پاکستانی شوبز میں سوگ کا سماں۔۔۔۔نامور اداکار کے انتقال کی خبر آتے ہی ہر کوئی افسردہ ہو گیا

کراچی (ویب ڈیسک) سینئرکامیڈین تنویرخان طویل علالت کے بعد کراچی میں انتقال کرگئے۔ٹی وی، ریڈیو اورتھیٹر پر 35 سال تک قہقہے بکھیرنے والے تنویر خان عرصے سے کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا تھے۔مرحوم کی نماز جنازہ آج بعد نماز عصر رہائش گاہ فرح سینٹر کے قریب واقع مسجد فاروق اعظم

فیڈرل بی ایریا بلاک 7 باغ مصطفیٰ میں ادا کی جائے گی۔تنویر خان کے پسماندگان کے مطابق مرحوم کی تدفین شاہ محمد قبرستان ناتھ کراچی میں ڈسکو موڑ پہ کی جائے گی۔ممتاز کامیڈین کے پسماندگان میں بیوہ، تین بیٹیاں اورایک بیٹا شامل ہیں۔مرحوم کو جنرل ضیاالحق کے دور میں اس وقت بے پناہ شہرت ملی جب انہوں نے ان کی ’نقالی‘ کی۔ اس ’جرم‘ پر انہیں سزا ملی اور پانچ سال کے لیے پابندی بھی سہنی پڑی۔تنویرخان آخری وقت میں مالی اعتبار سے انتہائی تنگدستی کا شکار تھے۔ اپنے عہد کے عظیم فنکار نے زندگی کے آخری ایام ایک خیراتی اسپتال میں زیرعلاج رہ کر گزارے۔ممتاز کامیڈین کاشف خان نے ان کا علاج سرکاری خرچ پر کرانے کی اپیل کی تھی جو حسب روایت صدا بہ صحرا ثابت ہوئی۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق شہنشاہ غزل مہدی حسن کی آج 91ویں سالگرہ منائی جارہی ہے۔مہدی حسن 18 جولائی 1927 کو بھارتی ریاست راجستھان کے علاقے ’لونا‘ میں موسیقی سے شغف رکھنے والے گھرانے میں پیدا ہوئے، یہی وجہ تھی کہ انہیں بچپن سے ہی گلوکاری کا شوق تھا۔انہوں نے اپنے والد استاد عظیم خان سے موسیقی و گلوکاری کے تمام رنگ سیکھے اور پہلی مرتبہ 1956 میں ریڈیو پاکستان میں گلوکاری کے جو ہر دکھائے۔شہنشاہ غزل نے پہلی

مرتبہ فلم ’شکار‘ کا ایک گانا ’نظر ملتے ہی دل کی بات کا چرچا نہ ہوجائے‘ گایا جس سے خوب داد سمیٹی۔بعد ازاں انہوں نے گیتوں کے ساتھ 1964 میں غزلیں گانا شروع کیں اور پہلی بار معروف اردو شاعر فیض احمد فیض کی غزل ’ گلو میں رنگ بھرے‘ میں اپنی سُریلی آواز شامل کی۔یوں تو انہوں نے پاکستانی اور بھارتی فلموں کے لیے متعدد گانے گائے لیکن اصل شہرت غزلوں سے حاصل کی جس کی وجہ سے انہیں آج شہنشاہ غزل کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ان کی مقبول غزلوں میں ’رنجش ہی سہی‘، ’ایک بس تو ہی نہیں‘، ’یوں زندگی کی راہ میں‘، ’کیسے چھپاؤں راز غم‘، ’دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے‘، ’آج تک یاد ہے وہ پیار کا منظر‘ اور دیگر شامل ہیں۔مہدی حسن کو موسیقی کی خدمات پر کئی اعزازات سے نوازا گیا، انہوں نے بھارت کے بھی کئی مقبول گلوکاروں کو موسیقی کے گُر سکھائے۔فن موسیقی میں نمایاں کارکردگی پر حکومت پاکستان کی جانب سے مہدی حسن کو صدارتی تمغہ امتیاز اور ہلال پاکستان کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ شہنشاہ غزل کی 91 ویں سالگرہ کے موقع پر انٹرنیٹ سرچ انجن گوگل بھی مہدی حسن کو ڈوڈل کی صورت میں خراج عقیدت پیش کر رہا ہے۔ مہدی حسن شدید علالت کے باعث 13 جون 2012 کو دنیائے فانی سے کوچ کر گئے تھے لیکن ان کی سُریلی آواز مداحوں کے کانوں میں آج بھی ان کی یادیں تازہ رکھتی ہے۔ (ف،م)

دوستوں سے شئیر کریں