برکت سے بہن بھائیوں اور قرابت داروں کے تعلقات کی مضبوطی اور ایک دوسرے سے محبت اور پیار کے بندھن کو مضبوط کرنے کا خوبصورت پیکج عطا فرمایا ہے،روزہ ہمیشہ کھجور سے افطار کیا جائے،اگر کھجور میسر نہ ہو تو پھر پانی سے افطار کرلے کیونکہ پانی پاک کرنے والا ہے،کھجور اور پانی سے افطار کو پسند کیا گیا ہے کہ اگر آپ کوئی اہتمام کرنے کی سکت نہیں رکھتے تو بے شک آپ کھجور یا پانی سے ہی کسی کا روزہ افطار کروادیں اللہ پاک آپ کو بھی وہی اجرء عطاء فرمائے گا،ایک روایت ہے کہ جو شخص افطاری اور نماز کی ادائیگی کے بعد روزہ دارکو خوب پیٹ بھر کر کھانا کھلائے گا اُس کو ایسی نعمت سے نوازا جائے گاجو قیامت کے ہولناک اور خوفناک وقت کے لئے انتہائی ضروری ہے،وہ نعمت مبارکہ یہ ہے کہ جو کسی روزے دار کو خوب پیٹ بھر کر کھانا کھلائے گا،رمضان المبارک کا پہلا عشرہ اختتام پذیر ہونے کو ہے ،ابھی بھی وقت ہے کہ ہم اس انعام الہٰی کو حاصل کرنے کے لئے تھوڑی سے ہمت کرلیں،یہ ضروری نہیں کہ دس بیس اور سو پچاس روزے داروں کی افطاری کروائی جائے تو افطاری ہوگی بلکہ ایک روزہ دار کی اِفطاری پر بھی اتنا ہی انعام ہے۔

مزید پڑھیں  گڈ گورننس کے منہ پر تمانچہ :پورے پنجاب میں جاری خادم اعلیٰ پروگرام میں اربوں روپے کی کرپشن کا انکشاف
دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments