پاکستانی ا سٹیج کے بے مثال اداکار ببو برال کا اصل نام کیا تھا اور کیا چیز انہیں شوبز میں لےآئی ؟پڑھیے ایک منفرد تحریر

لاہور (ویب ڈیسک )اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ سٹیج پر اداکاری کرنا بہت مشکل ہے۔ خاص طور پر مزاحیہ اداکاری تو بہت ہی مشکل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سٹیج فنکار جس قسم کی بھی اداکاری کرتے ہیں اس کا رد عمل فوری طور پر سامنے آ جاتا ہے۔ ویسے اس میں کوئی شک نہیں کہ

پاکستانی فلمی صنعت کو بڑے اعلیٰ درجے کے مزاحیہ اداکار ملے جنہوں نے اپنی زبردست اداکاری سے اپنے مداحوں کا ایک وسیع حلقہ پیدا کیا۔ ان مزاحیہ اداکاروں میں منور ظریف، البیلا، رنگیلا، علی اعجاز، ننھا اور لہری کے نام لئے جا سکتے ہیں۔ ان میں سے البیلا اور علی اعجاز وہ فنکار ہیں جو فلموں سے پہلے سٹیج پر اداکاری کرتے رہے۔ سٹیج پر اداکاری کر نے والے دو فنکار ایسے تھے جن کا انتقال اپریل کے مہینے میں ہوا۔ ایک کا نام تھا ببو برال جبکہ دوسرے کا نام مستانہ۔ دونوں نے بہت شہرت حاصل کی۔ ان کی موت کا صدمہ ابھی تک برقرار ہے۔ دونوں انتہائی منجھے ہوئے فنکار تھے۔ سب سے پہلے ہم ببو برال کے بارے میں اپنے شائقین کو کچھ بتاتے ہیں۔ ببو برال کا اصل نام ایوب اختر تھا۔ وہ 1964ء میں گکھڑ منڈی میں پیدا ہوئے ، انہوں نے 1982ء میں کامیڈین کے طور پر گوجرانوالہ میں اپنا کیریئر شروع کیا۔ انہیں قدرت نے یہ صلاحیت بھی دی تھی کہ وہ بڑے مشہور گلوکاروں کے گائے ہوئے نغمات بڑی مہارت سے گاتے تھے۔ ویسے تو ان کے کئی سٹیج ڈرامے مقبول ہوئے لیکن ان کا سب سے مشہور ڈرامہ ’’شرطیہ مِٹھے‘‘ تھا۔ ان کے دیگر سٹیج ڈراموں میں ’’بیوی نمبر ون اور ’’ٹوپی ڈرامہ‘‘ کو بھی بہت پسند کیا گیا۔ ان کی ایک اور خوبی یہ بھی تھی کہ سٹیج پر قوالی بھی بہت اچھے انداز میں گاتے تھے اور اگر انکے ساتھ انور علی ، شوکی خان اور دوسرے سٹیج اداکار بھی قوالی میں شریک ہوتے تو اس قوالی کو چار چاند لگ جاتے تھے۔ ببو برال وہ فنکار تھے جنہوں نے بھارت میں بھی کچھ کامیڈی پروگرامز کئے اور انہیں بہت پذیرائی ملی۔

مزید پڑھیں  ”چل دل میرے، چھوڑ یہ پھیرے۔۔۔“ کئی دنوں کی خاموشی کے بعد علی ظفر نے ایسا کام کر دیا کہ میشاءشفیع کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آئے گا، سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہو گیا


وہ سرطان اور گردوں کی بیماری میں مبتلا تھے۔ 16 اپریل 2011ء کو وہ اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔ تمام عمر اس فنکار نے لوگوں کو ہنسایا لیکن پھر وہ اپنے مداحین کو روتا چھوڑ گیا۔ دوسرے فنکار مستانہ بھی عوام میں بے حد مقبول ہوئے۔ انہوں نے بھی کئی سال تک لوگوں کو ہنسایا۔ اپریل 1955ء میں گوجرانوالہ میں پیدا ہونے والے مستانہ کا اصل نام مرتضیٰ حسن تھا۔ انہوں نے بھی بے شمار سٹیج ڈراموں میں کام کیا۔ ان کے مداحین بھی بے شمار تھے۔ مستانہ بھی بے ساختہ اداکاری کرتے تھے۔ ان کی اداکاری اس وقت قابل دید ہوتی تھی جب وہ مرحوم عابد خان کے ساتھ کام کرتے تھے۔ اگرچہ ان کی پیدائش گوجرانوالہ میں ہوئی تھی لیکن وہ لاہور میں ہی پلے بڑھے۔ لاہور میں ہی انہوں نے تھیٹر میں کام شروع کیا اور بہت جلد مقبول ترین آرٹسٹ بن گئے۔ ان کے مشہور ترین سٹیج ڈراموں میں ’’لاری اڈہ‘‘ اور ’’میں لٹیا گیا‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے مجموعی طور پر دو ہزار سٹیج ڈراموں میں کام کیا۔ ٹی وی کے ایک ڈرامہ سیریز ’’ شب دیگ‘‘ میں انہوں نے ’’انکل کیو‘‘ کا کردار ادا کیا جس سے انہیں بے پناہ شہرت ملی۔ اپنے پورے کیریئر کے دوران انہوں نے خالد عباس ڈار، ببو برال، نسیم وکی، سہیل احمد، طارق ٹیڈی، افتخار ٹھاکر، امانت چن، امان اللہ ، البیلا، عابد خان، شوکی خان، قوی خان، عمر شریف اور معین اختر جیسے فنکاروں کے ساتھ کام کیا۔ مستانہ نے یہ بھی ثابت کیا کہ وہ صرف مزاحیہ اداکاری ہی نہیں بلکہ سنجیدہ اداکاری بھی کمال کی کرتے ہیں۔ اس حوالے سے ’’انکل کیو‘‘ کی مثال دی جا سکتی ہے۔ پھر انہوں نے تھیٹر چھوڑ دیا انہیں ہیپا ٹائٹس سی ہو گیا۔ اسی مرض کی وجہ سے وہ 11 اپریل 2011ء کو عالم جاوداں کو سدھار گئے۔ ان دونوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں  اگر مجھے اس طرح کے کردار ملیں تو فلم میں کام ضرور کرونگی ۔۔۔۔ نیلم منیر نے اپنے دل کی بات بتا دی


دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments